نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر
نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر
یاسر ندیم الواجدی
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نکاح کے وقت عمر گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے مستشرقین کی بدولت اسلام اور محسن انسانیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کا سبب بنی ہوئی ہے۔ دو سو سال پہلے کسی نے اعتراض اس لیے نہیں کیا کیوں کہ اس زمانے میں تقریبا ساری دنیا میں کم عمر میں کیے جانے والے نکاح معمول کی چیز تھے۔
مادیت پرستی اور جدیدیت نے اپنے کھوکھلا ہونے کے باوجود اپنے غلاموں کو یہ سکھلادیا کہ نارمل وہ ہے جو تم نارمل سمجھو اور غلط وہ ہے جو تم غلط سمجھو۔ حالانکہ صحیح اور غلط نیز اخلاقی وغیر اخلاقی ہونے کا تعلق وحی سے ہے، یہ چیز عقل انسانی کے دائرہ عمل ہی میں نہیں آتی ہے۔ جدید الحاد اور تشکیک کی یہی بنیادی وجہ ہے۔
زمانہ حال کے ہمارے کچھ "مفکرین" نے جن کو مصادر شریعت میں کتر بیونت کرنے کا ملکہ حاصل ہے اس مسئلے پر دفاعی موقف اختیار کیا اور کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نکاح کے وقت سولہ سال اور رخصتی کے وقت انیس سال تھی۔ یہ موقف کوئی نیا نہیں ہے، علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب سیرت عائشہ میں عقلی ونقلی اعتبار سے اس موقف کی سخت تردید کرچکے ہیں۔ درست موقف وہی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نکاح کے وقت 6 سال اور رخصتی کے وقت 9 سال تھی۔
3 جولائی کو گجرات سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ مقصود پٹیل کے ساتھ فیس بک لائیو میں غیر مسلموں کی طرف سے اٹھائے جانے والے چند اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ حضرت عائشہ کی عمر کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جس کا تحقیقی والزامی جواب دینے کی کوشش کی گئی۔ 8 منٹ پر مشتمل یہ ویڈیو اسی طویل گفتگو کا ایک حصہ ہے۔ امید ہے کہ اہل اسلام کے لیے یہ ویڈیو تسلی کا سامان ہوگی اور حق پرست غیر مسلم اس جواب سے مطمئن ہوں گے۔
Comments
Post a Comment