ایک حسین ایمانی ملاقات

*ایک حسین ایمانی ملاقات*
ممبئی ۔ ماہم

ہم اور ہمارے کچھ ساتھی عرصے سے کاروان امن و انصاف ۔ Companions Of Peace & Justice سے مربوط ہیں بڑی تمنا تھی کہ احباب اور مرکزی ذمہ داران سے ملاقات ہو اور زمینی کام کو ہم سمجھیں ۔
بہرحال مولانا سمیع الله خان نے
14 جولائی کا وقت دیا،ممبئی اور اطراف سے  کارواں گروپ کے  ممبران اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اس اہم  تحریکی فکری اور نظریاتی نشست کے لیے ماہم ممبئ میں مولانا کی قیام گاہ ھوٹل سعودیہ میں جمع ہوے ۔جو ممبرز  سوشل میڈیا کے ذریعے جوڑے تھے وہ آج ملنے کے لیے بیتاب تھے ۔ممبئی کے مختلف علاقوں بھیونڈی، کُرلا، تلوجا، جوگیش وری، اندھیری وغیرہ دوردراز سے اور کچھ اپنے مشغولیت کو آگے پیچھے کر کے اپنی اپنی کمپنیوں اور جاب آفس سے ڈائریکٹ اپنے مرکزی احباب سے ملنے لپک پڑے ۔ اورقربانی و مجاہدے کے ساتھ پروگرام کے آخر تک ساتھ رہے۔۔۔۔۔
ٹرافک و برسات کی تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے کچھ ساتھی نمازِ عصر کچھ مغرب تک سبھی ساتھی ایک مسجد میں جمع ہوئیں۔ مسجد کے تمام متولیان کی تاکتی ہوئی نظریں ہمارے اوپر جمی رہی مولانا نسیم صاحب اور شفیع اللہ صاحب نے سب کا انٹرو ڈکشن لیا۔۔۔۔۔۔
ہمارے جنرل سیکریٹری موجود نہیں تھے وہ اس وقت ممبئی کے دوسرے سرے پر میٹنگ میں مصروف تھے چنانچہ ان کی واپسي تک مولانا نسیم خان صاحب اور شفیع الله صاحب نے ہمارے وقت کو بہتر طور پر استعمال کیا ۔
مغرب کی نماز بعد ہم نے ماہم میں ایک قریبی ریستوران کا رخ کیا ۔۔۔ غالبا شھناز نامی ۔ہوٹل پہونچے تووہاں ایک گجراتی چچا نے ہم کارواں کے  نوجوانوں کو دیکھ کر اپنی عجیب کیفیت بنائی تھی اور شاید ہو سکتا ہو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی ہم پر نظر رکھنے کے لیے کہا گیا ہو۔۔۔وہ  بار بار ہمیں گھور گھور کر دیکھتے رہے ۔۔۔ اسی دوران سمیع اللّٰہ بھائی آگئے اور اُن کی گھورتی آنکھوں سے بغیر متاثر ہوئیں مولانا سمیع اللہ صاحب نے اپنے مذاکرے کو جاری رکھا۔کھانے سے فارغ ہو کر ہم ہوٹل کے باہر گاڑی کے انتظار کر رہے تھے ۔ ہوٹل کے کچھ لوگ اوپر سے ہمیں دیکھ رہے تھے نہ جانے کیوں۔۔۔۔۔۔ کے چچا نے فیلڈنگ جو لگائی تھی انہوں نے کارواں کے ساتھیوں کو آخر تک گھورنا جاری ہی رکھا۔۔۔۔۔
۔
پھر ہم نے مشورے سے باندرہ کے قریب ایک جگہ کا انتخاب کیا ۔بارش کے رم جھم کو برداشت کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اللہ کے فضل سے اپنے پروگرام کو جاری رکھا۔۔۔۔
مولانا سمیع اللہ صاحب نے ساتھیوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے دلکش پر لطف  انداز میں ساتھیوں کو انٹر ٹینمنٹ کرتے ہوئے فکر مند کرایا  دین اور دنیا میں ترقی و کامیابی کیسے حاصل ہو بغیر تفریق انسانیت کی فلاح بہبودی رفاحی کاموں کیسے ایک دوسروں کاساتھ دیں۔
اور کارواں  کے مقاصد اہداف کا مختصر تذکرہ کے دوران بات بہت سی باتیں سامنے آئیں جن میں اہم بات یہ تھی کہ *ہم دین اسلام کو تمام تر شعبہ جات میں زندہ کرنے کی انتھک کوششیں کریں ڈاکٹر یہ سمجھے کہ علاج کرنا سنت اور عبادت ہے،اسی طرح انجینئراپنے کام کو عبادت سمجھےحتی کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑے کام کے سلسلے میں ہم مایوس نہ ہوں بلکہ ہر کام میں نبی کی سنت کو زندہ رکھتے ہوے اسے عبادت بنائیں،*
*اسلام کی دعوت اور تعارف کے مواقع تلاش کریں.  اصل ہر ہر شعبے میں آپکی اصولی آور پاکیزہ نمائندگی آپکے مذہب کی بہترین دعوت اور ترجمانی ہے. اس کے علاوہ بھی دعوت دین اور اسلام کے پیغام کو آپ اپنے اپنے دفتروں اور کمپنیوں کے پڑھے لکھے افراد تک پہنچائیں ۔ نیز کسی بھی صورت میں ظلم ۔ زیادتی یا معمولی قسم کا ایسا کوئی بھی برتاؤ ہرگز برداشت نا کریں جو آپ کے ساتھ صرف آپکی قومیت کی بنا پر برتا جائے ۔ اس کے علاوہ ایوانی اور میدانی لڑائی کا فرق سمجھیں ۔*
*سب سے اہم بات یہ کہ ممبر شپ فارم پر لوگوں کو ابھارا گیا اور اس کی اہمیت کو پرزور انداز میں بیان کیا گیا*
*اور یہ بتایا گیا کہ تحریک کی عمارت جن بنیادوں پر کھڑی ہوگی ان کا نام تربیت یافتہ ممبر ہیں*
*اس لیے ہمیں ممبر سازی کے کام کو سارے کاموں سے بڑھ کر سمجھنا ہے اور اس کے لیے اپنے دن رات ایک کرنے ہیں*،

اور اس طرح کی نظریاتی اور فکری میٹنگوں کا انعقاد ہمیں گلی، نکڑ، چوراہوں، بند کمروں میں ہر جگہ کرنا ہے-
اور ساتھ ساتھ ترکی میں طیّب ارد گان کی کامیابی کی اصل  وجہ کیا ہے۔۔۔اس پر روشنی ڈالی گئی۔
مولانا نے بتایاکہ ممبر سازی کے فارم آچکے ہیں اور ویب سائٹ بھی تقریباﹰ تیار ھوچکی ہے اور عنقریب ہمیں دی جائیں گی ۔ جس پر ساتھیوں نے ممبر شپ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔
پھر آخر میں کارواں ۔ CPJ. کے ایگزیکٹیو ممبر جناب شفیع اللہ صاحب نے میڈیا کے ذریعے ہونے والے غلط پروپیگنڈے کو کس طرح روکا جائے۔۔۔۔اور حال ہی میں ہوئے گریٹ ویلڈز کی مخالفت میں
ناموسِ رسالت ﷺ پر ٹویٹر ٹرینڈ کے  کامیابی کا تذکرہ کیا۔

ہم تمام ساتھی اس ملاقات سے بے حد متاثر ہوئے۔ بھت زیادہ خوش ھوئے ھمارے نوجوان ساتھی اس بات سے کہ علما کی نگرانی میں ایسی نظریاتی زمینی تحریک ھمارے ملک میں بھی جاری ہیں ۔ اور الله کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ کارواں کے ساتھ ملکر زمینی کاموں کے لیے ھم نے پختہ عزم کیا ہے ۔ ہمیں اور ہمارے نوجوانوں کو ایسی تفریحی مگر بامقصد ملاقاتیں بار بار نصیب ہوں ۔

*سید محمد الیاس*
Pharmacist: Mumbai
Member CPJ..India

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح