کیا ہم ایسے نشاة ثانیہ کے دعویدار ہیں ؟!

صدائے دل ندائے وقت

   *کیا ہم ایسے نشاة ثانیہ کے دعویدار ہیں ؟!*

     *جہل انسانی زندگی کیلئے ہلاکت و خطرناکی کا باعث ہے،علم اگر ہدایت و نور ہے،اور اس کی شمع سے محفل انسانی میں رونق ہے،تو جہالت اس کیلئے موت قبل الموت اور حشر قبل الحشر ہے،یہ روح کو کم مایہ اور جان کو بے قیمت بنا دیتی ہے،شیطانیت کا ہمسایہ اور اس کی رفاقت کا اعزاز بخشتی ہے،اور خدا عزوجل کی یاد اور اس کی پکار پر لبیک کہنے سے عاری کردیتی ہے،علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ایسے  لوگوں "الحيوانية المحضة"(مفتاح دارالسعادة:۷۸)سے تعبیر کیا ہے،اور ان کی زندگی کے صبح و شام کو جانوروں کے روٹین و معمول سے تشبیہ دی ہے،اسی لئے شاعر حکیم نے بھی کہا ہے:*
ادب (علم) سے ہی انسان انسان ہے
جو ادب نہ سیکھے وہ حیوان ہے
   اسلام نے روز اول سے انسانی ادب وعلم کی طرف خصوصی توجہ دی ہے،وحی اول تو بہر حال تعلیم انسانی ہی سے معمور ہے،اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ بدر کے قیدیوں پر علم کو ہی فدیہ قرار دے دینا اور اس سلسلے میں متعدد احادیث کا وارد ہونا اس بات کی صریح دلیل ہے؛ کہ مسلمان کا جہل سے کوئی تعلق نہیں، وہ علم کا پروردہ اور اس کا شیدا ہے،مسلمانوں کے عروج وزوال میں علم کو ایک مقام حاصل رہا ہے؛اور اس فریضہ سے انہوں نے کبھی روگردانی نہیں برتی؛لیکن گزشتہ تقریبا ڈیڑھ صدیوں سے مسلمانوں کی علمی ساخت میں گراوٹ اور اس کے تئیں لاپرواہی اور اس کی وجہ سے تنزلی کا دور دوراں ہے، اگرچہ کسی مریض شخص کو آلہ تنفس پر زندہ رکھنے کے مثل دو چند کوششیں بھی جاری ہیں، اور رہ رہ کر اس میدان میں نشاة ثانیہ کی صدا بلند کی جارہی ہے؛مگر افسوس کے ساتھ "چھوٹا منہ بڑی بات" ہی سہی؛یہ کہنا پڑتا ہے؛ کہ آج بھی ہمارا تعلیمی ڈھانچہ نسل اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔
   *حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف جہان یوروپ اور مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیمی لیاقت اور تحقیقات وانکشافات میں صدیوں کی مسافت سالوں میں اور سالوں کی ہفتوں میں طے کی جارہی ہیں،سول سروسز اور اعلی عہدوے کی وہ زینت بنے ہوئے ہیں،خیر وشر میں نمائندگی کا مقام حاصل کر رکھا ہے، تو وہیں ہمارے ادارے اور ان کے طلباء اور پھر انتظامیہ (کسی حد تک عمومی ادارے اور بہت حد تک دینی ادارے) کا حال زار وقطار ہے،ان میں طلبہ کی پرداخت گویا کسی سرایہ یا یتیم خانہ میں پرورش پانے اور ایک خاص مدت معلوم کی تکمیل کر کے؛پھر وہی مدرسی و خطابت،مکاتب و ٹیوشن اور امامت نیز دو چند ٹکوں کی خاطر رسوائی و ذلت کی بھٹی میں پکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا،نہ ان کی (عموما) صلاحیت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے؛ کہ بہتی رو کو روک نہ سکیں تو کم ازکم موڑ دیں ،یا نہ ان کے حالات انہیں اس کی اجازت دیتے ہیں ؛کہ وہ کسی عالمی خدمت و مصلحت کا کام کر کے امت اسلامیہ کے حق میں گراں قدر کارنامہ انجام دیں، اس کے باوجود دنیا و آخرت کی فلاح کا ذمہ اپنے سر لئے پھرنا اور امت کی کسمپرسی پر نئی تحریک کا دعوی کرنا اور کسی تجدید کا سرے سے انکار کرتے ہوئے اپنے ہی خول کو سنوارے رکھنا کون سی عقلمندی اور کس شعور کی علامت ہے اور کونسی نشأة ثانیہ کا پتہ ہے؟*

     ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح