بوجھ جتنا کم ہو؛لطف اتنا ہی زیادہ!
*صدائے دل ندائے وقت*
*بوجھ جتنا کم ہو؛لطف اتنا ہی زیادہ!*
*انسان من دم تا ایں دم معصومیت سے ہمکنار نہیں ہوسکتا،اور ناہی یہ اس کی شان ہے،زندگی کو یکسر معصوم بنا دینا کوئی کمال بھی نہیں ہے؛ بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس کا دامن غلاظتوں سے شرابور بھی ہو؛لیکن وقت بوقت اسے نچوڑتا جائے،اگر کوئی شخص معصیت سے بے پرواہ اور بے گناہ ہونے کا دعوی کرتا ہے، تو دن کی سفیدی اور رات کی تاریکی کی حقیقت سے بھی زیادہ فحش اور لغو بات کا مرتکب ہے،اس کا یہ دعوی اسی کے منہ پر مادر دینا چاہئے،اگر کوئی مدعی کی حیثیت و وجاہت کی بنا پر یہ نہ بھی کر سکے؛ تو قیامت کے روز اس کے ساتھ یہ ہوکر رہے گا، البتہ یہ کہ وہ نبی علیھم الصلاة والسلام کی ذات اقدس ہو، جنہیں خدائی سپر اپنے سایہ میں لئے رہتا ہے،اس کی رحمتوں کا نزول ہمہ وقت انہیں ردائے عاطفت میں ڈھانپ کر تمام دنیاوی معصیت، نافرمانی اور ناشکری سے دور کئے رہتا ہے، صرف انہیں مبارک روحوں کو حق ہے؛ کہ وہ بے گناہ ہونے اور فرشتوں سے بھی اعلی مقام پر فائز ہونے کا دعوٰی کریں۔*
گناہوں اور لغزشوں کا ہونا عین حقیقی اور واجب ہے؛لیکن قابل نظر بات یہ ہے، کہ زندگی کو یکسر گناہوں کا پلندہ بنا دینا، اور اپنے آپ کو نافرمانیوں کے بوجھ تلے دبا دینا، یا محض خدائے عزوجل کی ناسپاسی کے دلدل میں اپنے آپ کو سر تا پیر غرق کر دینا بھی مناسب نہیں،یہ زندگی کو بوجھل اور ثقل بنا دیتی ہے،سر کا وزن اپنے معمول سے ہٹ کر جسم کے ہم۔میزان ہوجاتا ہے؛ جبکہ جسم کسی چٹان اور پہاڑ کا مجسم اور سنگ ریزوں، خارداروں کا مرکب ہوجاتا ہے،راتوں کی نیند وراحت اور چین وسکون کسی وادی گم شدہ کا میزبان ہوکر رخصت ہوجاتی ہے،دن کا ہر لحظہ صدی کے مثل؛ ہوکر دن بہ خود کئے دیتا ہے،ضمیر کچوکے لگاتا ہے،سینہ پر میزائل حملہ آوروں کے حملہ کا احساس ہوتا ہے،دل ٹکڑے ٹکڑےہو کر رگوں میں خون کی طرح رواں دوان ہوجاتا ہے،اور ایسا لگتا ہے؛ کہ ہر نبض ابال ماردے،اور اس زور سے حرکت کرے کہ روح پرواز ہوجائے۔
*اصل تو یہ ہے کہ زندگی میں گناہوں کا بوجھ جتنا کم ہو؛اسی قدر زندگی کا احساس بھی ہوتا ہے،اور بہت حد تک آپ بلا تکلف صبح وشام کر سکتے ہیں،آپ کی ہر سحر؛ سحر انگیز ہوگی، اور ہر شام رنگین،یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی منکر نہیں،شاید ہی کوئی صاحب ضمیر ہو جو سامانون کے انبار کے ساتھ چلنے والے اور کم سے کم یا کہئے! کہ بقدر ضرورت سر وسامان کے ساتھ سفر کرنے والوں میں فرق نہ کرے،ہر وہ شخص جس نے سفر کیا ہے، کوئی منزل طے کی ہے،کوئی مسافت پلٹی ہو تو وہ بخوبی واقف ہوگا؛ کہ سامان کا بوجھ جتنا کم ہو سفر کا لطف اتنا ہی زیادہ آتا ہے،لوگوں کے ہجوم اور انسانوں کے ریلے کو چیرتا ہوا بحسن و خوبی منزل مقصود تک پہونچتا ہے، اسے کوئی بھیڑ روک نہیں سکتی، اس کی نظریں منزل۔کی انتہا کے علاوہ کہیں اور کا قصد کرے؟ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا،وہ سبھوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے فتح و کامرانی کی لذت سے آشنا ہو کر رہے گا۔یاد رکھئے! یہی حال یوم حشر کو اس شخص کا بھی ہوگا جو کم سے کم بوجھ اور گناہ و معصیت سے پرے ہوکر توبہ و استغفار کے زاد راہ کے ساتھ اور اطاعت وفرمانبرداری کے تمغہ کے ہمراہ بہشت کی وادیوں کا خوشنما پرندہ ہوگا۔*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment