ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺

    *ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے*

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے
سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو
ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
     *کسی کے رخ انور،آنکھوں کی چمک اور پیشانی کی بلندی کا شکار شخص کا کیا کہئے؟ نادانی و عنفوان شباب میں کسی کے زلف کا اسیر ہوجانا،اس کی اداوں اور غزالہ انداز پر جگر کاٹ کر رکھ دینے کا مزہ کون جانتا ہے؟ عین حسن پرستی کا تسلط ہوجانا اور کسی کی شادابی و زرخیزی میں مال ضالہ بن کر رہ جانا بھی زندگی کا حصہ خاص ہے،ستایا ہوا یہ دل دنیا کے ظالم نیزہ پر ہمیشہ سوار ہی رہتا ہے،وہ بھلا کیوں کر اس کی نادانیوں کو برداشت کرے؟ اور کیوں خون جگر رعنائیوں کی زحمت گوارا کرے؟، چنانچہ وہ ستم زدہ ابھی عشق و محبت کے ہوش کیا لیتا؛ زمانہ رخسار مبارک پر طمانچہ لگانے اور بیڑیوں میں جکڑ کر قید وبند کی سزا دینے پر آمادہ ہوجاتی ہے، اس کے اعضا و جوارح پر وار ہوتے ہیں، اس کے اعصاب چورا چورا کردئے جاتے ہیں،ذہن ودماغ پر تاریکی چھا جاتی یے،گھڑی گھڑی زندگی اک بوجھ اور ستم بن کر صفحہ ہستی کی سب سے ثقل ہستی ہوکر اپنی نظروں میں ہی ظالم وسفاک تصور کر لیا جاتا یے۔*
   یہ ستم بالا اور دوبالا ہوجاتی ہے؛ جب کہ یہ قصہ کسی ناگہانی حادثہ کے ساتھ پلٹ دی جائے،اس کی یادیں گرد آلود ہونے لگیں،دل صبر وضبط کا دامن تھام کر؛ بلکہ کہنا چاہئے کہ مصلحت کی چادر میں خود لپیٹ کر خودی کی زندگی میں مخمور ہوجائے،اس نے اپنے آپ کو بہلا لیا ہو، اور جس نے اپنے دل کو سمجھا لیا ہو؛ اور بار بار یہ باور کرا دیا ہو کہ یاد ماضی عذاب ہے یا رب ! لیکن دفعتا اسی رخ روشن کی تابناکی کا سامنا ہوجائے،پھر وہی عہد ماضی کے صفحات پلٹنے لگ جائیں؛ وہی شب روز کی اٹکھیلیاں عکس بن کر رو بہ پیش ہوجائے،وہی صدا کی چاشنی، وہی خماری کا لطف، وہی دل کا بچپنا، پھر سے انگڑائیاں لینے لگیں تو کیا کہئے؟ ہائے یہ ستم بالائے ستم ! کہتے ہیں: وقت ہر زخم مندمل کر دیتا ہے، لیکن ایسوں کے حق میں یہ وقت اور زہر آلود کیوں کر ہوجاتا ہے؟ کیوں وہی سخن کی ستم سامانیاں رہ رہ کر داد دہش دیتی ہیں،اور حالت یہ بن پڑتی ہے؛ کہ سانسوں کو روانی کی فکر نہیں،دھڑکنوں کو دھڑکنے کی اجازت نہیں، پلکوں کو جھپکنے کا ہنر نہیں آتا، زبان گنگ اور سماعت بے ڈھنگ ہوجاتی یے،نظریں چوری کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں،قدم نہ اٹھنے پر بضد ہوجاتے ہیں،اور بدن کا ہر ٹکڑا اس کی طرف محو ہو کر کیف وسرور کی سرمستیوں کا شکار ہو جاتا یے!۔
   *افسوس کا مقام ہے؛ کہ عنفوان شباب کی یہ سرمستیاں اور یہ خماریاں کسی نامعلوم منزل کے مسافر کی طرح ہیں، جس کا حال و مستقبل دبیز پردوں میں پوشیدہ ہوتا ہے؛ شاید ہی ایسے مسافر کسی ٹریک کا پتہ پاتے ہیں اور منزل مقصود سے ہمکنار ہوکر طمانیت و راحت اور قرار وسکون کا مزہ پاتے ہیں، اکثر ایسا بھی دیکھا جاتا یے؛ کہ ایسے راہ رو اگر کسی پڑاو پر ٹھہر بھی جائیں، تو اس کی عمر وفا نہیں کرتی، اس کی آمد ورفت کا وقفہ برائے نام ہوکر زندگی مزید کوفت و آفت سے لبریز ہوکر بوجھ بن جاتی یے،نوبت تو یہ بھی آجاتی یے؛ کہ خود کو کسی پھندے سے لٹکا دیا جائے یا کسی بلندی سے پھینک دیا جائے،کاش ہم سمجھتے اور جانتے کہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں،اس سے یاری کی امید اور وفا کا یقین لغو ہے،جیسا کہ کہا جاتا یے کہ پانی پر کشتی کی زندگی یے لیکن اگر کشتی پر پانی سوار ہوجائے، تو پھر اسے غرق ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔*

     ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن