امام اعظم رحمہ اللہ پر کیا جانے والا اعتراض اور اس کا جواب

امام اعظم رحمہ اللہ پر کیا جانے والا اعتراض اور اس کا جواب

امام اعظم رحمہ اللہ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے، اُن کی روایات صحاح ستّہ(حدیث کی چھ مشہور کتابوں) میں موجود نہیں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ائمہ ستّہ کے نزدیک قابل استدلال نہیں تھے۔

یہ ایک انتہائی سطحی اور عامیانہ اعتراض ہے، اِن ائمہ حضرات کا کسی جلیل القدر امام سے روایات کو اپنی کتاب میں درج نہ کرنا ، اُس امام کے ضعیف ہونے کو لازم نہیں،
کھلی ہوئی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی بھی کوئی روایت نہیں لی ہے، بلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جو امام بخاری کے استاذ ہیں، اور امام بخاری نے جنکی صحبت اٹھائی ہے، اُن کی بھی پوری صحیح بخاری میں صرف دو روایتیں ہیں ، ایک روایت تعلیقاً منقول ہے اور دوسری روایت امام بخاری نے کسی واسطہ سے نقل کی ہے،
اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امام بخاری سے کوئی روایت نقل نہیں کی ،حالانکہ وہ اُنکے استاذ ہیں ،
نیز امام احمدرحمہ اللہ نے اپنی مسند میں امام مالک کی صرف تین روایات ذکر کی ہیں ، حالانکہ امام مالک کی سند اصحّ الاسانید شمار کی جاتی ہے ،
اب کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امام شافعی، امام مالک اور امام احمدرحمہم اللہ تینوں ضعیف ہیں؟؟؟
اس معاملہ میں حقیقت وہ ہے جو علامہ زاہد الکوثری نے’’ شروط الائمۃ الخمسۃ للحازمی‘‘ کے حاشیہ پر لکھی ہے کہ در حقیقت ائمہ حدیث کے پیشِ نظر یہ بات تھی کہ وہ اُن احادیث کو زیادہ سے زیادہ محفوظ کر جائیں، جن کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا، بخلاف امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمدرحمہم اللہ جیسے حضرات کہ اِن کے تلامذہ اور مقلدین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اُن کی روایات کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ تھا، اس لئے انہوں نے اس کی حفاظت کی زیادہ ضرورت محسوس نہ کی۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن