آزاد جمیل کی حقیقت
آزاد جمیل کی حقیقت
تین چار سال قبل مولانا طارق جمیل صاحب کی طرز پر بیانات کرنے کی وجہ سے مشہور ہونے والے ایک بہروپیے اور خود ساختہ "مولانا" آزاد "جمیل" صاحب آج کل ایک فتنے کی شکل اختیار کر چکے ہیں. ان صاحب کی شرارتیں اور بیہودگیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں.
آزاد خان (بھگوڑا) المعروف بہ مولانا آزاد جمیل. یہ موصوف نہ تو مولانا ہیں اور نہ ہی جمیل. ان کے پاس نہ تو کسی مدرسے کی سند ہے اور نہ ہی کسی بڑے عالمِ دین کا اعتماد، یہ صاحب جن کا اصل نام آزاد خان ہے اور اکثر لوگ ان کو اپنے اختیار کردہ نقلی نام "آزاد جمیل" کی وجہ سے مولانا طارق جمیل صاحب کا صاحبزادہ سمجھتے ہیں اصل میں ابتدائی درجوں میں ہی مدرسہ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے.
چند سال قبل فیس بک اور یوٹیوب پر چند نا عاقبت اندیش لوگوں نے موصوف کے حلیے اور انداز سے دھوکہ کھا کر موصوف کو مولانا طارق جمیل صاحب کا بیٹا بنا ڈالا اور ان کی ویڈیوز اسی حوالے سے پوسٹ کر ڈالیں،
کسی نے تحقیق بھی نہیں کی اور دھڑا دھڑ ان وڈیوز کو شئیر کرنا شروع کر دیا.
یوں جب موصوف کچھ مشہور ہوگئے تو رائیونڈ، لاہور کے چند بے ریش لڑکوں اور کچھ نئے اور جذباتی قسم کے تبلیغی نوجوانوں کا ایک گروپ بنا لیا جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر ان کو پروٹوکول دیتا اور جگہ جگہ ان صاحب کا مولانا طارق جمیل صاحب کے بیٹے اور اندازِ طارق جمیل , طارق جمیل ثانی جیسے القابات کے ساتھ تعارف کرواتا رہا.
مولانا طارق جمیل صاحب کے بیٹے کی نسبت، ان جیسے انداز اور بیانات کی وجہ سے لوگوں نے موصوف کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور پھر ان سے مختلف جگہوں پر بیانات کرواۓ جانے لگے.
مولانا کا بیٹا سمجھ کر لوگ جیب میں خرچہ پانی بھی ڈال دیتے جو اکثر ان کی اوقات سے بھی زیادہ ہوتا تھا، بس پھر کیا تھا ؟ ان کی تو چاندی ہوگئی اور یہ موصوف خوب دیہاڑی لگانے لگے .
پھر یوں حاصل کی گئی رقم اپنے گروپ کے لڑکوں پر بھی لگاتے رہے اور وہ سب موصوف کی سوشل میڈیا پر اور اِدھر اُدھر خوب تشہیر کرتے رہے.
پھر یہ آزاد جمیل صاحب جن کی وجۂ مشہوری مولانا طارق جمیل صاحب کی نقالی ہے.
ان کے خادم لڑکے مختلف مساجد میں ان کے بیانات کروانے لگے اس کے لئے انہوں نے یہ منافقانہ طریقہ اپنایا کہ پہلے سوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی کہ فلاں مسجد میں مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان ہوگا
لوگ جوق در جوق تشریف لاتے
اور انتظامیہ عین وقت پر کہتی کہ مولانا طارق جمیل صاحب کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں آسکے تو ان کی جگہ پر ان کے بیٹے کا بیان سنیں،
اس طرح آئے ہوئے لوگ ان کا بیان سنتے اور ان کی مزید مشہوری ہوتی رہی.
اور اب تو پچھلے کچھ عرصے سے مولانا طارق جمیل صاحب جیسی آواز اور ان جیسا حلیہ اختیار کرنے کی وجہ سے مختلف ٹی وی چینلز نے ان کو اپنے پروگرامز میں بھی مدعو کرنا شروع کر دیا ہے جہاں یہ صاحب بظاہر تبلیغی نقطۂ نظر سے اپنا دینی مؤقف پیش کرنے کے لئےحاضر ہوتے ہیں اور اب اس جعلی شناخت کی وجہ سےان چینلز سے بھی خوب پیسے بٹور رہے ہیں. لیکن چونکہ کسی مدرسے سے باقاعدہ طور پر پڑھے ہوۓ نہیں ہیں اور دینی علم پر بھی کوئی عبور نہیں ہے اس لئے اکثر اس قسم کے ٹی وی پروگراموں اور اپنے بیانات میں الٹی سیدھی بھی ہانک دیتے ہیں اور الزام سارا مولانا اور تبلیغی جماعت پر آجاتا ہے.
گذشتہ سال رمضان میں کسی چینل پر "مولانا" فرمانے لگے کہ اگر بیٹا فوت ہوجائے تو شریعت حکم دیتی ہے کہ سسر اپنی بہو سے نکاح کر لے.
اس پر اینکر کہنےلگا مولانا کیا کہہ رہے ہیں؟ تو فرمانے لگے جی جی! شریعت نے بہت آسانی رکھی ہے. لوگوں نے جب شور مچایا کہ بھائی قرآن کا واضح حکم ہے ایسا بالکل نہیں ہوسکتا تو ۲ دن بعد عقل ٹھکانے آئی. غالباً کسی عالمِ دین سے مسئلہ پوچھ لیا ہوگا ؛ فورا رجوع کیا اور کہنے لگے " نہیں جی! اصل میں وہ غلطی سے منہ سے نکل گیا تھا"۔
اسی طرح کچھ عرصہ قبل کراچی میں نقیب اللّٰہ محسود کے قتل کے سلسلے میں تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوۓ موصوف نے کوئی فضول بات کردی تھی اور لوگوں نے آواز کے دھوکے میں سمجھا کہ مولانا طارق جمیل صاحب نے فرمایا ہے.
اب حال ہی میں کسی انتخابی جلسے میں جا کر مولانا طارق جمیل صاحب کی آواز میں موصوف نے فرما دیا کہ "سب آنکھیں بند کر کے "کتاب" کو ووٹ دے دیں"
چالاکی دیکھیئے کہ ایسے جلسوں میں ویڈیو دور سے ایسےبنواتے ہیں کہ شکل واضح نہ ہوسکے اور لوگ آواز، انداز اور لباس سے مولانا طارق جمیل صاحب کا دھوکہ کھا جائیں چنانچہ ان ویڈیوز کو اب لوگ مولانا طارق جمیل صاحب کے نام سے دھڑا دھڑ شیئر کر رہے ہیں اور جن ویڈیوز میں شکل واضح ہے وہاں لوگ "مولانا" اور "جمیل" سے دھوکا کھا کر ان بہروپیئے صاحب کو مولانا طارق جمیل صاحب کا بیٹا سمجھنے لگتے ہیں. حالانکہ نہ یہ موصوف مولانا ہیں اور نہ ہی جمیل.
کچھ کہہ دو تو یہ خان صاحب فورا کہہ دیتے ہیں؛ "میں تو ویڈیو بیان جاری کر چکا ہوں کہ میں ان کا بیٹا نہیں"
ان کو غالباً باقاعدہ سمجھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ کس جگہ اور کس مجلس میں کیا بات کرنی ہے؟
بس پانچ چھ ہزار روپے ان کی جیب میں ڈال کر ان سے مولانا کے انداز میں کچھ بھی کہلوا لو.
دو سال قبل ان سے ملاقات ہوئی تو ان کو سمجھایا اور نصیحت بھی کی لیکن
آگے سے ان کے ساتھیوں نے بدتمیزی کی اور لڑائی جھگڑے کا ماحول بنا لیا.
پھر میرا فیس بک اکاؤنٹ رپورٹ کیا اور میرا نمبر حاصل کر کے مجھے آرمی، میجر، کیپٹن اور ڈی ایس پی بن کر کالیں کرتے رہے.
یہ صاحب انتہائی گھٹیا سوچ کے مالک ہیں جو مولانا طارق جمیل صاحب کا نام لے کر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں
اور ان کے ساتھ موجود جو چند لڑکے ہیں وہ ان کے باڈی گارڈ اور خادموں کا کردار ادا کرتے ہیں اور مخالفین کو آرمی میجرز ، کیپٹن، اور ڈی ایس پی وغیرہ بن کر کال بھی کرتے ہیں اور دھمکیاں بھی دیتے ہیں
ھمارا ان سے یہ سوال ہے کہ جب آپ ان کے بیٹے نہیں ہیں تو یہ نام اختیار کر کے دھوکا کس بات کا دینا چاہتے ہیں؟ اپنا اصل نام اور اصل تعلیمی قابلیت بتاتے ہوۓ آپ کو شرم کیوں آتی ہے؟
ان بہروپیئے آزاد خان صاحب کو چاہئیے کہ اگر یہ صاحب واقعی "مولانا آزاد جمیل" ہیں تو اپنے مدرسے کی اسناد اور اپنا اصل شناختی کارڈ سامنے لائیں جس پر ان کو جمیل لکھا گیا ہو۔ اور اگر یہ نہیں دکھا سکتے تو لوگوں کو دھوکا دینا بند کریں۔ معصوم لوگ ان کی آواز کے دھوکے میں آ کر گمراہ ہورہے ہیں۔
واضح رہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے تین بیٹے ہیں:
۱ـ مولانا یوسف جمیل صاحب
۲ـ عاصم جمیل صاحب اور
۳ـ محمد علی جمیل صاحب.
مولانا یوسف جمیل صاحب مدرسہ حسنین فیصل آباد میں پڑھاتے ہیں.
عاصم جمیل صاحب کاروبار کرتے ہیں.
علی جمیل صاحب پڑھ رہے ہیں.
ان کے علاوہ مولانا کا کوئی بیٹا نہیں ہے.
پچھلے سال استاذی مولانا طارق جمیل صاحب سے ملاقات ہوئی
مولانا صاحب کے سامنے چند باتیں رکھیں جن میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ آزاد جمیل بہروپیہ آپ کے نام پر بیانات کرتا پھر رہا ہے اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے.
مولانا صاحب کے پاس پہلے بھی ان صاحب کی کچھ شکایات تھیں سو مولانا نے آزاد جمیل اور کچھ دوسرے نقالوں کے بارے میں اپنی وڈیوز میں تنبیہ کی.
حسنین اور تلمبہ مدرسے میں کچھ طلباء ایسے تھے جنہوں نے عقیدت میں مولانا طارق جمیل صاحب کے کئی کئی بیانات مکمل من و عن یاد کئے ہوئے تھے انہی کی طرح عمامہ، لباس، انداز، بیٹھنا، اٹھنا، اشارے حتی کہ ہر ہر چیز کاپی کرتے تھے.
ہماری کلاس کے ایک ساتھی تھے عبدالجلیل لغاری، وہ بلکل ہوبہو مولانا کی نقل اتارتے تھے فون پر یا ٹیپ میں اگر ان کا بیان سنا جاتا تو کوئی نہ کہہ سکتا کہ یہ کوئی اور ہے.
مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنے ان شاگردوں کو بھی جو ہوبہو مولانا طارق جمیل صاحب کی نقل اتارتے تھے، منع فرمایا کہ میری بات نقل کرو مگر میرے لہجے، انداز اور آواز کی نقل مت کرو ، نقل ہمیشہ نقل ہی رہتی ہے، کبھی کامیاب نہیں ہوسکو گے یہ اچھا عمل نہیں ہے بلکہ نقصان دہ عمل ہے، ایسا کرو گے تو بناوٹی نظر آؤ گے.
اگر آزاد خان صاحب یوں مولانا کی نقل مولانا کی محبت میں کر رہے ہوتے تو مولانا کی اس بات کے بعد فوراً سب کچھ ترک کر دیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں.
میری اس پوسٹ کے ذریعے آپ سب حضرات سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی آواز اٹھائیں اور ایسے بہروپیئے قسم کے عیاروں سے عام لوگوں کو بچائیں. یہ صاحب اپنے فضول قسم کے بیانات کی وجہ سے مولانا طارق جمیل صاحب پر کیچڑ اچھالنے میں کسی قسم کی کثر نہیں چھوڑتے.
آواز اٹھائیے
Comments
Post a Comment