چھوٹے مدارس ہی نشانہ کیوں ہیں؟

*چھوٹے مدارس ہی نشانہ کیوں ہیں؟*
_________________________
      *رضوان احمد قاسمی منوروا شریف        سمستی پوربہار*
_________________________
      آجکل سوشل میڈیا میں چھوٹے مدارس کے تعلق سے کئی مضامین پڑھنے کو ملے ہیں اور ہرمضمون نگار نے چھوٹے مدارس والوں کو اگر مفید مشوروں سے نوازا ہے تو وہیں ان کی بے اعتدالیوں پربھی خوب خوب نشانہ سادھا ہے.......... مگر سوال یہ ہے کہ اگر مالی فراہمی کے تعلق سے چھوٹے مدارس والوں میں بے راہ روی ہے تو کیا بڑے مدارس والے اس مرض سے پاک ہیں؟ اگر مکتبی ٹائپ کے مدارس میں طلبہ کا استحصال ہے تو کیا جامعہ اور دارالعلوم کا ٹائٹل لگانے والے اس سے مستثنیٰ ہیں؟ اور اگر ابتدائی درجات والے مدارس کا نظام شخصی وانفرادی ہے تو کیا اپنے آپ کو بڑے مدارس کے ذمہ دار کہلانے والےبھی اسی کے مریض نہیں ہیں؟
          کون مدرسہ چھوٹا ہے اور کون بڑا. ؟نیز اس طرح کا امتیازاسلامی تاریخ سے میل کھاتا ہے یا نہیں؟ اس پرتو ایک دوسری تحریر عنقریب آپ کے سامنے آجائے گی ان شاءاللہ... البتہ سردست صرف یہ دیکھنا ہے کہ چھوٹے ہی مدارس کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ اور وہ بھی بالخصوص دو پہلو سے....... ان میں سے پہلی چیزہے فراہمی مالیات.... اسی لئے فراہمی کے موسم میں ہی ایسی تحریریں دیکھنے کو ملتی ہیں جبکہ جرم کا کوئی موسم فکس نہیں اور بے اعتدالیوں کا کوئی وقت متعین نہیں. اس کے باوجود اگر یہ موضوع چھڑتا ہے تو صرف چندے کے سیزن میں. اور اگر ان کو نشانہ بنایا جاتا ہےتو صرف رمضان اور عیدالاضحیٰ میں.........
*ع........ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے*
     بات اصل یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس کے ہوتے ہوئے بڑے مدارس کا چندہ متآثر ہوتاہے اور ان کی تجوری خاطر خواہ نہیں بھر پاتی ہے اس لیے چھوٹے مدارس والے انہیں کھٹکتے ہیں اور ان کے وجود وقیام پر سوالیہ نشان کھڑا کیا جاتا ہے.. اسی کے برخلاف جب فراہمی طلبہ کا مسئلہ آتاہے تو انہیں چھوٹے مدارس کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اصل خام مال تو انہیں چھوٹے مدارس میں تیار ہوتا ہے اس لیے ان چھوٹے مدارس کا ہونا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے
    تعجب ہے ایسے دوہرے پیمانے پر اور حیرت ہے ایسی خود غرض تحریروں پر..
        دوسرا پہلو ہے دور دراز کے طلبہ کا ہونا اور مقامی طلبہ کا نہ ہونا..... ظاہر ہے کہ یہ عنوان انتہائی مقبول عنوان ہےاورتعصب کے دوش بیمار پہ سوار پورے ملک میں خوب گشت کررہا ہے لیکن انہیں کیا خبر؟ کہ دور دراز سے لائےگئے طلبہ جب کسی محلہ میں زیر تعلیم ہوتے ہیں تو انہیں طلبہ کی وجہ سے پورے علاقے پر اللہ کی رحمت پھوٹ پھوٹ کے برستی رھتی ہے اور براہ راست دربار رسالت میں اس علاقے کا اندراج ہوجاتا ہے کہ آپ کے مہمانوں کی ایک چھوٹی سی قیام گاہ یہ بھی ہے. بھلا سوچئے کہ دربار رسالت کے رجسٹر میں اگر ہمارا اندراج اس حیثیت سے ہوجائے کہ ہم بھی ضیوف الرحمن اور ضیوف الرسول کے مہماں نواز ہیں؟ تو کیا یہ معمولی اعزاز ہے؟نہیں نہیں. ہرگز نہیں. بلکہ عاشقوں کے لئے تو یہی سب سے بڑا اعزاز ہے مگر کیا کہئے کہ علاقائیت کے بیہودہ جراثیم نے ہمارے ذھنوں کو بیمار کررکھاھے اور عصبیت کے سرطان میں ہم اس طرح مبتلا ہیں کہ الامان والحفیظ.......... جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دور دراز کے طلبہ سے بے نیازی کسی بھی ادارے کے لئے شاید مشکل ہے حتی کہ بعض اہل مدارس تو جس طرح فراہمی مالیات کی مہم چلاتےہیں اسی طرح طلباء کے چندہ کے لئے دور دراز کا سفر کرتے ہیں تاکہ ہمارے شعبہ جات کا بھرم باقی رہےاور ملکی وغیر ملکی چندےمتاثر نہ ہوں
    یاد رہے کہ بیرونی طلباء کا چندہ وہی لوگ کرتے ہیں جو بڑے مدارس کے ذمہ دار کہلاتے ہیں مگر ان کا یہ چندہ کبھی موضوع سخن نہ بنا کیونکہ زبان بھی انہیں کے پاس . قلم بھی انہیں کا ملازم. اور دولت بھی انہیں کی باندی. جبکہ ان چھوٹے مدارس والوں کے پاس کوئی ٹیم نہیں اوراگر کوئی سراٹھانا بھی چاہے تو بڑی مچھلیاں انہیں نگلنے کو تیار...... اس لئےان کی معمولی چوک بھی میڈیا کا عنوان بن جاتی ہے اور بڑے مدارس کہلانے والوں کی بڑی غلطیوں کو بھی یہ کہہ کر چھپا لیا جاتا ہےکہ اس سے سارے مدارس کی بدنامی ہوگی.... ہائے ہائے منصفین کا یہ کیسا معیارانصاف ہے ؟ اور بزعم خود دردمندوں کا یہ کیسا درد ہے؟اس لئے ایسے مضمون لکھنے والوں کو سب سے پہلے اپنے اندرون کا احتساب کرنا چاہیے اور اپنے دل کے نہاںخانے کو ٹٹولنا چاہیے کہ کہیں خود بھی مریض تو نہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن