قیمتی باتیں-مولانا سجاد نعمانی اور مولانا سلمان ندوی سے ملاقات

بسم الله الرحمٰن الرحیم

            *قیمتی باتیں*

از: *سید أحمد اُنیس ندوی*

*گزشتہ کل راقم سطور اپنے والد محترم اور دو چچاؤں کے ہمراہ حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب دامت برکاتہم کی عیادت کے لئے لکھنؤ حاضر ہوا تھا ... جہاں مولانا محترم سے الحمد لله تفصیلی ملاقات ہوئ اور مولانا مد ظلہ کی اہم گفتگو سے مستفید ہونے کا موقعہ ملا .. مزید والد صاحب وغیرہ کے روانہ ہو جانے کے بعد راقم سطور آج صبح دار العلوم ندوة العلماء میں استاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندوی مد ظلہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا اور مولانا محترم سے بھی الحمد لله نہایت اہم باتیں سننے کا موقعہ بفضل الله نصیب ہوا*
..
دونوں حضرات کی گفتگو کا کچھ خلاصہ پیش کر رہا ہوں تاکہ قارئین استفادہ کر سکیں ...

*حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا:*

۱- اخلاص اور حسن تدبیر کے ساتھ اگر ابھی بھی کام کیا جائے تو ہندوستان میں کام کرنے کے مواقع آج بھی دوسری جگہوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں ...

۲- *ہمارا رابطہ غیر مسلم اقوام کے ساتھ بڑھنا چاہئے اور اُن کے سامنے سنجیدہ، مہذب اور علمی گفتگو ہونی چاہئے، اس کے بڑے اچھے نتائج نکلیں گے* ...

۳- *ہمارے فارغین کی ایک بڑی تعداد ابھی خود اسلام کی جامع تعلیمات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پا رہی ہے، اور جو تعداد سمجھ رہی ہے اُن میں سے اکثر ایسی لیاقت نہیں رکھتے کہ دوسروں کو سمجھا سکیں، اس لئے بہت گہرائ سے کسی ماہر کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی جائے خصوصا حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی رحمة الله علیہ نے جس انداز سے اسلام کے جامع اور مکمل نظام کو پیش کیا ہے وہ سمجھا جائے اور پھر ایسی صلاحیت پیدا کی جائے کہ تمام لوگوں تک یہ پیغام پہنچے ... اور بہت تاکید سے فرمایا کہ اُس کے لئے انگریزی زبان پر بہت زبردست قدرت ہونی چاہئے* ...

۴- اجتماعی کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو تمام باطنی امراض سے بچانے کی بہت زیادہ فکر ہو .. ہر کام صرف الله کی رضا اور اپنی آخرت کے لئے ہو ...

۵- سیاسی طور پر بھی اگر کوئ محنت ہو تو اُس میں بھی آخرت مقصود ہو .. دنیا طلبی ہرگز نہ ہو ...

۶- *اپنے بعض تجربات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء اور عام مسلمان بھی بہت بڑا کام انجام دے سکتے ہیں ... بس ضرورت ہے کہ ایسے عملے سے کام لینے والے افراد سامنے آئیں ...  اور سب مل جل کر اپنے اعتبار سے قربانیاں دیں* ....

۷- ملک میں بہت سے لوگ غلط فہمی کی بیناد پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ملک کا ہمدرد نہیں ہے ... اس لئے ہم کو اپنے قول و عمل سے اس ملک کی ترقی اور بھلائ کے لئے پورے خلوص اور ہمدردی کے ساتھ خوب کام کرنا چاہئے تاکہ یہ غلط فہمی دور ہو ...

۸- حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم کی آمد مسعود کا ذکر نکلا تو بہت ہی خوشی کا اظہار کیا ....

*اپنی بیماری اور تکلیف کے باوجود مولانا پورے وقت ملت اسلامیہ کو درپیش خطرات اور اُن کے حل سے متعلق ہی گفتگو فرماتے رہے اور مختلف جہات سے کس طرح کام ہو سکتا ہے اُس کی رہنمائ فرماتے رہے ...  الله تعالی مولانا محترم کو مکمل صحت نصیب فرمائے اور عمر میں برکت عطا فرمائے*... آمین
*_________________________*

*حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا:*

۱- *جب راقم سطور مولانا محترم کی خدمت میں حاضر ہوا تو مولانا ہمارے بعض اساتذہ سے اپنی حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب سے ہوئ اہم ملاقات کا ذکر فرما رہے تھے ... مولانا کو میں نے بتایا کہ میں بھی کل عیادت کے لئے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو سب سے پہلے مجھ سے مولانا کی خیریت دریافت کی اور زبان سے دعائے صحت کے کلمات ادا کئے* ... پھر فرمایا  :

کہ *الحمد لله ہماری ملاقات بہت اچھی رہی ... تفصیل کے ساتھ ساری باتیں ہوئیں .. ہم کو جیسے ہی اطلاع ملی کہ مولانا بیمار ہیں ہم فورا اُن کی عیادت کے لئے چل دئیے .. لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے درمیان کوئ ذاتی عداوت ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے... . ہمارے بہت پرانے روابط ہیں .. اور جو باتیں میرے ذہن میں تھیں میں نے وہ ساری باتیں اُن سے کہیں اُنہوں نے مجھ سے کہیں .... غرض یہ کہ پورے ملک میں اس ملاقات کے بہت اچھے اثرات رہے ... اور ہم کو امید ہے کہ ان شاء الله جلد صحتیاب ہونے کے بعد مولانا پوری قوت کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور ہم مل کر ان شاء الله دعوتِ اسلام کے کام کو انجام دینے کے لئے کوئ لائحہ عمل طے کریں گے* ...

۲-  تمام مسائل کا حل گفتگو ہے، ہم کو آگے بڑھ کر دوسری اقوام سے بات کرنی چاہئے، لوگوں کو سمجھانا چاہئے .. شور شرابے اور ہنگامے سے دوسری قوم میں اشتعال پیدا ہوتا ہے،

۳- دعوت إلی الله کے عمل سے خداوند قدوس کا تقرب نصیب ہوتا ہے، اور قدم قدم پر نصرت الہی دیکھنے کو ملتی ہے ..

۴-  سعودیہ کے تعلق سے میرا جو موقف تھا اور جو باتیں میں کہہ رہا تھا اب الحمد لله پورے ملک کے اکثر علماء وہ بات کہہ رہے ہیں .. بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس موضوع پر مولانا خالد سیف الله رحمانی صاحب کا بہت سخت مضمون آیا ہے ... اب ساری حقیقت لوگوں کے سامنے آتی جا رہی ہے بھلے ہی زبان سے نہ کہیں ...

۵- جزیرة العرب کی زمین کو اسرائیل کے ہاتھوں بالکل بیچا جا رہا ہے ... اور پورے جزیرة العرب میں ایسا نظام بنانے کی تیاری ہے جس میں حج و عمرے کی تو اجازت ہوگی لیکن تہذیب و تمدن سب صلیبی و صہیونی ہوگا ....

۶- مختلف مصالح کے نتیجے میں لوگ سعودیہ کے تعلق سے صاف صاف بات کرنے سے کتراتے ہیں ...

۷- *شیخ سفر الحوالی حفظه الله جن کو سعودی حکومت نے اُن کی کتاب " المسلمون و الحضارة الغربیة" لکھنے کی وجہ سے قید کر دیا ہے اُن کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک جلیل القدر عالم اور داعی ہیں اور سعودیہ و عراق کی جنگ کے دوران بھی انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کی تھی ... اُن کی مذکورہ کتاب اس دور میں لکھی گئ کتابوں میں بہت ہی اہم اور شاندار کتاب ہے ... ہر عالم کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے* ... 

۸- *دجال کے قیام اور اس کے استقرار کی ساری تیاریاں مکمل ہیں ... اور پوری دنیا میں دجالی نظام عام کیا جا رہا ہے .. اور فرمایا کہ احادیث فتن پر خوب غور کرنا چاہئے اُس میں بہت سی باتیں اشاروں اور رموز میں بیان کی جاتی ہیں*...

۹- مولانا ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب اور اُن کے معروف پروگرام *"سرجکل اسٹرائک"* کا تذکرہ نکلا تو مولانا نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور مولانا یاسر ندیم صاحب کی محنتوں پر تعریفی اور دعائیہ کلمات کہے ...

*لکھنؤ سے واپس فیروزآباد آتے ہوئے ٹرین میں یہ سطور بے ترتیبی کے ساتھ لکھ دی گئ ہیں* ... *اللہ تعالی نفع کو عام فرمائے اور شر کے تمام پہلؤوں سے محفوظ فرمائے .. آمین*

*سید أحمد اُنیس ندوی*

*۱/ ذی قعدہ ... ۱۴۳۹ .... بروز اتوار*....

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن