نوجوان نسل کی دین بیزاری
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*نوجوان نسل کی دین بیزاری*
فکری وتہذیبی ارتداد ،جدید نسل کا دین بیزار ہونا اور ہر طرف مرعوبیت کی فضا عام ہونا،نیز مادیت کے شکنجہ میں کس کر روحانیت وللہیت سے دست کش ہوجانا اور خدائے عزوجل کی جباریت وقہاریت اور رزاقیت کا معنوی طور پر انکار کرتے ہوئے؛ دوسروں کے در کا دست نگر بن جانا عام بات ہوگئی ہے،اسلامی فکر،اسلامی خد وخال اور شعائر دین کے تئیں تشکیکی ذہن رکھنا؛حتی کہ متواتر امور پر بھی نکتہ چینی کرنا؛بلکہ بسا اوقات نص قطعی پر ایسا ناواجبی اشکال داغ دینا؛ کہ کفر کا خطرہ ہوجائے، اور اس کے برعکس ادیان باطلہ کیلئے حق پرستی و انسان دوستی اور انسان پروری کا راگ الاپنا بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،چہار سو لازوال ہے،حقیقت و اسرار اور اعتماد کامل،صدق و یقین کو چھوڑ کر دیو مالائی،فوری نفع اور ذات پروری و خود پرستی کی فضا محیط ہے،نا امیدی و کسمپرسی،جسم وجان اور تقاضہ عقل و ہوس پر سر رکھ دیناان کا مذہب اور مقصد عالی ہوگیا ہے۔
*وہ حقیقت شناسی،دقیقہ سنجی، عزم واستقلال،ثابت قدمی،جہاد واجتہاد اور قربانی وایثار کے جذبہ نیک سے محروم ہوچکے ہیں،حقوق انسانی کیا ادا کرتے وہ تو خود اپنی حیثیت و ہستی سے فراموش ہوکر خدا فراموشی اور خدا بیزاری کے شکار ہوچلے ہیں،لذت پروری، اقتدار، عہدہ ومنصب اور ظاہری قوت وطاقت اور بے جا عزت ناموس کی حرص نے؛ بلکہ جوع البقر ہونے نے انہیں کہیں نہ چھوڑا،ان کا لمحہ لمحہ کتاب وسنت اور دین مخالف معصیت و سرکشی اور ظلم وزور دستی کی کہانی ہے اور انہیں کے تعاون سے اپنی پیشانی داغدار کر چکے ہیں، علمائے حق سے محبت، دیندار، متقی اور متدین طبقہ سے شغف؛ ان کے دلوں میں نہ رہی؛بلکہ ان کے ساتھ استہزا، ہتک ریزی،الزام تراشی، حرف گیری اور کمتر و حقیر سمجھنے نیز انہیں اپنی محفلوں اور پروگراموں کے لائق نہ سمجھتے ہوئے، ذلت وحقارت کی نگاہ ان پر گڑائے رکھنا ہی ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔*
اس امت کے نوجوان کبھی ایثار وقربانی اور جذبہ و اطاعت اور سرفروشی سے معمور ہوتے تھے،بلکہ کم عمری ہی میں اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں لٹا دینے پر بضد ہوکر ایڑیوں کے بل اپنا قد اونچا کر لیتے یا کسی کو دعوت مبارزت دیدیتے یا چھپ چھپاکر بڑوں کی صفوں میں ضم ہوجاتے اور میدان کارزار میں جام شہادت نوش کر کے ہی دم لیتے تھے،ان کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اساس دین کی محبت کے ساتھ ان کے متعلق ادنی افراد سے بھی جان توڑ لگاو رکھتے تھے،وارثین انبیاء کو سر آنکھوں پر بٹھانا اور ان کی جوتیاں سیدھی کرنا اور ان کے چشم ابرو پر اپنی جان تک نچھاور کردینا ان کا شیوہ ہوتا تھا،اسلام مخالف کوئی بھی سمت انہیں اپنی طرف راغب نہ کر پاتی تھی،وہ جہاں جاتے زمانہ ان کی قدموں میں ہوتا تھا،دنیا ومافیھا ان کے سامنے لونڈیوں کی طرح قطار میں کھڑی رہتی تھی،نہ ان کو کوئی حسن رجھا پاتا نہ کوئی منصب اور نہ کوئی سراب کیونکہ وہ خود؛ خمار الہی میں مخمور ہوتے تھے،اور اسی کے جام جم میں غوطہ لگائے ہوتے تھے،اسی کیلئے ان کی صبح کی تگ ودو اور رات کی کروٹیں ہوتی تھیں۔
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment