سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
صدائے دل ندائے وقت
*سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا*
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
اس نام سے یے باقی آرام جاں ہمارا
*باغ کے اندر خواہ کوئی بھی پیڑ ہو، وہ پھول ببول اور کانٹوں سے بھرا ہوا ہو،کبھی فصل آئے تو کبھی بہار آئے،کسی پود کی طبیعت سرد ہو؛ تو کسی کی شرست گرم، کوئی تمازت کا دلداہ ہو؛ تو کوئی برودت کا پروانہ، یقینا وہ کیسا ہی چمن کیوں نہ ہو؛ اور کتنا ہی نیرنگیوں پر کیون نہ مشتمل ہو؛لیکن اسے چمن گر عمدہ مل جائے تو وہ اسے چمنستان بنا دیتا ہے، ہر قہر وغضب اس سے ٹکرا کر چورا ہوجاتی ہے،اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؛ کہ الووں کے کتنے ڈیرے بن چکے ہیں، اور برباد گلستاں کرنے کو کون کون خم ٹھونک رہا یے؟، اس کے سامنے اسے اجاڑنے والوں کا ہر اصرار اور ان کی ہر سازش ملیامیٹ ہوجاتی ہے، اسکی رعنائیاں کو کوئی گزند نہیں پہونچا سکتا،اس کی شوخیاں نظر کو خیرہ کرتی رہتی ہیں؛ ہر کوئی اس سے آنکھوں کی ٹھنڈک پاتا ہے، اور شب وروز کی تکان کا علاج پاتا یے،غم واندوہ اس چمن کی دلربائی اور بھینی بھینی فضا کے سامنے دم توڑتے نطر آتے ہیں، اور طبیعت ہشاش بشاش و بے خود ہو کر مافوق العالم کی گود میں گہری نیند سو جاتا ہے۔*
آپ غور کیجئے دنیا کا ہر وہ نظام اور سسٹم جو کسی سالار وقائد کے گرد گھومتا ہو،اور اس کا ڈرائیور و ڈاریکٹر مزاج شناس،ماہر،اور قائدانہ صلاحیت سے مالا مال ہو،اور اس کا دل ودماغ روشن ہو تو اس کے تمام مسافرین و متبعین کا مستقبل بھی تاباں ہو جاتا ہے،باطل طاقتیں اپنی تمام تر سازشوں کے باوجود شکست وریخت سے دوچار ہوتی ہیں،زمانے کی ہر پگڈنڈی اور ہر پر خار وادی اس کیلئے سپاٹ بن کر سیاحی کا مزہ دیتی ہے،وہ قائد وسالار ایک ڈھال بن کر ستم گر و ظالم کی کلائیوں پر وار کرتا ہے،اس کی طرف بڑھنے والی ہر انگلی اور ہر اشارہ بلکہ ہر نظر پر گرفت لگاکر سخت سزائیں تجویز کرتا ہے،عالم یہ ہوتا ہے کہ اس کا بدن خواہ چھلنی ہوگیا ہو؛ بھلے ہی اس کا جسم ٹکڑوں میں بدل گیا ہو، ہوسکتا ہے کہ وہ زندگی کے مشاغل ومشکلات کے بوجھ تلے سراپا بے جان بنا جاتا ہو؛ لیکن ان سب کے باوجود اس کے زیر افراد پر خراش نہیں آتی، اور کبھی بھی مایوسی ونامرادی کا رونا نہیں رویا جاتا۔
*اسی طرح اس امت کا سالار وقائد اور رہنما کوئی اور نہیں؛بلکہ سرکار دوعالم محمد مصطفی، نبی مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن کی پاداش میں اس دنیا کا وجود ہے، جن کے دم سے تاروں کی چمک اور آفتاب کی تابانیاں ہیں، جنہوں نے اپنے متبعین کیلئے ہدایت وصراط مستقم کی راہ دکھائی اور حق کی علمبرداری کرنے کیلئے زمانے کاغم کھایا،اپنے اور پرایوں سے دشمنی مول لی،اپنے دندان مبارک تک شہید کروائے،اور اپنے لاکھوں جان نشینوں کی قربانیوں کے ساتھ ایک ایسی امت عطا کی جو دائمی ہے، ابدی ہے، جس کے ساتھ انبیاء کی سی فضلیت ہے؛ بلکہ بہت سے معاملات میں وہ عہد ماضی کے انبیاء سے بھی فائق ہے،ایسی ملت کو بھلا کس کا خطرہ؟ ابوجہل کے بعد اب کون فرعون بنے گا؟قیصر وکسری کے بعد اب کسے تفوق حاصل ہوگی؟ کوئی نہیں اگر کوئی ہے تو صرف اور صرف آپ ہیں اس امت کے شیدا ہیں، آپ کے قائد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کرنے والے ہیں، چنانچہ دل نہ ہارئے،مایوسی کو اپنی پیشانی پر بل نہ دینے دیجئے بس اپنے قائد کو تھام لیجئے! اسی کی محبت سے سینہ کی گرماہٹ کا سامان تلاش کیجئے!یاد رکھئے!۔*
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
اس نام سے یے باقی آرام جاں ہمارا
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment