ہاں میں راہل گاندھی ہوں۔۔۔!

ہاں میں راہل گاندھی ہوں۔۔۔!

نازش ہما قاسمی (ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لا ئن)

ہاں میں راہل گاندھی ہوں، جی راہل گاندھی۔جی جی وہی راہل گاندھی جسے  ہندوستان کا مستقبل کا وزیراعظم کہا جارہا ہے۔ وہی راہل گاندھی جو جنگ آزادی ہند میں حصہ لینے والی جماعت کانگریس کا موجودہ صدر ہے۔ میری پیدائش ۱۹؍جون ۱۹۷۰ کو دہلی میں ہوئی۔ میرے والد کا نام راجیو گاندھی ہے جنہیں چنئی میں فرقہ پرستوں نے موت کی نیند سلادیاتھا، میری دادی کا نام اندرا گاندھی ہے جو ہندوستان کی قد آور شخصیات اور بااختیار وزیر اعظم رہی ہیں انہیں بھی فرقہ پرستوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ میری والدہ محترمہ کا نام سونیا گاندھی ہے اور میری بہن کا نام پرینکا گاندھی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم دہلی میں ماڈرن اسکول اور دون اسکول میں ہوئی، پھر سینٹ اسٹیفن کالج میں تعلیم حاصل کیا اور اس کے بعد بیرون ممالک علم معاشیات کی تعلیم کے لیے چلاگیا اور وہاں سے ڈگریاں حاصل کیں۔میں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ۲۰۰۴ میں میں امیٹھی لوک سبھا حلقہ سے ممبرپارلیمنٹ منتخب ہوا ، ۲۰۰۷ میں کانگریس کا جنرل سکریٹری بنایاگیا اور ۲۰۱۳ میں نائب صدر کے عہدے پر براجمان ہوا پھر ۲۰۱۷ کے آخر میں والدہ محترمہ اور سینئر کانگریسی رہنمائوں کے ایما پر کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالا۔
ہاں میں وہی راہل گاندھی ہوں جسے زعفرانی جماعت کے افراد نے ’پپو‘ کا خطاب دیا۔ وہ شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ پپو کے ذریعے اس کی جگ ہنسائی کرکے اسے چھوٹا ثابت کردیں گے؛ لیکن میں اپنے اعلیٰ خاندان، اعلیٰ نسبت کی وجہ سے ان سب باتوں سے بے پرواہ ہوکر فرقہ پرستوں سے لڑتا رہا اور لڑرہا ہوں۔ ابھی میرا مشن ۲۰۱۹ میں بی جے پی کو اقتدار سے دور کرنا ہے۔ اس کے لیے میں نے کوششیں تیز کردی ہیں۔ ملک کے لاکھوں بے روزگار نوجوان کی نگاہیں میری جانب اُٹھ رہی ہیں، انہیں آس ہے، امید ہے،وہ جو ٹھگے گئے ہیں پھینکوں کے ذریعے، پندرہ لاکھ کی آس، امید چھوڑ کر کانگریس صدر کے ناطے مجھ سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں میں ان کی لڑائی لڑرہا ہوں، انہیں روزگار مہیا کرانے کا وعدہ کررہا ہوں،اور اقتدار میں آکر میں انہیں روزگار بھی مہیا کرائوں گا یہ کانگریس کی عادت رہی ہے کہ اس نے جو بھی وعدے کئے وہ پورے کئے۔ ہاں مسلمانوں سے جو بھی وعدہ کیا اسے بہت کم پورا کیا؛ لیکن میں کانگریس کی اس شبیہ کو بھی اس الیکشن میں بہتر بنانے کی کوشش کروں گا؛ تاکہ ناراض مسلمان راضی ہوجائیں اور فرقہ پرستو ں کو جڑ سے اکھاڑنے میں میرا تعاون کریں۔ ہاں میں وہی راہل گاندھی ہوں جس نے کسانوں کی حمایت کی۔ انہیں ان کے حقوق دلانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ ملک بھر میں ہورہے زنا بالجبر کے  خلاف آوازیں اُٹھائیں، زعفرانی پارٹی کے ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہاں میں وہی راہل گاندھی ہوں جو وزیر اعظم نریندر مودی کے سوالات کا جواب دیتا ہوں، انہیں ہر جگہ گھیرتا ہوں، ان کی ناکامیوں کو گِنواتا ہوں، انہیں کسوٹی پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ان پر طنز کرتا ہوں۔ ہاں میں وہی راہل گاندھی ہوں جس نے گجرات میں بی جے پی کو ناکوں چنے چبوائے اور اب کرناٹک میں پوری بی جے پی کابینہ ایک طرف اور میں اکیلا ایک طرف انہیں گھیرے ہوا ہوں، عوام کو بی جے پی کی چالبازیوں سے ہوشیار کررہا ہوں،  انہیں مستقبل کے ہندوستان کا واسطہ دے کر بہترین سیاسی جماعت جو وعدے پورے، جو روزگار مہیا کرائے، جو کسانوں کی دلجوئی کرے، جو کمسن بچیوں کا محافظ بنے انہیں ووٹ دلانے کا کہہ رہا ہوں؛ لیکن فرقہ پرست مضبوط ہیں ، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، صحافی سبھی بکے ہوئے ہیں، میرے سوالات چھوڑ کر مودی جی کی الٹی سیدھی باتیں دکھا کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں؛ لیکن اب عوام بھی ان سب باتوں سے اوب چکی ہے، انہیں بھی مستقبل کی فکر ہے اور میں پرامید ہوں کہ کرناٹک میں ان کے ناٹک پر کیل ٹھونکوں گا اور ۲۰۱۹ کے لیے اس الیکشن کو تازیانہ بنائوں گا۔ مجھے سیکولر عوام چاہئے وہ سیکولر عوام جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بحالی کے لیے فرقہ پرستوں کو کھدیڑ دے، مجھے امید ہے فرقہ پرستوں کی تعداد کم ہے۔ سیکولر عوام کی تعداد زیادہ ہے۔ ماضی میں جو غلطیاں کانگریس سے ہوئی ہیں انہیں میں نہیں دہرائوں گا، اچھا کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہاں میں وہی راہل گاندھی ہوں جس نے بی جے پی کو ہرانے کے لیے اترپردیش میں سماج وادی پارٹی سے اتحاد کیا تھا؛ لیکن میں ناکام رہا ، اگر یہ اتحاد عین وقت سے بہت پہلے  کیاجاتا تو شاید کامیاب رہتا؛ لیکن ناکامی کیوجہ اتحاد نہیں تھی، ناکامی کی وجہ سماج وادی کے دور اقتدار میں مظفر نگر فسادات تھے اور کانگریس کی سرد مہری تھی اگر ہم اس وقت مسلمانوں کا تعاون کیے ہوتے ان کے زخم پر مرہم لگائے ہوتے تو شاید اترپردیش ہمارے ہاتھ سے نہ جاتا؛ لیکن کیا کریں سیاسی مجبوری کے تحت ہمیں یہ کرنا ہوتا ہے جہاں ہمیں مسلم ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں ہمیں ہندو ووٹوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لیے میں نے گجرات میں نرم ہندو توا کا کارڈ کھیلا؛ لیکن اس میں بھی ناکام رہا، پے درپے ناکامی کے بعد اب میرے ذہن میں یہ خیال آیا ہے کہ ہندو مسلم یہ سیاست تو بی جے پی کرتی ہے اگر میں بھی ہندو مسلم کیا تو کبھی نہیں جیت پائوں گا؛ اس لیے سیکولرعوام کا نعرہ دے کر ، ترقی کا نعرہ دے کر موجودہ حکومت کی ناکامیوں کو بتا کر بطور ہندوستانی شہری سبھی سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کی سالمیت کے لیے، ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں اور زعفرانی طاقتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ گاندھی کے قاتلوں کی جماعت کو منہ توڑ جواب دیں۔ اور مجھے امید ہے ۲۰۱۹ میں ایسا ہی ہونے والا ہے۔ اگر ا یسا ہوگیا تو گرتی معیشت پر قابو پانے کی کوشش کروں گا، مسلمانوں کے ساتھ تعصب والا رویہ نہیں اپنائوں گا، آنجہانی جسٹس سچر کی رپورٹ پر نظر ثانی کروں گا اور اسے عملی جامہ پہناؤں گا۔ برسوں سے پچھڑی جماعت دلتوں کو ان کے حقوق دلائوں گا۔ اور اگر ناکام ہوا تو مستقبل کے ہندوستان کا ’بھگوان‘ محافظ۔
جے ہند۔
۔۔۔منکووووووول۔۔۔

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن