زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺

    *زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا*

     زندگی کی سانسوں پر کس کا قبضہ ہے،موت وحیات کس کے بس میں ہیں؟ اس کا جواب ہر ایک جانتا ہے،اس درمیان ہمیں اس زندگی کو خواہی نہ خواہی جئے جانے اور اطاعت بجا لانے کا حکم ہے،آپ عسرت میں ہوں یا عیش میں،مصائب وآلام نے آپ کا گھر کا پتہ پالیا ہو اور دائمی مہمان نوازی کا مطالبہ کر لیا ہو،یا خوش باش و خوش خوراک زندگی اور سیر قسمت نے تاروں کی سیر کروادی ہو،اگر آپ زندگی کے کڑوے کسیلے پھل برداشت نہ کرسکتے ہوں؛ تو ایسا نہیں کہ زندگی پر آپ کا ارادہ مسلط ہوجائے،اور من پسند زندگی جی کر؛ یا کہئے! کہ مر کر صدیوں کی آگ ٹھنڈی کردین، اگر ایسا ہوا تو یقینا وہ زندگی بد سے بدتر ہوجائے گی،اور وہ اس شعر کے مثل ہوجائے گا:
مصائب سے گھبرا کر وہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
    شریعت میں دنیا کو مومنین کیلئے سجن کہا گیا ہے،ایک ایسا قید خانہ جس کے اندر نہ تو اسے آنے کی اجازت تھی، اور ناہی اس سے چھٹکارے کی،بلکہ اسے ایک مقید مدت حیات گزرانا ہی ہے،دوا کے اس کڑوے گھونٹ کو پینا ہے، البتہ کوئی اس قیدی پر بغاوت کر بیٹھے، یا فرعونیت کا اعلان کرتے ہوئے رب اعلی کا دعویدار ہوجائے، اور اپنی زندگی میں رمق باقی رکھنے، یا پر بہار زندگی جینے کیلئے وہ اب وہ کرنے لگے جو اسے کرنے کی اجازت نہ ہو؛ ایسے میں بلا شبہ مدت خاص کے اختتام پر اسے ایسے قید خانہ کے دہانے پر کھڑا کیا جائے گا؛ ہوسکتا ہے  کہ اس سے نکلنا ناممکن ہو،اور اگر کسی طرح نجات مل بھی جائے تو اسے ماسبق کی تلافی میں وہ خسارہ اٹھانا پڑے گا؛ کہ وہ اس کیلئے ناقابل برداشت ہو،اسی لئے شاعر کی اس بات پر کان دھرنا لازمی یے، اور اسے اپنے دامن سےگانٹھ باندھ لینا چاہئے:
 خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا
ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا
اک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
حُسن ہے ذات مری، عشق صفَت ہے میری
ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں
آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
مختصر قصّہٴ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں
رازِ کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا
زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے
ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا
تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ
آؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا
اب اسے دار پہ لے جا کے سُلا دے ساقی
یوں بہکنا نہیں اچھّا ترے مستانے کا
دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں
سلسلہ شیشے سے ملنا تو ہے پیمانے کا
ہڈّیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں
لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا
وحدتِ حُسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق
دل کے ہر ذرّے میں عالم ہے پری خانے کا
چشمِ ساقی اثرِ مے سے نہیں ہے گل رنگ
دل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا
لوح دل کو، غمِ الفت کو قلم کہتے ہیں
کُن ہے اندازِ رقم حُسن کے افسانے کا
ہر نفَس عمرِ گزشتہ کی ہے میّت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
فانی بدایونی

       ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن