دارالقضاء کورٹ کے متوازی عدالت نہیں ہے
*دارالقضاء کورٹ کے متوازی عدالت نہیں ہے؛ بلکہ کورٹ کا معاون، مصالحتی ادارہ ہے-*
(مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری وترجمان آل انڈیامسلم پرسنل بورڈ کا پریس نوٹ)
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ دارالقضاء کا نظام ہندوستان میں آزادی کے پہلے سے مختلف علاقوں میں چل رہا ہے، جن کے ذریعہ ہر سال ہزاروں معاملات آپس میں طے کرائے جاتے ہیں، یہ کوئی متوازی کورٹ نہیں ہے، اور نہ دارالقضاء زور زبردستی سے اپنی بات فریقین پر نافذ کرتا ہے، یہ ثالثی اور مصالحت کے ذریعہ خاندانی زندگی سے متعلق پیدا ہونے والے جھگڑوں کو حل کرنے کا ایک ادارہ ہے، جس میں اخلاقی طور پر فریقین کو صلح پر آمادہ کیا جاتا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس نظام کو اُن علاقوں تک توسیع دینا چاہتا ہے، جہاں ابھی دارالقضاء قائم نہیں ہوئے ہیں، دارالقضاء کے نظام سے خاص کر خواتین کو بڑی سہولت ہوتی ہے، بغیر کسی خرچ کے نہایت کم وقت میں کونسلنگ کے ذریعہ اُن کے معاملات طے کئے جاتے ہیں، اور اُن کو اُن کے حقوق دلائے جاتے ہیں، دارالقضاء اس بات کی بھی کوشش کرتا ہے کہ طلاق کے واقعات کم ہوں، جب شوہر وبیوی کے درمیان اختلاف بڑھتا ہے اور اندیشہ ہوتا ہے کہ شوہر طلاق دے دے گا تو دارالقضاء عورت کی تحریک پر اس کے شوہر کو سمجھاتا ہے، اور مفاہمت کا راستہ نکالتا ہے، دارالقضاء در حقیت کورٹ کا معاون ہے، اور عدالتوں پر مقدمات کا جو غیر معمولی بوجھ ہے، وہ اس کو ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسی پس منظر میں وِشو لوچن بنام حکومت ہند مقدمہ میں سپریم کورٹ نے ۷؍جولائی ۲۰۱۴ء کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دارالقضاء کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو خارج کر دیا اور دارالقضاء کے نظام کو قانون کے مطابق قرار دیا، یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بورڈ کے معزز سکریٹری جناب ظفریاب جیلانی نے ذرائع ابلاغ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں’’ شریعہ کورٹ یا شریعہ عدالت‘‘ کا نام نہیں لیا؛ حالانکہ خود سپریم کورٹ نے اپنے متذکرہ فیصلہ میں دارالقضاء کو شریعہ کورٹ سے تعبیر کیا ہے؛ لیکن پھر بھی جیلانی صاحب نے دارالقضاء کا لفظ استعمال کیا؛ تاکہ کسی کو غلط فہمی پیدا نہیں ہو؛ مگر افسوس کہ ذرائع ابلاغ کے بعض حلقے اتنے مفید اور اہم کام کی تحسین کرنے کے بجائے وہ اس کو بدنام کر رہے ہیں۔
مولانا رحمانی نے تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے فرقہ پرستانہ ذہن رکھنے والوں کی بیان بازی سے متأثر نہیں ہوں، اور مسلمانوں سے گزارش کی ہے کہ وہ دارالقضاء کے نظام کو اپنے اپنے علاقوں میں وسعت دیں اور اپنے مسائل کو اس ادارہ کے ذریعہ حل کرائیں۔
مولانا رحمانی نے تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے فرقہ پرستانہ ذہن رکھنے والوں کی بیان بازی سے متأثر نہیں ہوں، اور مسلمانوں سے گزارش کی ہے کہ وہ دارالقضاء کے نظام کو اپنے اپنے علاقوں میں وسعت دیں اور اپنے مسائل کو اس ادارہ کے ذریعہ حل کرائیں۔
Comments
Post a Comment