نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
*صدائے دل ندائے وقت*
*نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے*
*زندگی کی حقیقت سوائے اس کے کچھ نہیں؛ کہ وہ فانی بے،غیر پائیدار اور زوال پذیر ہے،آپ منصوبوں کا پلندہ تیار کر لیجئے،مستقبل کی آرزوؤں اور تمناؤں کی طویل ترین فہرست بنا لیجئے!،خواہشات اور حرص و لالچ کو بھی لے لگام چھوڑ دیجئے،ہو سکے تو یا نہ ہو سکے، امکانات و غیر متوقع ہر دو کو سینہ سے لگائے،دل و جان سے عزیز تر اولاد اور اپنی دیرینہ محبوبہ بیوی اور اپنے مخزن کے خزانوں پر بھی دو زانو ہو کر بیٹھ جائے،بلند بانگ عمارتین اور فلک بوس رہائشیں تیار کر کیجئے! صحت وعافیت کی خاطر ڈاکٹروں کی فوج رکھ لیجئے!، انہیں کے اشاروں پر صبح وشام کیجئے! اور اپنی ہر سانس انہیں کا پہرا بٹھا لیجئے! اور ہاں ! پوری استطاعت کے بعد کائنات صغری (جسم) پر ایک مکھی بھی بیٹھنے کی اجازت نہ دیجئے!،ہر مرض پر بلکہ مرض سے پہلے ہی دوا کا بندو بست رکھئے!،قرآن کریم۔کی زبان میں "في بروج مشيدة" کا حصار کر لیجئے! تب بھی وقت اجل کی ہلکی سی جھلک سارے خواب روند ڈالے گی،تاش کا ہر پتہ بکھر کر رہ جائے گا،تاریکی کی چادر بلکہ دبیز چادر میں لپٹ کر تمام حال کو ماضی کرنے پر مجبور کردے گی۔*
دنیا میں نہ جانے کتنے فاتح وسکندر گزرے،وہ بھی آئے جنہوں نے چہار دانگ عالم کی مسافتوں کو مٹھی میں قید کرلیا،ہر سر کو جھکنے پر اور ہر سورما کو شکست فاش برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہنے دیا،اس دنیا میں انہوں نے بھی داد دہش دی؛ جنہوں نے دلوں پر راج کیا،جن آگے ہر سر کش اور فرعونیت کی تصویر بھی زانو ارادت تہ کرنے پر مجبور ہوئے،جن سے انسانیت کی کھیتی لہلہائی اور چہار سو محبت کا نغمہ چھڑ گیا،ہر دل پر سوز وساز کی پھہار ہوئی،اور بلا کسی تفریق کے ہر ایک کی زندگی موسم بہار کی رت چلا دی؛ لیکن کوئی بتائے کہ کیا انہیں بقا نصیب ہوئی؟ انہوں نے حیات مستعار کی کتنی فصلیں دیکھیں؟ ان سب سے بڑھ کر وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جماعت جن سے اس عالم کا وجود ہے،اس کی ساری رنگینیان و شوخیاں ہیں،جنہیں خدا کے عزیز ترین بندہ ہونے کا پروانہ نصیب ہے۔ کوئی بتائے کیا انہوں نے ہمیشگی پالی؟خدا کی قسم اگر اس دنیا میں دوام ہوتی! تو ضرور بالضرور انہیں متبرک روحوں کیلئے ہوتی۔
*موت کی یہ بدیہی حقیقت کے ساتھ اس کی ایک اور حقیقت یہ بھی ہے؛ کہ وہ کسی کی اجازت کی محتاج نہیں،رب ذوالجلال کے اشاروں کے سوا کوئی بھی اس پر قابض نہیں،وہ کب آئے گی؟کس پر آئے گی؟ کوئی بھی نہیں جانتا،دنیا کی ساری تخریعات و انکشافات اس کے سامنے ہیچ ہیں،وہ نونہال کو بھی اپنا ہمسفر کرسکتی ہے، جس نے ابھی لمحہ اور لحظہ کی زندگی پائی ہو،اور ادھیڑ عمر اور پختہ تجربہ کار کو مزید قید حیات میں مقید ہی رہنے دے،اسے کوئی چیخ کر اور گلہ پھاڑ کر بھی پکارے تو بے سود و بےفائدہ ہے،اس کی مرضی میں کسی اور مرضی کا دخل نہیں، اور اگر کسی نے زور و زبردستی کی تو اس کی پاداش میں اسے وہ سب بھگتنا پڑ سکتا ہے،جو اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو،چنانچہ تیار رہئے اور ہر ایک کو تیاری کی تلقین کیجئے! قبل اس کے کہ وہ آپ کو اپنا مہمان بنائے، آپ اسکی میزبانی کیلئے کمر کس لیجئے: تاکہ مہمان و میزبان کا یہ تعلق تلخی کے باوجود شیریں کا مزہ دے۔*
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment