دوحہ و قطر کے چکر میں اپنی و اپنے علم کی ناقدری نہ کریں
*دوحہ و قطر کے چکر میں اپنی و اپنے علم کی ناقدری نہ کریں.*
امام و مؤذنین کے انتخاب کیلے دوحہ قطر سے آنے والے بد اخلاق ترش مزاج علماء قراء حفاظ کی گستاخی کرنیوالے مکاروں کا بائیکاٹ کیجیئے.انہیں مشکل سے دس لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پورے ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں سے اچھی و عمدہ آواز والے چند افراد کو بھیڑ و بکریوں کی طرح چھانٹتے ہیں.جو انتہائی ذلت آمیز منظر ہوتا ہے.بسا اوقات آپکی آواز بہت عمدہ ہوتی ہے لیکن وہ تعوذ و تسمیہ یعنی اعوذ باللہ بسم اللہ سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیتے.حالانکہ ہم حافظ قاری عالم سب ہوتے ہیں.اور اپنے اپنے شہر میں مؤقر جگہوں جڑ کر برسوں سے خدمات بھی انجام دے رہے ہوتے ہیں.
ایک ایک شہر میں پانچوں ہزار سے زیادہ علماء و حفاظ قراء انٹرویو کیلیے جمع ہوتے ہیں اور اسمیں سے صرف تین یا چار کو منتخب کیا جاتا ہے.
بہت سارے لوگ اس امید پر جاتے ہیں کہ ہماری آواز صلاحیت سب بہت عمدہ ہے اور باہر چلنے ہی نہیں بلکہ دوڑنے کے لائق ہم ہیں اور وہاں ان منحوسوں کے پاس آدھے منٹ میں باہر کا راستہ دکھادیا جاتا ہے.تو بڑی مایوسی ہوتی ہے کہ کیا یار ہم کچھ پڑھے لکھے بھی ہیں یا جاہل ہیں.
کئی بار ان کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج بھی کیا گیا ہے.اور تتکال شہر چھوڑنے کیلیے پرزور آواز بھی اٹھائی گئی ہے.کئی ایک دفعہ تو وہیں انٹرویو کی جگہ ہی خوب ہنگامے مچے ہیں.
ملک کے مدارس ہمیں اسلئے نہیں تیار کرتے کہ علماء کے بالکل کریم اور باصلاحیت عدہ آواز کے مالک طبقے کو یہ نفس پرست چند روپیوں کے بدلے اچک لیجائینگے.
خدارا آپ کی اور ہماری ہمارے ملک کو ہی ضرورت ہے.ہم یہیں رہکر خدمت کریں.یہاں سے لیجاتے ہیں وہاں غیر مقلدیت پر عمل کرنے کیلئے مجبور کرتے ہیں.بیت الخلاء تک صاف کروایا جاتا ہے.یہاں تک کہ داڑھی تک سلامت نہیں رہ جاتی.
میں کہتا ہوں جب چند افراد کی ہی ضرورت ہوتی ہے تو دلی ممبئی حیدرآباد بنگلور مدراس کشن گنج اور نا معلوم کہاں کہاں پورے ملک سے چھانٹنے کی ضرورت ہے.یہ تعداد تو کسی ایک مدرسے سے مہیا ہوسکتی ہے.تو پھر پورے ملک کے علماء و حفاظ کو چند ٹکے کی لالچ میں ہراساں اور ذلیل کرنے کی کیا ضرورت ہے.
خدارا اپنے آپکو ذلیل نہ کریں.ہم اپنی عظمت اور قدر کو پہچانیں.میری ان باتوں کی وہ حضرات تائید کرینگے جو ایسی چھنٹائی اور انٹرویو کی مجالس میں شرکت کرچکے ہیں.
*آپ کا خیر خواہ حفظ الرحمن قاسمی بنگلور.*
Comments
Post a Comment