میرے خون سے لکھنا اے ایم یو، میرے کفن پر لکھنا اے ایم یو
’’میرے خون سے لکھنا اے ایم یو، میرے کفن پر لکھنا اے ایم یو‘‘
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء اپنے مطالبات پر اٹل
احتجاج پانچویں دن بھی جاری، ملک بھر کی ممتاز شخصیات اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء کی جانب سے حمایت کا اعلان
جناح کی تصویر ہٹانی ہے تو مرکزی حکومت لکھ کر دے: محمد فہد
علی گڑھ۔۶؍مئی (نمائندہ خصوصی اور ایجنسیاں) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی موجودگی میں بھگوا شدت پسندوں کی مسلح دہشت گردی کے خلاف طلبا کا احتجاج پانچویں روز بھی مشکور احمد عتمانی (صدر طلبہ یونین اے ایم یو) سجاد سبحانی راٹھر (نائب صدر طلبہ یونین اے ایم یو)، محمد فیض (سکریٹی طلبہ یونین اے ایم یو) کی قیادت میں جاری ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران وہاں جاکر طلباء کی حمایت کررہے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلبا سراپا احتجاج بنے ہوئے ۔ طلبا اے ایم یو، میری جان اے ایم یو، سب کی جان اے ایم یو، ہم مرجائیں گے اے ایم یو، ہم لڑ جائیں گے اے ایم یو، ہم چھین کے لیں گے اے ایم یو، تم لاٹھی مارو اے ایم یو، تم جیل میں ڈالو اے ایم یو، ہے حق ہمارا اے ایم یو،ہے جان سے پیارا اے ایم یو، اے ایم یو لالہ امرناتھ، اے ایم یو ذاکر حسین، اے ایم یو دھیان چند، اے ایم یو ظفر اقبال، آزاد تھا اے ایم یو ، تو آزاد ہے ، آباد ہے، آزاد رہے گا آباد رہے گا اے ایم یو، ہندوستان کی جان اے ایم یو، میرے خون سے لکھنا اے ایم یو، میرے کفن میں لکھنا اے ایم یو، آزادی ملے گی اے ایم یو، چڑھتا سورج اے ایم یو، سورج کی کرنیں اے ایم یو، ایک بہتا دریا اے ایم یو، ہم لے کر رہیں گے آزادی، بھگوا آتنک سے آزادی، بی جے پی سے آزادی، آر ایس ایس سے آزادی جیسے فلک شگاف نعرے لگارہے تھے۔ مشکور احمد عثمانی صدر طلبایونین نے ’ممبئی اردو نیوز‘ کو بتایا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرلیے جاتے اور بھگوا شدت پسندوں پر کارروائی نہیں کی جاتی ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اور پولس نے دولوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری حمایت میں آج جے این یو کے سابق طلبا یونین صدر موہت پانڈے، سابق طلبہ یونین سکریٹری تبریز احمد، ہبا احمد وائی ڈی ایف (جے این ایو) یہاں موجود ہیںاور دہلی یونیورسٹی کے بھی طلبا ہماری حمایت میں آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ احتجاج خاص ہے اس احتجاج میں انتظامیہ نے ہماری آواز کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کردی تھی لیکن علی گڑھ کے سپوت اپنے مطالبات پر سینہ سپر ہیں، انہوں نے کہاکہ طلبا ء پور ے دن دھوپ میں بیٹھے رہتے ہیں ، یہاں کے ہندو بھائی ہمارا تعاون کررہے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک طالب علم عبداللہ علیگ نے بتایا کہ ابھی تک ۱۵؍ممالک سے اولڈ بوائز نے طلباکے احتجاج کی حمایت کا لیٹر بھیجا ہے۔ ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں بھی احتجاج جاری ہےجنکے کے طلبا مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے احتجاج کی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنارس ہندو یونیورسٹی، لکھنو یونیورسٹی اور کانپور یونیورسٹی سے طلبا یہاں آکر ہماری حمایت کررہے ہیں۔ علی گڑھ کے ایک اور طالب علم ولی اللہ علیگ نے بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ کے وکلا اور ججز نے بھی یہاں آکر ہماری حمایت کی ہے جو یہاں کے سابق سیکریٹری اور صدر تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران علی اشرف فاطمی ، پپو یادو، اعظم گڑھ سے نورالہدی، اور مسلم لیگ کے لیڈران نے یہاں آکر ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اے ایم یو طلبہ یونین کے سکریٹری محمد فہد نے کہا کہ ہم کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہٹائیں گے، جناح کی تصویر ہٹانے کے لئے مرکزی حکومت کو لکھ کر دینا ہوگا۔ عہدیداروں کے مطابق مسلم یونیورسٹی کیمپس میں لگی محمد علی جناح کی تصویر کو لے کر پیش آئے تشدد کے متعلق عدالتی جانچ کا حکم دیاگیا ہے۔ ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ بچوسنگھ یہ جانچ کریں گے جس کی رپورٹ پندرہ دن میں داخل کردی جائے گی۔سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ضمیر الدین شاہ نے بھی اپنے ویڈیو بیان کے ذریعہ طلبا کے احتجاج کی حمایت کی ہے اور عمومی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو ٹھنڈے دماغ سے حل کیا جاناچاہئے۔ اتوار کو ہندو جاگرن منچ کے طلبہ نے جناح کی تصویر ہٹانے کو لے کر علی گڑھ میں ریلی نکالی ۔ سیکورٹی کے پیش نظر علی گڑھ میں کثیر تعداد میں سیکورٹی فورسیز کو تعینات کیا گیا ہے ۔ اس ریلی کے دوران ایس ایم بی انٹر کالج کے باہر پولیس اور طلبہ کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی ، جس کے بعد متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا ۔قبل ازیں ہفتہ کو شہر کے ایک کالج کے واش روم میں پاکستانی کے بانی جناح کی تصویریں چسپاں ملی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ نامعلوم لوگوں نے ڈی ایس کالج کے مرد وں کے واش روم میں جگہ جگہ جناح کی تصویریں چسپاں کردی تھیں ۔ صفائی ملازمین جب ہفتہ کی صبح وہاں پہنچے تو ان کی اس پر نظر پڑی اور انہوں نے افسروں کو اس کی خبر دی۔ اطلاع ملتے ہی کالج انتظامیہ فورا حرکت میں آگئی اور تصویروں کو وہاں سے ہٹادیا۔ طلبا یونین اور ضلع انتظامیہ کے مابین صلح کی کوشش ناکام رہنے کے بعد آج پھر شروع ہوئی بات چیت بے نتیجہ رہی اور طلبا مسلسل پانچویں دن مظاہرہ پر بیٹھے رہے۔علی گڑھ کے ڈویزنل کمشنر اجے دیپ سنگھ نے یو این آئی سے بات چیت میں اعتماد کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کے ذریعہ کی جارہی کوشش کا مثبت نتیجہ نکلنا چاہئے حالانکہ اے ایم یو کے رابطہ عامہ کے ممبر انچارج شافع احمد قدوائی کا کہنا ہے کہ طلبا کادھرنا ختم کرانا انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔مسٹر قدوائی نے کہاکہ طلبا کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کمیپلکس میں تشدد کرنے والوں پر قومی سلامتی ایکٹ لگایا جائے۔ طلبا پر لاٹھی چارج کرنے والے پولیس حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلبا کے خلاف درج معاملات واپس لئے جائیں۔دوسری طرف ضلع میں احتیاطاََ ملتوی انٹرنیٹ خدمات بحال ہوگئیں۔محمد علی جناح کی تصویر کو موضوع بناکر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف ایک سازش رچی جارہی ہے اور اسے مذہب کا رنگ دے کر سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔علما اوردانشوروں کا کہنا ہے کہ جناح سے ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں، اس لئے دیش بھکتی کے چولے میں نظر آنے والے فرقہ پرستوں کوکوئی بھی قدم اٹھاتے وقت ہندوستان کے آئین ودستور اور اس ملک کی خوبصورت تہذیب کو نظر میں رکھنا چاہئے۔گزشتہ چار سال میں ایسے کئی موقع آئے ہیں جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقار وشناخت پر حملے ہوئے ہیںاور اس مشہور زمانہ تعلیمی مرکزکو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا خالد رشید کے مطابق جناح کی تصویر کا حالیہ معاملہ بھی اسی ایک سازش کا شاخسانہ ہے ، جو اس اہم یونیورسٹی کے خلاف رچی گئی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کی تقدیر لکھی جانی چاہئے تھی، اہل سیاست تصویر پرلڑرہے ہیں۔ سیاست کے اس رخ سے چند شدت پسند اور فرقہ پرست لوگوں کو تو فائدہ ہوسکتاہے ، لیکن ملک کے لئے ایسے سیاسی رویے قطعی مناسب نہیں ہیں۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi
Comments
Post a Comment