مدارس کے معصوم طلباء کی گرفتاری کسی بھی حال میں ناقابل برداشت
*مدارس کے معصوم طلباء کی گرفتاری کسی بھی حال میں ناقابل برداشت*
کل گزشتہ جھارکھنڈ میں جس طرح کے ڈراؤنے انداز میں معصوم بچوں کو پولیس اور فورس گرفتار کرکے گھیرے ہوئے ہے.اور انکی چھان بین کر رہی ہے.بچوں کے دلوں ایسا ڈر اور خوف بٹھادینے کے بعد کیا کوئی بھی بچہ یا انکے ماں باپ مدرسے بھیجنے کو تیار ہونگے.؟؟ان غریب معصوموں کا حوصلہ پست کرنے کیلئے دانستہ طور پر یہ شرارتیں کی جارہی ہیں.مذکورہ علاقے کے سرگرم علماء اور عوام جلد از جلد کاروائی اور سخت احتجاج کرکے اور علاقے کے ایس پی ڈی ایس پی ڈی یم وغیرہ سے مل کر ظالم پولیس سے چھٹکارہ دلوانے کی کوشش کریں.جمعیت علماء کے ریاستی ذمیداران اور مولانا ارشد مدنی صاحب اور محمود مدنی صاحب بھی اپنے اثر رسوخ کا استعمال فرماکر بچوں اور اساتذہ کو جلد رہائی کی سبیل بنائیں.اور آئندہ کیلئے حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ اس طرح کی کوئی کاروائی طلباء مدارس کیساتھ نہ ہونے پائے.اور اہل مدارس بھی اتنی تعداد میں بچوں کو دور دراز علاقے میں منتقل کرنے کیلئے اپنے اپنے علاقائی پولیس اسٹیشنوں سے اجازت نامہ انگریزی اور ہندی میں لے لیں تاکہ سفر میں کوئی دشواری نہ ہو.اور ایک ضروری گزارش یہ بھی ہیکہ کیا بہار یا جھارکھنڈ و دیگر ریاستوں کے مدارس طلباء سے فل ہوگئے ہیں؟؟ کہ طلباء کو دوسری ریاستوں میں پڑھائی کیلئے اتنی بڑی تعداد میں منتقل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے.؟؟ہر جگہ پڑھائی ایک جیسی ہی تقریبا ہوتی ہے.لہذا ماں باپ اپنے بچوں کو علاقائی قرب و جوار کے مدارس میں ہی تعلیم دیں.وہاں بھی مدارس میں طلباء کی شدید ضرورت ہے.اور جن دور دراز علاقے اور مدرسے میں ان بچوں کو لیجایا جاتا ہے ان مدارس کے لوگ اپنے علاقے پر محنت کرکے طلباء کو تشکیل کرکے کیوں نہیں لاتے.محنت کرنا چاہتے نہیں صرف چندہ بٹورنا جانتے ہیں.بہار بنگال سے پچیس تیس بچوں کو اساتذہ کے ذریعے منگوالئے اور دکان چلارہے ہیں.میرے علم میں خود ایسے مدارس ہیں کہ علاقے کے دوچار بچے مشکل سے ہوتے ہیں بقیہ سارے بچے دوسرے اسٹیٹ سے لائے جاتے ہیں.یہ خالص اپنی دکا چلانے اور اپنی جہنم بھرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں.جتنا مدرسے کا سالانہ یا ماہانہ خرچ نہیں ہے اس سے کہیں زیادہ مہتمم کے گھر کا خرچ ہے.چالیس چالیس پچاس پچاس ہزار مہتمم کے گھر کا کرایہ ہوتا ہے.اپنی ذاتی مہنگی مہنگی کاروں میں پھرتے ہیں.مہنگے مہنگے شاپنگ مالوں میں انکے گھر کی شاپنگ ہوتی ہے.دسیوں لے آؤٹس میں انکی اپنی سائٹیں ہوتی ہیں.کروڑوں کی پراپرٹیاں دس سالہ اہتمام کے زمانے میں بناچکے ہوتے ہیں.کیا منھ دکھائینگے اللہ کے پاس.کیا جواب دینگے اپنی کالی کرتوں کا.میری بات سچی ہونے کے ناطے کڑوی ضرور ہے لیکن اس سے راہ فرار کی بھی گنجائش نہیں ہے.اخلاص و للہیت سے کام کرنے والے مدارس کی بہت قلیل تعداد ہے.اور دکان کھول کھول کر اپنا پیٹ بھرنے والے مدارس کی تعداد حد شمار سے باہر ہے.پھر کیوں نہ ہم پر مصائب ٹوٹیں.بہرحال کہنے کیلئے بہت کچھ ہے لیکن اسوقت کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ان گرفتار بچوں اور اساتذہ کی رہائی کیلئے جس سے جو بھی کوشش ہوسکتی ہو کریں.اللہ تعالی ہم تمام کا حامئ و ناصر ہو.اللہ پاک اپنے دلوں اور زندگیوں کے اصلاح کی سچی تڑپ عطا فرمائے.خوف خدا کیساتھ ہر کام کرنے کی توفیق بخشے.آمین.حفظ الرحمن قاسمی بنگلور.
Comments
Post a Comment