ارتقاء فکر اسلامی کی تعریف*
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*ارتقاء فکر اسلامی کی تعریف*
فکری قوت انسان کے وجود کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے،یہی ہے جس کے ذریعہ انسان روحانی، عقلی اور غیبی مسائل میں رہنمائی پاتا یے،اس کے اندر موجود حواس خمسہ، ذوق وبصیرت اور تجربہ ووجدان کی تحریک ہی اس کے وجود میں چار چاند لگاتے ہیں،اگر انسان سے تدبر، تعقل اور تفکر کا جوہر الگ کردیا جائے؛ تو وہ کچھ نہیں،یہ ایک ایسی صلاحیت یے، جس سے انسان بھلی بھانتی پہچانتا یے،جسے پروان چڑھانے میں کائناتی نظام کا ہر ذرہ درپیش یے،آغاز وانجام وحی وعقل، حقیقت ومثال، زمان ومکان، آزادی وتقدیر اور حکمت و تاریخ کے اثرات اور جذب وانجذاب کا خاصا کردار ہوتا ہے،قرآن کریم میں موجود سمع وبصر اور فواد کا تزکرہ اسی پیرایہ میں ہے؛لیکن اس درمیان شریعت اسلامی کا اس کے مقام وحدود متعین کرتی یے،فکر وذکر اور فکر وعمل کے بیچ متوازن راہ تلاش کرتی ہے،دراصل فکر اسلامی ہی تعلیمات اسلامی کی حقیقی ترجمان وکیل ہے۔
*غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے؛ کہ یہ احکام نبوی کی شارح، ان کی روح اور رموز کی عارف ومعروف اور محدثین و مفسرین کے کمالات وافکار کی رازادں ہے، مجتہدین امت کے اجتہادات اور مصلحین کی علمی، فکری اور عملی کاوشوں کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے والی یے،فکر اسلامی کے مآخذ ومصادر قرآن وسنت ہیں،چنانچہ انہیں کی روشنی میں متعدد مفکرین ومصلحین نے فکر اسلامی کی تعریف مختلف زاوئے سے کی یے:حضرت مولانا قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کا ماننا ہے: "قرآن نے خاص فکر کو جس کا تعلق قوانین الہی،معرفت خداوندی،حقائق نبوت اور اس کے الوان کے انکشاف سے ہے؛ جسے صبغت اللہ کہا گیا ہے، اسی کو فقہ قلبی،لب عرفانی، نظر باطنی،بصیرت اور انصباغ من اللہ سے تعبیرکیا گیا ہے،قرآن نے فکر کا مصرف انفس وآفاق، تشریح وتکوین اور کمالات ذات وصفات نبوی اور معرفت الہی کو بتلایا ہے،اور فکر وتفکر چشم بینا اور گوش شنوا کا نہیں؛ قلب متفکر ہی کا نام ہے،فکر اسلامی انسان کی ظاہری وباطنی قوتوں کا نام یے،اگر فکر اسلام میں مطلوب نہ ہو؛ تو اجتہاد کا دروازہ مسدود ہوجاتا اور شرائع فرعیہ امت کے سامنے نہ آسکتے،فکر اصولی وکلی اور عقلی مقاصد تک۔پہونچ کر معرفت حق کے مقام پر پہچ جاتا یے"(کلمات طیب؛دیکھئے:فکر اسلامی کی تشکیل جدید،ضیاء الحسن فاروقی۔۔۴۴)*
پروفیسر سید اجتباء ندوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:" مسلم دانشوروں کی جانب سے قرآن وسنت کی روشنی میں عقلی طور پر اسلام اور اس کے پیغام کی تفسیر، وضاحت اور شرح کرنے کو فکر اسلامی یا نظریہ اسلام کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔"(تاریخ فکر اسلامی-ص:۱۱)ان اقتباسات سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ انسانی افکار وآراء کا وہی حصہ فکر اسلامی کا جز قرار پائے گا،جس کے اندر شریعت کی روح موجزن ہو،مقاصد شریعت کی پاسداری ہو،جملہ فنون وعلوم کی وضاحت و تشکیل میں امانت ودیانت واتقاء اور للہیت کی سیرابی ہو،آباء پرستی،ہوس پرستی اور مادہ پرستی کے غلبہ تشکیک اور مرعوبیت سے خلاصی ہو،فرامین ونوامیس اسلام کی روایتی عقلی اور عصری تعبیر و تشریح میں توازن ہو، اور غلبہ دین کی فکر ان تمام علمی وعملی مساعی کا جوہری عنصر ہو۔(ملخص:فکر اسلامی کا ارتقاء :۲۵ و مابعد)
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment