سچی طلب

                 سچی طلب
    حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ؓ کے
پوتے (حکیم الاسلام ) حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ
بالکل جوانی میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم بنا دیئے گئے تھے ،نوجوان تھے ،انتہائی خوبصورت تھے ،حسین و جمیل تھے ،عجیب اللہ تعالی نے ان کو جمال ودلکشی عطا فرمائی تھی ،شاندار لباس پہنتے تھے ،بہت اعلیٰ نفیس قسم کی شیروانی پہنتے تھے ،اسی جوانی کی کیفیت میں بہترین لباس میں ملبوس اتنے عظیم خاندان کے فرزند حضرت تھانویؒ
کے پاس آتے ہیں ،حضرت تھانویؒ
نے بہت اعزاز واکرام کیا ،چونکہ محسن امت کے گھر کے فرزند ہیں ،حضرت نانوتوی  کے پوتے ہیں ، حضرت کے یہاں ایک بکس رکھا رہتا تھا ،جس میں آنے والا اپنا حال ڈالتا تھا ،تو انہوں نے پرچہ پر لکھا کہ حضرت میں اپنی اصلاح کی غرض سے حاضر
ہوا ہوں ،اللہ کے واسطے میری اصلاح فرما دیجئے ،جب حضرت
نے یہ پرچہ پڑھا تو تھوڑی دیر پہلے صاحبزادے کی حیثیت سے اکرام فرما رہے تھے ،اس کے بعد حضرت نے تنہائی میں بلوایا اور کہا کہ بہت اچھا میرے اوپر فرض ہے کہ میں آپ کی یہ خدمت کروں ،امید کہ آپ میرے مشورے پر عمل کریں گے ،اس نوجوان قاری طیب صاحب نے کہا حضرت پوری کوشش کروں گا کہ آپ کی ہر ہدایت پر عمل کروں ،،، فرمایا خانقاہ کی جو مسجد ہے اس مسجد کے باہر اذان کے وقت سے آپ بیٹھ جایا کریں  اور جو بھی نماز پڑھنے کیلئے لوگ آئیں  اپنے رومال سے ان کے جوتے چپلوں کو صاف کرکے سیدھی کردیا کریں ،سنتیں پہلے پڑھ لیا کریں اور جب نماز کھڑی ہوجایا کریں تو آکر نماز میں شامل ہوجایا کریں ،سلام پھیر نے کے بعد ،دعا کے بعد فوراً دوسرے نمازیوں سے پہلے پھر باہر نکل جایا کریں
باہر نکل کر جو نمازی بعد میں آئے ہوں ان کے جوتے چپل صاف کرکے رکھ دیا کریں اس کے بعد مسجد میں آکر سنتیں نفلیں پڑھ لیا کریں ۔۔۔۔ اس عظیم خاندان کے صاحبزادے گرامی قدر جو رہبر تھا ،پورے برصغیر کے مسلمانوں کا اس کی اصلاح کا کیا نسخہ چنا حکیم الامت نے
،،،اور سلام ہو حضرت قاری طیب صاحب کے حسن طلب پر سلام ہو ۔اور اللہ تعالی ان کے طلب کا کوئی ذرہ ہمیں عطا کرے ،،، سر جھکا کر اسی وقت عمل شروع کردیا ،اب جو لوگ آتے تھے ،انمیں علماء بھی ہوتے تھے ،وہ گزرتے وقت بڑی حیرت سے دیکھتے تھے کہ اللہ اکبر ! حضرت نانوتوی کے پوتے جوتے صاف کررہے ہیں  اور آنے والوں میں دیہاتی اکثر ہوتے تھے الٹے سیدھے لوگ ۔ انکے جوتے وہ اپنے
رومال سے صاف کررہے ہیں ،صرف چند دن شاید پندرہ دن یا اس سے کم کچھ کم زیادہ صرف یہ ریاضت کروائی قاری طیب صاحب سے ۔ اور اس کے بعد بلا کر فرمایا ;الحمدللہ آپ کا
سینہ رذائل سے صاف نظر آتا ہے ،اب آپ کو مزید خانقاہ میں قیام کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔ یہ معمولی سا ذکر بتاتا ہوں ان کی پابندی کرلیجئے اور جائیے اور اللہ کے بندوں کو ۔۔۔ اللہ  اللہ ۔۔۔ سکھانا شروع کردیجئے ۔۔۔۔۔ 
رسالہ ۔ الفرقان لکھنؤ ۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن