ملت ٹائمز کے متعلق ہمارے علماء کی رای

ایسے نیوز پورٹل کا بائکاٹ ہونا ہی چاہئے

محسن خان ندوی کلکتہ

محترم حضرات !

ذیل میں ہمارے ان معتبر ترین علماء کرام کی رائے اور موقف ہے, اس نیوز پورٹل کے بارے میں جس نے لگتا ہے اپنا مقصد ہی انتشار و اختلاف پھیلانا بنا لیا ہے , اب جب کے اس اردو نیوز پورٹل کے بارے میں ہمارے اکابرین کی رائے کھل کر سامنے آگئی ہے تو ہمیں بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس نیوز پورٹل کا بائکاٹ کرنا چاہئے جو اس منتشر امت میں اتحاد و اتفاق کا بیج بونے کے بجائے مزید اسے منتشر کرنے کی مضموم کوشش کر رہا ہے.

ہمارے اکابرین کی وہ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :

"نہایت ہی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ملت ٹائمز نے مجھ سے فون پر بعض سوالات کئے, اور صحافتی دیانت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتشار پیدا کرنے والا عنوان لگایا......‛‛ : حضرت مولانا خالد سیف ﷲ رحمانی صاحب (٧ جولائی ٢٠١٨)

"ملت ٹائمز کو میرے مضامین شائع کرنے کی اجازت نہیں.....‛‛ : مولانا ندیم الواجدی صاحب  (١٢مارچ ٢٠١٨)

ملت ٹائمز کو میرے (پروفیسر محسن عثمانی ندوی) مضامین شائع کرنے کی اجازت نہیں : پروفیسر محسن عثمانی ندوی صاحب (١٦مارچ ٢٠١٨)

"......میرے الفاظ کے ساتھ  ہیر پھیر کررہے ہیں وہ تحریف کرنے والے مجرم ہیں قوم کو چاہئے کہ پہچان لیں........‛‛  : مولانا سلمان حسینی ندوی (٩ فروری ٢٠١٨)

ہمارے ان اکابرین کے بیان کے بعد انصاف پسند اور اتحاد و یکجہتی کا علم بلند کرنے والے فکر مند ہیں اور انہوں نے امت میں انتشار برپا کرنے والے اس اردو نیوز پورٹل کا بائکاٹ شروع کر دیا ہے اس کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں :

".....لھذا آیندہ ایسے پورٹل کی خبروں کی گروپ میں پوسٹ کرنے کی گروپ میں قطعاً اجازت نہیں ھے خلاف ورزی کی صورت میں گروپ سے باہر کردیا جائے گا۔
شہرت کی بھوک ہم کو کہاں لیکر آگءی
ھم معتبر ہوءے بھی تو دستار بیچ کر ۰۰۰۰۰۰

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن