بیلجیم کی آتشزدگی اور شاہ فیصل کی بصیرت و دور اندیشی
*بیلجیم کی آتشزدگی اور شاہ فیصل کی بصیرت و دور اندیشی*
یہ سن 1967 کی بات ہے۔ بیلجیم کے ایک بڑے تجارتی مرکز shopping mall میں آگ لگ گئی۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس کی زد میں آکر تقریبا 300 سے زائد لوگ موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اس وقت سعودی عرب کے شاہ فیصل رحمہ اللہ اس ملک کے سرکاری دورے پر تھے۔ اس درد ناک واقعے کی خبر جب شاہ فیصل کو ہوئی تو انہوں نے بیلجیم کے بادشاہ بودوین Baudouin اور عوام کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے بہت ہی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا نیز مہلوکین و متاثرین کے گھر والوں کے لیے بطور امداد دو ملین ریال دینے کا اعلان کیا۔ جو اس وقت کے حساب سے ایک خطیر رقم تھی۔
شاہ فیصل کی اس انسانیت نوازی اور ہمدردی سے وہاں کے بادشاہ اور عوام دونوں کافی متاثر ہوئے کیونکہ اس مشکل گھڑی میں یورپی ممالک کے سربراہان میں سے کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی ایسے تعاون اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔
اس انسانیت نوازی اور ہمدردی کو قدر و منزلت کی نگاہ دیکھتے ہوئے بلجیم کے بادشاہ نے شاہ فیصل سے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی فرمائش ہو تو اس کا اظہار کریں ہم اس کو پورا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس موقعے پر انہوں نے کوئی ذاتی فرمائش نہیں کی حالانکہ چاہتے تو کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو اپنی ذاتی خواہش پر ترجیح دیتے ہوئے جواب دیا: کسی اور چیز کی ضرورت نہیں بس ہمیں کوئی ایسی جگہ دے دی جائے جہاں مسجد بناکر مسلمان آسانی کے ساتھ نماز ادا کر سکیں۔ چنانچہ آپ کی اس فرمائش کو بخوشی قبول کرتے ہوئے بادشاہ نے دارالحکومت بروسیلس میں ایک وسیع و عریض، خوبصورت اور شاندار بلڈنگ بطور تحفہ دینے کا اعلان صادر فرمایا جسے وہاں کے مسلمان بیک وقت مسجد اور ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال کرنے لگے۔
مگر باضابطہ سرکاری طور پر اس مسجد کا افتتاح 1974 میں عمل میں آیا جب شاہ خالد رحمہ اللہ نے اس ملک کا دورہ کیا۔
شاہ فیصل کی اس گراں قدر انسانیت نوازی اور ہمدردی کا ایک دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس سانحہ کے دوسرے سال یعنی سن 1968 میں مذہب اسلام کو سرکاری طور پر تسلیم کرلیا گیا جو کہ یورپی ممالک کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔
واضح رہے یہ شاہ فیصل رحمہ اللہ کا وہ عظیم الشان تاریخی اقدام تھا کہ اس کے بعد یورپی ممالک میں اسلامی مراکز ومساجد کی تعمیر اور ان کے ذریعے دین اسلام کی نشرواشاعت کا ایک سنہرا سلسلہ شروع ہوا جس کا سہرا اسی شاہ فیصل، شاہ خالد اور ان کے خاندان آل سعود کے سر جاتا ہے۔
کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
أحسِنْ إلـى النّـاسِ تَستَعبِدْ قُلوبَهُمُ
فطالَمـا استعبدَ الإنسـان َ إحسانُ
*کہ لوگوں کا دل جیتنا ہو تو ان کے ساتھ احسان کرو کیونکہ بہت ایسا ہوا ہے کہ احسان نے انسان کا دل جیت لیا ہے۔*
✒محمد شاهد يار محمد سنابلى
Comments
Post a Comment