اور اب پرسنل لا بورڈ نشانے پر!

اور اب پرسنل لا بورڈ نشانے پر!

اکابر علماء ہند اور ملت کی قدآور تنظیموں میں پھوٹ ڈلوانے کے بعد ذلیل ذلّت ٹائمز ملت کے اکیلے متحدہ پلیٹ فارم پر شب خون مارچکا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف ایک ایسی خبر منسوب کردی ہے جو پورے بورڈ کے لیے ہی نہیں اہل اسلام کے لیے بھی شدید توہین آمیز ہے، خبر کا ناشر خود کو قاسمیت سے منسوب کرکے متعصبانہ کھیل کھیل رہا ہے، جبکہ درحقیقت اسے قاسمی علوم و معارف کی ہوا تک نہیں لگی ہے، علماء کرام کو آپس میں لڑوانا، ملی تنظیموں کو ہمیشہ تنقیدی نہیں تنقیصی ناحیے سے اچھالتے رہنا، ہمیشہ یکے بعد دیگرے مسلم مذہبی شخصیات کو سوشل میڈیا پر ایسے موضوع بنانا کہ، ان کا احترام پامال ہوجائے اور ان کے کردار پر کیچڑ آئے، آج تک یہی کل تاریخی کردار ذلت ٹائمز کا رہاہے ۔
ہمارا یہ ادراک ہیکہ ملی تنظیموں اور اکابر شخصیات کو سوشل میڈیا کے بازار میں بدترین انداز میں اچھالنا اس کا مشن رہاہے، علما کو آپس میں دست و گریباں کرنا اس کا مقصد رہاہے، اور گذشتہ چند سالوں میں اسے یہ مقصد خوب حاصل بھی ہوا ہے
مولانا محمود مدنی، مولانا ولی رحمانی، مولانا سلمان حسینی ندوی، مولانا سجاد نعمانی، اور اب مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی کو ٹارگٹ کیا ہے ۔
پہلے امارت شرعیہ، پھر جمعیۃ، پھر جماعت اسلامی ااور اب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے حوالے سے انتشار اور فتنہ انگیزی کررہاہے، جبکہ: اس بابت یاسر بھائی بھی وضاحت کرچکے ہیں کہ:
" مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ حلالہ اسلام کا حصہ ہے۔ کچھ سنگھی چینلوں اور کچھ سنگھ زدہ اردو اخباروں اور نیوز پورٹلز نے مسلمانوں کے اس عظیم پلیٹ فارم کو بدنام کرنے کے لیے اس طرح کی خبر چلائی ہے۔ ہمیں بورڈ کی کچھ پالیسیوں یا اس سے منسلک کچھ افراد سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن بورڈ آج بھی امت کی اجتماعیت کا بہترین مظہر ہے۔ بورڈ کو بدنام کرکے آپ سنگھیوں کی مدد تو کرسکتے ہیں لیکن قوم کی اصلاح نہیں"۔
اس کے علاوہ بورڈ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی اس کا انکار کیا جاچکا ہے، نیز، خود بورڈ کی مؤقر رکن محترمہ اسما زہرا صاحبہ بھی اس خبر کی نفی کرچکی ہیں اور ملت ٹائمز کو اس کی ہیڈنگ پر ٹوک چکی ہيں، لیکن اس کے باوجود یہ شریر اور فتین طبیعت اس انتشار کو صحیح قرار دے رہا ہے اور بورڈ پر تھوپ رہاہے! حد ہے، ایسے ننگ ملت کو بھلا کیوں برداشت کیا جائے، جس کے متعلق قرائن واقعی ہوچکےہیں؟
آجائیں تاویلی اور عصبیت زدہ افراد جو شریک جرم رہتےہیں، اب آئیے ننگ ملت پر اپنی تاویلات کی چادر چڑھائیے، آپ کو بھی تو بہت کچھ عناد کسی نا کسی حوالے سے انڈیلتے رہنا ہے، گرچہ آپ عصریات کے حوالے سے معارف کے مرکز کیوں نا ہوچکے ہوں لیکن فتنوں کی تاویلات شاید اب ان حسین معارف کا پیوند کار حصہ بن چکی ہیں، یا پھر مختلف تعصبات! پتہ نہیں یہ علوم و معارف کے ٹھیکیدار اپنے اسرار ہم سے کیوں چاہتےہیں؟
خیر: ہم شروع دن سے کہہ رہے ہیں ملت میں موجود منجملہ ناسوروں میں سے یہ بدترین ناسور ہے اس زخم کو زیادہ دن تک جھیلنا نہایت مضرت رساں ہوگا، اور یہ کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم خصوصا طبقۂ علما کے لیے رسوائی کا سبب ہے، اسلیے ہم اس ذلت ٹائمز اور اس کے شاطر و ہمدردی بٹورنے میں ماہر فتین طبیعت، سرغنہ کے متعلق سخت موقف رکھتےہیں، اور ہمیشہ رکھیں گے ۔
کیونکہ ننگ ملت ذلت ٹائمز، اور اس کے فتین سرغنہ کی سرگرمیاں ملت دشمنی پر مبنی ہیں، اور ملت کا دشمن ہمارا دشمن ہے ۔

#سمیع_اللّٰہ_خان

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن