شوشل میڈیا اور مستقبل
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*شوشل میڈیا اور مستقبل*
عصر حاضر میں شوشل میڈیا نے انسان کو انسان سے جوڑنے اور انہیں دور دراز مسافتوں کے باوجود ایک خاص کڑی میں پرو دینے کا کام کیا ہے،خبریں،واقعات اورحوادث کا پل دو پل میں ایک دوسرے تک پہونچ جانا اور ہزاروں، کروڑوں میل دوری کے ساتھ مطلع ہوجانا عام بات ہے،یہ ایک ایسا ذریعہ ہے؛ جس کے ذریعہ تحریکات اور انقلابات بھی وجود میں آئے، بہت حد تک عالم عرب سے موروثی حکومتوں کا خاتمہ کا سہرا انہی کے سر ہے،محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے؛ بلکہ بلا تفریق مذاہب سبھوں کو دوستی و تعارف کے انوکھے رشتہ میں شیر وشکر کردیا ہے،کیا اپنے اور کیا پرائے؟ ماضی کی تمام دشواریوں پر پانی پھیر دیا ہے،اب وہ دن گرد ہوگئے جب بھائی بھائی کی آواز سننے یا اس کی اچھی بری خبر پانے یا محبت و شفقت کی دیوی والدہ کی دعائیں پانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا تھا،خط وکتابت کی مشکلات کا سامنا کرنا اور اس پر انتظار کرتے ہوئے شب وروز گزاردینے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔
شوشل میڈیا کی تخلیقات کا جائزہ لیا جائے؛ تو یہ اپنے آپ میں ہر دو پہلو سموئے ہوئے ہے،خیر وشر اس کا لازمہ ہے،ایک طرف اس سے انقلابات کی ہوا چلی یے؛ تو فحاشی وعریانیت اور تباہی وبربادی نے بھی اپنا دہانہ کھول دیا ہے، ملکوں کی آپسی چپقلش،ڈاٹا کی چوری اور اس کی بنیاد پر جنگوں کا سر اٹھانا؛ نیز ایک دوسرے کے منشور پر شوشل میڈیا ہی کے ذریعے نکتہ چینی کرتے ہوئے؛ شخصی ہتک ریزی کردینا بھی شامل ہے،آئے دن ہر کسی کو نشانہ بنایا جاتا یے،ہر کسی کی شخصیت مجروح کی جاتی یے، عورتوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا اور انہیں عصمت دری کی دھمکیاں دینا بھی اسی کا حصہ خاص ہے،جھوٹ کی نشر واشاعت کرنے اور اس کے ذریعہ فتنہ وفساد برپا کرنے کا بازار گرم رہتا ہے،آئے دن منصوبہ بند طریقہ سے فرقہ واریت کی فضا بنانے میں بھی اس سے مدد لی جاتی یے، اب تو حد یہ ہے؛ کہ اسی کی بنیاد پر ملکی سلامتی اور فیصلوں کا انحصار رہنے لگا یے۔
شوشل میڈیا کے حالیہ ان فوائد ونقصانات کے ساتھ اس کے متعلق مستقبل کی فکر بھی لاحق ہے، اب ایسی خبریں ہیں کہ ان تخریعات کے ذریعہ انسانی ذہن وگمان، اس کی فکر وغور کی صلاحیت کو قابو میں کرنے کا بھی کام لیا جاسکتا یے، اور ممکن ہے کہ انسان صرف شوشل میڈیا ہی کی زندگی پر منحصر ہوکر رہ جائے، وہ لائکس اور کمنٹس کو حقیقی خوشی سمجھے،رشتوں کی کوئی اوقات نہ رہ جائے،دوستوں کی دوستی بے معنی ہوجائیں؛ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے؛ کہ بعض ایسی ڈوائس بھی تیار کی جارہی ہیں؛ بلکہ اس کے امکانات دوچند ہوچکے ہیں جس کی بنیاد پر انسان کو ایک مقید زندگی میں قید کردیا جائے، اسے خود کی رواں سانسوں کی بھی فکر نہ ہوگی؛ چہ جائے وہ اپنے آس پاس اور قرب وجوار کی کیفیت معلوم کرے،اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ انسانیت کیلئے سب سے خطرناک سامان ہے،اسے بنانے والوں کی منشا کیا ہے؟ اس پر کوئی کیا کہے! ہوسکتا ہے؛ کہ یہ ترقی کا نیازینہ ہو، لیکن شاید یہ انسانیت کیلئے تمام خوں آشام جنگوں اور تمام فتن سے بڑھ کر یو۔
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment