ہاں میں یشونت سنہا ہوں۔۔۔!
ہاں میں یشونت سنہا ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
ہاں! میں یشونت سنہا ہوں، جی ہاں وہی یشونت سنہا جو سابق وزیر خزانہ وسابق وزیر خارجہ رہا ہے ۔ میں بی جے پی کا اہم و سینئر لیڈر تھا۔ میری پیدائش آزادئِ ہند سے دس سال قبل ۶؍نومبر بعض تاریخ کے مطابق ۱۵؍جنوری ۱۹۳۷ کو بہار کی راجدھانی پٹنہ میں کائستھ خاندان میں ہوئی۔ ۱۹۵۸ میں شعبہ سیاسیات سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد پٹنہ یونیورسٹی میں ۱۹۶۰ تک اسی موضوع پر تعلیم دی۔۱۹۶۰ میں بھارتیہ انتظامی خدمات سے منسلک ہوا ۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں جے پرکاش نارائن کی تحریک سے میں بہت متاثر ہوا ۔ ۱۹۸۴ میں جنتا پارٹی میں شامل ہوگیا۔ ۱۹۸۶ میں پارٹی نے مجھے جنرل سکریٹری بنایا اور ۱۹۸۸ میں میں راجیہ سبھا کا ممبر منتخب کیاگیا۔ ۱۹۹۰۔۱۹۹۱ کے دوران چندرشیکھر حکومت میں وزیر خزانہ رہا۔ ۱۹۹۶ میں مجھے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ترجمان منتخب کیاگیا، اور اٹل بہاری حکومت میں میں وزیر خزانہ پھر ۲۰۰۴ میں وزیر خارجہ رہا۔ ۲۰۰۵ میں میں ممبر پارلیمنٹ بنا اور ۲۰۰۹ میں بی جے پی کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے بی جے پی میں رہ کر اپوزیشن کا کردار نبھایا۔ ہمیشہ ان کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی۔ ان کی غلط روش پر ٹوکا۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی مالی بدنظمی، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خراب طریقے سے نفاذ نے ہندوستانی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جب یوپی کے وزیر اعلیٰ نوٹ بندی کے فوائد گنوا رہے تھے تو میں گجرات میں عین الیکشن کے دوران وہاں جاکر مودی حکومت کی قلعی کھول رہا تھا اور مودی حکومت کے نوٹ بندی فیصلے کو تغلقی فیصلہ بتایا تھا۔ میرے گجرات جانے سے بی جے پی کو کوئی نقصان تو نہیں ہوا ہاں البتہ کانگریس کی کچھ شبیہ اچھی بن گئی اور ہوسکتا ہے آئندہ الیکشن میں کامیابی بھی مل جائے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جب راشٹریہ منچ بنانے کا اعلان کیا تو میرے سا تھ ہندوستان میں قومی یکجہتی پھر سے پیدا کرنے کے لیے شتروگھن سنہا سمیت کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی اور مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کسانوں نے تعاون کیا؛ تاکہ ایک سیکولر سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب بحال کی جاسکے جو ان دِنوں ملک سے ناپید کی جارہی ہے، نفرتوں کا بازار گرم ہے۔پورے ملک میں انارکی پھیلی ہوئی ہے، برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ پیارو محبّت سے رہنے والے لوگ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔
ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش کے تحت پٹنہ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج ملک کی صورتحال تشویشناک ہے، جو کچھ ہورہا ہے اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جو اسی پروگرام میں بی جے پی سے علاحدہ ہونے کا اعلان کیا، جس پر بی جے پی کے ترجمان انیل بیلونی نے کہا تھا کہ میری تحریروتقریر سے واضح تھا کہ میں بی جے پی کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا، میرا رویہ کانگریسی لیڈروں جیسا رہا ہے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے مودی حکومت کی اقتصادی ناکامی کو گِنوایا تو پی چدمبرم نے کہا تھا کہ میں نے سچائی کوملک کے عوام کے سا منے ظاہر کیاہے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جو سابق ایم پی سید شہاب الدین کے دوستوں میں سے ہوں، جب میں نے بی جے پی جوائن کیا تھا تو میری اچھی شبیہ اور سمجھدار شخصیت اور ایماندار ہونے کی وجہ سے وہ کافی ناراض ہوئے تھے اور انہوں نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’یشونت سنہا جیسے سیکولر شخض کا بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی میں شمولیت اختیار کرلینا کسی بڑے سانحے سے کم نہیں‘۔
ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس پر بی جے پی الزام لگاتی ہے کہ کانگریس مجھے استعمال کررہی ہے، میں اس کا کٹھ پتلی ہوں؛ حالانکہ میں بی جے پی کا رکن تھا۔ اٹل بہاری واجپائی جیسے سیکولر ذہن کی شخصیت کا حامی تھا میں بی جے پی میں ان کی اچھی شبیہ کی وجہ سے اور اپنی قربانیوں کی وجہ سے اب تک موجود تھا؛ لیکن جب دیکھا کہ یہ پارٹی واقعی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، یہ صرف لڑانا جانتی ہے ملک کے شہریوں کو بانٹنا جانتی ہے، نفرت کے سوداگروں کی اس پارٹی میں اکثریت ہے۔ ترقی، روزگار، بنیادی سہولیات ، عورتوں کے تحفظ ، بچیوں کے استحصال کی روک تھام میں ناکام ہے تو میں نے پھر استعفیٰ دے دیا اور پارٹی سے علاحدگی اختیار کرلی ۔ میں ان لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں جو بی جے پی میں رہتے ہوئے گٹھن محسوس کررہے ہیں وہ بھی نکل جائیں تو بہتر ہوگا نہیں تو سینئر رہتے ہوئے جونیئروں کی چاپلوسی کرتے رہنا ہوگا، اپنی بے عزتی کرانی ہے تو موجود رہیں اور ملک کا کباڑا ہوتے دیکھیں۔ اچھا ہوگا کہ آپ نکل جائیں، اور ملک کے مفاد کے لیے علاحدہ ہوکر کام کریں؛ تاکہ اپنا ملک سلامت رہے۔ جہاں مندر کے شنکھ پر نہ کوئی ہنگامہ ہو اور نہ ہی مسجد کی اذانوں پر کوئی واویلا ہو، یہی اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب،، رہی ہے اس تہذیب کی بقا کے لیے آگے آئیں اور ہمارا تعاون کریں۔۔۔!
۔۔۔منکووووووول۔۔۔
ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے بی جے پی میں رہ کر اپوزیشن کا کردار نبھایا۔ ہمیشہ ان کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی۔ ان کی غلط روش پر ٹوکا۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی مالی بدنظمی، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے خراب طریقے سے نفاذ نے ہندوستانی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جب یوپی کے وزیر اعلیٰ نوٹ بندی کے فوائد گنوا رہے تھے تو میں گجرات میں عین الیکشن کے دوران وہاں جاکر مودی حکومت کی قلعی کھول رہا تھا اور مودی حکومت کے نوٹ بندی فیصلے کو تغلقی فیصلہ بتایا تھا۔ میرے گجرات جانے سے بی جے پی کو کوئی نقصان تو نہیں ہوا ہاں البتہ کانگریس کی کچھ شبیہ اچھی بن گئی اور ہوسکتا ہے آئندہ الیکشن میں کامیابی بھی مل جائے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جب راشٹریہ منچ بنانے کا اعلان کیا تو میرے سا تھ ہندوستان میں قومی یکجہتی پھر سے پیدا کرنے کے لیے شتروگھن سنہا سمیت کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی اور مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کسانوں نے تعاون کیا؛ تاکہ ایک سیکولر سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب بحال کی جاسکے جو ان دِنوں ملک سے ناپید کی جارہی ہے، نفرتوں کا بازار گرم ہے۔پورے ملک میں انارکی پھیلی ہوئی ہے، برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ پیارو محبّت سے رہنے والے لوگ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔
ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش کے تحت پٹنہ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج ملک کی صورتحال تشویشناک ہے، جو کچھ ہورہا ہے اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے تو آنے والی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جو اسی پروگرام میں بی جے پی سے علاحدہ ہونے کا اعلان کیا، جس پر بی جے پی کے ترجمان انیل بیلونی نے کہا تھا کہ میری تحریروتقریر سے واضح تھا کہ میں بی جے پی کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا، میرا رویہ کانگریسی لیڈروں جیسا رہا ہے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس نے مودی حکومت کی اقتصادی ناکامی کو گِنوایا تو پی چدمبرم نے کہا تھا کہ میں نے سچائی کوملک کے عوام کے سا منے ظاہر کیاہے۔ ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جو سابق ایم پی سید شہاب الدین کے دوستوں میں سے ہوں، جب میں نے بی جے پی جوائن کیا تھا تو میری اچھی شبیہ اور سمجھدار شخصیت اور ایماندار ہونے کی وجہ سے وہ کافی ناراض ہوئے تھے اور انہوں نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ ’یشونت سنہا جیسے سیکولر شخض کا بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی میں شمولیت اختیار کرلینا کسی بڑے سانحے سے کم نہیں‘۔
ہاں میں وہی یشونت سنہا ہوں جس پر بی جے پی الزام لگاتی ہے کہ کانگریس مجھے استعمال کررہی ہے، میں اس کا کٹھ پتلی ہوں؛ حالانکہ میں بی جے پی کا رکن تھا۔ اٹل بہاری واجپائی جیسے سیکولر ذہن کی شخصیت کا حامی تھا میں بی جے پی میں ان کی اچھی شبیہ کی وجہ سے اور اپنی قربانیوں کی وجہ سے اب تک موجود تھا؛ لیکن جب دیکھا کہ یہ پارٹی واقعی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، یہ صرف لڑانا جانتی ہے ملک کے شہریوں کو بانٹنا جانتی ہے، نفرت کے سوداگروں کی اس پارٹی میں اکثریت ہے۔ ترقی، روزگار، بنیادی سہولیات ، عورتوں کے تحفظ ، بچیوں کے استحصال کی روک تھام میں ناکام ہے تو میں نے پھر استعفیٰ دے دیا اور پارٹی سے علاحدگی اختیار کرلی ۔ میں ان لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں جو بی جے پی میں رہتے ہوئے گٹھن محسوس کررہے ہیں وہ بھی نکل جائیں تو بہتر ہوگا نہیں تو سینئر رہتے ہوئے جونیئروں کی چاپلوسی کرتے رہنا ہوگا، اپنی بے عزتی کرانی ہے تو موجود رہیں اور ملک کا کباڑا ہوتے دیکھیں۔ اچھا ہوگا کہ آپ نکل جائیں، اور ملک کے مفاد کے لیے علاحدہ ہوکر کام کریں؛ تاکہ اپنا ملک سلامت رہے۔ جہاں مندر کے شنکھ پر نہ کوئی ہنگامہ ہو اور نہ ہی مسجد کی اذانوں پر کوئی واویلا ہو، یہی اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب،، رہی ہے اس تہذیب کی بقا کے لیے آگے آئیں اور ہمارا تعاون کریں۔۔۔!
۔۔۔منکووووووول۔۔۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi

Comments
Post a Comment