شیخ عبداللہ کاپودروی رحمتہ اللہ علیہ کی مختصر سوانح قسط ۲
🌹 قسط ۲ 🌹
*مفکر ملت رئیس الجامعہ فلاح دارین ترکیسر فخر گجرات شیخ عبداللہ کاپودروی رحمتہ اللہ علیہ کی مختصر سوانح* ........
*فراغت کے بعد کی خدمات*
*ستمبر ۱۹۵۳* میں مجلس خدام الدین سملک میں مکاتیب کے ممتحن ( وزیٹر ) کی حیثیت سے ملازمت کی ،
*دسمبر* میں کڑود میں مجلس کا جلسہ ہوا اور حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ایک ماہ سفر میں جانے کے لئے استعفٰی دیا .......
*۱۹۵۴* جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں پہلی بار تدریس کے لئے تقرر ہوا ، چونکہ درمیانی سال تھا اسلئے درجہ اردو سپرد کیا گیا ........
*۱۹۵۵* سال دوم میں شوال سے عربی اول کا مکمل درجہ سپرد کیا گیا ، اور عربی سوم کے دو اسباق " سحرالاٰداب اور دروس التاریخ الاسلامی للخیاطی " بھی ذمہ رہی .......
*۱۹۵۶* میں مستعفی ہوکر کاپودرا تشریف لائے ، جہاں رسالہ " تبلیغ " گجراتی کے دفتر میں محترم منشی محمود قاسم پانڈور صاحب کے ساتھ کام کیا ........
*۱۹۵۷-۱۹۵۸* کاپودرا میں رہ کر زراعت کا کام کرتے رہے ......
*۱۹۵۹* دوبارہ مجلس خدام الدین میں بطور ناظم تعلیمات تقرر ہوا ... ...
*۱۹۶۰-۱۹۶۱* مولوی عبدالرحمن گارڈی اور ان کے بھائی حبیب الرحمن کے ساتھ دارالعلوم دیوبند میں قیام رہا .......
*مارچ ۱۹۶۲ ، شوال ۱۳۸۱ ہجری* جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں دوبارہ مولانا محمد سعید بزرگ سملکی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ دفتر میں کام کے لئے تقرر ہوا ، دو گھنٹہ درس کے لئے مقرر ہوئے ، شرح وقایہ ، مقامات حریری ( خارج میں انشاء عربی سوم ) ......
*۱۹۶۳ - ۱۳۸۲ ہجری* ترجمہ نصف اول ، مقامات حریری ، نورالایضاح معه قدوری ، روضۃ الادب مع صفوۃ المصادر ، تیسیرالمنطق ، مرقاۃ ، انشاء عربی چہارم ......
*۱۹۶۴ - ۱۳۸۳ ہجری* ترجمہ نصف ثانی ، منیۃ المصلی ، نورالایضاح ، مختارات ، مقامات ، سفینه ، البلاغۃ الواضحہ ، دیوان متنبی ، انشاء عربی سوم - پھر ۱۴ / مارچ ۱۹۵۶ میں تبدیلی ہوئی اس میں نورالانوار ، نورالایضاح پڑھائی ........
۱۹۶۶ سے ۱۹۸۵ تک ( یعنی ۱۹ سال ) دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر میں اہتمام کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دی ......( ملخصا ازخودنوشت تحریر ).......
( جاری ) ........
*عبدالستار عثمانی گودھرا*
Comments
Post a Comment