اپنی شخصیت کو ہمیں خود سنوارنا چاہیے!

*بِسْـــــــــــــمِ الْلــــّٰــهِ الـْـرَّحْـمـٰــــــنِ الـْـرَّحِیـــــــمْ*

*اپنی شخصیت کو ہمیں خود سنوارنا چاہیے!*

اپنی عادت اور شخصیت کے حقیقی حق دار آپ خود ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ شخصیت کی نسبت کے ساتھ تعلیم کا اہم کردار ہے۔ استاذ کی توجہ سے بہت بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ ہوشیار ہم درسوں کی رہنمائی بھی بہت اہم ہوتی ہے؛ لیکن ان سب کے ہونے کے باوجود، آپ ہی کو اپنے آپ کو سنوارنا ہے۔ چاہے استاذ حاضر ہے یا نہیں، استاذ کی توجہ ہم پر ہے یا نہیں، چاہے ہم درس اچھے ہیں یا نہیں!

یہ جذبہ، علم حاصل کرنے والے اور علم کی جستجو میں اپنے گهر بار کو چھوڑ کر خود کو گھر والوں سے میلوں دور مدرسوں میں رکھ کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں موجود ہے تو وہ آگے چل کر عظیم شخص بن سکتے ہیں۔ یہ بات ہمارے مدرسے کے ہر طالب علم کو اور تمام مدارس کے تمام طلبہ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اسے اپنے مستقبل کا خواب خود کو دیکھنا ہوگا۔ اور اپنے ارادوں میں رنگ خود کو بھرنا ہوگا۔

بڑے کارناموں کی ابتدا بڑے خوابوں سے ہوا کرتی ہے۔ آپ آگے چل کر کتنے عظیم بنتے ہیں، اس کا دار و مدار اس پر ہے کہ آپ کے خواب کتنے عظیم ہیں۔ آپ کی تمنّائیں کتنی بلند ہیں! کسی بزرگ نے اپنے عزیزوں سے کہا کہ آپ اللہ اور نبی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہیں۔ آپ ایک گاؤں نہیں، ایک شہر نہیں، ایک ملک نہیں؛ بل کہ پورے عالَم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ آپ کسی تاریخی شخصیت کی سیرت و شخصیت کا مطالعہ کریں گے اور اس کی زندگی کی تہ میں جانے کی کوشش کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اُن کی شخصیت کے ساتھ تعلیم کا اہم کردار رہا ہے؛ اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ ہر وقت اور ہر  لمحے کو قیمتی بنائیں اور اپنے آپ کو کتابوں سے عشق کرنے والا بنائیں، قرآن میں بھی اللّٰه تعالٰی نے پڑھنے ہی کا حکم دیا ہے *"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا"*(سورہ علق آیت۔1)اور اگر یہ جذبہ طالب علم میں نہیں پایا جاتا تو اس کی مثال اس سوکھی ہوئی مٹی کی طرح ہے، جس کے اندر تخم ضائع ہوتا ہے۔

ہر سال ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ایک بڑی جماعت مدارسِ دینیہ سے فارغ ہوکر نکلتی ہے اور کچھ عرصے بعد پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ ساری جماعت کہاں غائب ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ بڑی تعداد یوں ہی نکلتی رہےگی؛ اگر ہم نے اپنی شخصیت کو نہیں پہچانا اور اپنے آپ کو نہیں سنوارا تو ایک دن آئےگا کہ ہم بھی یہاں سے فارغ ہو کر نکل لیں گے اور  کچھ عرصے کے بعد ہم بھی غائب ہو جائیں گے!

تمام طلباء سے گذارش ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو بنانے کے لئے ابھی سے فکر کرنی ہوگی۔ ابھی ہمارے پاس وقت ہے خود کو بنانے اور سنوارنے کا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی شخصیت کی قدر کرنے کی توفیق دے! آمین

✍🏻 *شکیل احمد سیکو*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح