ہاں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں۔۔۔!

ہاں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں۔۔۔!

نازش ہما قاسمی

ہاں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں، جی علی گڑھ ’مسلم‘ یونیورسٹی۔ درست پڑھا ٰآپ نے.... جی وہی مسلم یونیورسٹی جو شہر علم وفن، شہر تہذیب وثقافت علی گڑھ اترپردیش(انڈیا) میں موجود ہے۔ میرا قیام دور اندیش انسان، وقت کے مفکر اور مولانا مملوک علی کے شاگرد رشید سر سید احمد خان علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ۱۸۷۵ میں  ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی صورت میں عمل میں آیا اور ۱۹۲۰میں مجھے یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ میں ہندوستان کی عظیم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہوں۔ میرا ماضی تابناک رہا  ہے۔حال بھی روشن ہے اگر چہ اس پر خطرات کے سیاہ بادل منڈلارہے ہیں اور شاندار مستقبل کے لیے کوشاں ہوں۔ ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جس نے آزادئِ ہند کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر جیسے جیالے پیدا کئے، جس نے آزادئ ِہند کے ہیرو مولانا محمد شوکت علی کو پروان چڑھایا۔ ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جہاں سے انقلابی شاعر جاں نثار اختر پیدا ہوئے اور وہیں سے  ان  کے فرزند جاوید اختر نے بھی تعلیم حاصل کی۔ ہاں میں وہی مسلم یونیورسٹی ہوں جس نے حسرت موہانی جیسا عظیم شاعر، عظم صحافی اور عظیم مفکر دیا، جس نے خان عبدالغفار جیسا بہادر انسان دیا، جس نے ذاکر حسین جیسا سیاست داں دیا، جس نے سعادت حسن مَنٹو جیسا عظیم افسانہ نگار دیا، جس نے ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن اسدالدین اویسی کے والد محترم سلطان صلاح الدین اویسی کو علم وہنر سکھایا۔ ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جہاں سے کیفی ا عظمی نکلے، جہاں سے نصیر الدین شاہ بادشاہ بنے، جہاں سے مفتی محمد سعید جیسے بے باک سیاست داں پیدا ہوئے، جہاں سے مشتاق احمد یوسفی جیسا طنز ومزاح کا امام پیدا ہوا۔ جہاں سے لالہ امرناتھ کرکٹ کا شہسوار پیدا ہوا، جہاں عصمت چغتائی جیسی مصنفہ پروان چڑھی، جہاں سے شکیل بدایونی جیسے شاعر نے دنیا کو فیضیاب کیا۔ ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جس کی عظمت کا گواہ وطن کا ذرہ ذرہ ہے۔ میں نے ہندوستانی مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تحریکیں چلائیں۔ ابتداء میں مجھ پر طنز کیا گیا، انگریزوں کو سلامی پیش کرنے والی یونیورسٹی کہا گیا؛ لیکن میں ان سب سے بے پرواہ ہوکر ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے لیے کوشاں رہی۔ جدوجہد کرتی رہی، جہدِ پیہم اور سعیِ مسلسل کے ذریعے اس حد تک چلی گئی کہ فرقہ پرست مجھ سے خوف کھانے لگے، میرے عزائم سے ڈر کر  مسلم یونیورسٹی سے لفظ ’مسلم‘ہٹانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ گاندھی کو قتل کرنے والے گوڈسے کی اولادوں کی آنکھوں میں مَیں ہمیشہ کھٹکتی رہی۔ فرقہ پرستوں نے میرے راستے میں ہمیشہ روڑے اٹکائے؛ لیکن میں ان سب سے بے پرواہ ہو کر اپنا کام کرتی رہی اور مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اس قابل بناکر دَم لیا کہ وہ سرکاری عہدوں پر براجمان ہوسکیں، صدرجمہوریہ بن سکیں، وزیر اعلیٰ بن سکیں۔
ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جس نے شیخ الہند مولانامحمود حسن دیوبندی علیہ الرحمہ کی تحریک موالات کا استقبال کیا،ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جہاں کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شیخ الہند کی آمد کے بعد  تحریکِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا اور علماء کے قرب کی وجہ سے ’’مسٹر‘‘ سے ’’مولانا‘‘ بن گئے۔ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جہاں مالٹا سے رہائی کے بعد نونہالان علی گڑھ کی پکار پر شیخ الہند نے (نقاہت کی وجہ سے علامہ شبیر احمد عثمانی نے شیخ الہند کا لکھا ہوا یہ خطبہ پڑھا تھا اور شیخ الہند وہیں موجود تھے) تاریخی خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غمخوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں) مدرسوں، خانقاہوں میں کم اور اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دوتاریخی مقامات (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا ، کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو اپنے مرحوم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتائیں؛ لیکن اہل نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے۔
دوش دیدم کہ ملائک در مے خانہ زدند گلِ آدم بسرشتند و بہ پیمانہ زدند 
ساکنانِ حرم سرّ عفاف ملکوت  بہ امن راہ نشیں بادۂ مستانہ زدند
شکر ایزد کہ میان من و او صلح فتاد حوریاں رقص کناں ساغر شکرانہ زدند  جنگ ہفتاد و دو ملت ہمہ را عذر بنہ چوں نہ دیدند حقیقت رہِ افسانہ زدند ۔
   آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان کو  سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم  و فنون کو حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا، ہاں! یہ بے شک کہا گیا کہ اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اُڑائیں یا ’’حکومتِ وقتیہ‘‘ کی پرستش کرنے لگیں تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لیے جاہل رہنا ہی اچھا ہے، اب از راہِ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثرِ بد سے اور کیا یہ وہی بات نہیں جس کو آج مسٹر گاندھی اس طرح ادا کررہے ہیں کہ: ’’ ان کالجوں کی اعلیٰ تعلیم بہت اچھی ، صاف اور شفاف دودھ کی طرح ہے جس میں تھوڑا سا زہر ملادیا گیا ہو۔‘‘      باری تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری قوم کے نوجوانوں کوتوفیق دی ہے کہ وہ اپنے نفع وضرر کا موازنہ کریں اور دودھ میں جو زہر ملا ہواہے اس کو کسی ’’بھپکے‘‘ کے ذریعہ سے علیحدہ کرلیں، آج ہم و ہی بھپکا نصب کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور آپ نے مجھ سے پہلے سمجھ لیا ہوگا کہ وہ ’’بھپکا‘‘ مسلم نیشنل یونیورسٹی ہے۔ مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہ رہی، کیونکہ زمانے نے خوب بتلادیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور تدبر اور ہوش مندی کے پودے نشوونما پاتے ہیں اور اس کی روشنی میں آدمی نجاح وفلاح کے راستے پر چل سکتا ہے، ہاں! ضرورت اس کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہو اور اغیار کے اثر سے بالکل آزاد ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا باعتبارِ عقائد وخیالات کے اور کیا باعتبارِ اخلاق واعمال کے اور کیا باعتبارِ اوضاع واطوار کے (ان سب میں) ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں۔
ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے داموں پر غلام پیدا کرتے رہیں، بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں ،بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں اور ان عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا، اس سے بیشتر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے ۔ آپ نے سنا ہوگا کہ بغداد میں جب مدرسۂ نظامیہ کی بنیاد ایک اسلامی حکومت کے ہاتھوں رکھی گئی  تو اس دن علماء نے جمع ہو کر علم کا ماتم کیا تھا کہ افسوس آج سے علم حکومت کے عہدے اور منصب حاصل کرنے کے لیے پڑھاجائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو کیا آپ ایک ایسی یونیورسٹی سے فلاحِ قومی کی امید رکھ سکتے ہیں جس کی امداد اور نظام میں بڑا زبردست ہاتھ ایک غیر اسلامی حکومت کا ہو ۔
ہماری قوم کے سربرآوردہ لیڈروں نے سچ تو یہ ہے کہ امت ِاسلامیہ کی ایک بڑی اہم ضرورت کا احساس کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاشبہ مسلمانوں کی درسگاہوں میں جہاں علوم عصریہ کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہو ، اگر طلبہ اپنے اصول وفروع سے بے خبر ہوں اور اپنے قومی محسوسات اور اسلامی فرائض فراموش کردیں اور ان میں اپنی ملت اور اپنے ہم قوموں کی حمیت نہایت ادنیٰ درجہ پر رہ جائے تو یوں سمجھو کہ وہ درسگاہ مسلمانوں کی قوت کوضعیف بنانے کا ایک آلہ ہے، اس لیے اعلان کیا گیا ہے کہ ایک آزاد یونیورسٹی کا افتتاح کیا جائے گا جوگورنمنٹ کی اعانت اوراس کے اثر سے بالکل علیحدہ اور جس کا تمام تر نظامِ عمل اسلامی اور قومی محسوسات پر مبنی ہو ۔
مجھے ان لیڈروں سے زیادہ ان نونہالانِ وطن کی ہمتِ بلند پر آفرین اور شاباش کہنا چاہیے، جنہوں نے اس مقصد کی انجام دہی کے لیے اپنی ہزاروں امیدوں پر پانی پھیر دیا اور باوجود ہرقسم کے طمع اور خوف کے وہ ’’موالاتِ نصاریٰ کے ترک ‘‘ پر مضبوطی اور استقلال کے ساتھ قائم رہے اور اپنی عزیز زندگیوں کو ملت اور قوم کے نام پر وقف کردیا ۔
شاید ترکِ موالات کے ذکر پر آپ اس مسئلہ کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوجائیں اور ان عامۃ الورود سوالات اور شبہات کے دلدل میں پھنسنے لگیں جو اس بہت ہی اہم واعظم مسئلے کے متعلق آج کل عموماً زبان زد ہیں، اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتاہوں کہ آپ تھوڑا سا وقت مجھ کو اس تحریر کے سنانے کے لیے عنایت فرمائیں جو میں نے بعض مسائل دریافت کیے جانے پر دیوبند سے تیار کرکے بھیجی تھی۔
اب میری یہ التجا ہے کہ آپ سب حضرات بارگاہِ رب العزت میں نہایت صدقِ دل سے دعاکریں کہ وہ ہماری قوم کو رسوا نہ کرے اور ہم کوکافروں کا تختہءِ مشق نہ بنائے اور ہمارے اچھے کاموں میں ہماری مدد فرمائیں ۔‘‘
(طویل خطبۂ صدارت ! حضرت شیخ الہندمولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ بموقع اجلاسِ تاسیسی مسلم نیشنل یونیورسٹی، علی گڑھ ،۲۹ /اکتوبر ۱۹۲۰ء سے ماخوذ)
  تاریخ شاہدہے کہ مسلم یونیورسٹی نے ایسے ایسے فرزند پیدا کیے جو اسلامی حمیت سے سرشار تھے، جنہوں نے شیخ الہند کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہندوستان کی آزادی کے لیے ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے تک مسلسل انگریزی میں تقریر کرکے انگریزوں کو ان کی اوقات دکھائی۔ ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے اپنی جانیں تک قربان کردیں، بعضوں نے تو قسم کھالی کہ جب تک ہندوستان آزاد نہیں ہوگا میں اس سرزمین پر قدم نہیں رکھوںگا اور اپنا مرقد دیار غیر میں بنوایا۔ ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جس کا ماضی تابناک تھا۔حال کو بے حال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن میرے جیالے سینہ سپر ہیں، فرقہ پرستوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند ہیں ۔ ہاں میں وہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہوں جو ملک اور قوم کے شاندار مستقبل کے لیے کوشاں ہے۔ یہیں سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے۔یہاں اب بھی ایسے افراد تعلیم حاصل کررہے ہیں جو مستقبل میں ملک کے وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم، صدرجمہوریہ ہند بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میرے مستقبل کو فرقہ پرست سبوتاژ کرناچاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں مسلم نوجوان اور وہ سیکولر  ہندو پڑھ لکھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اونچے اونچے مناصب وعہدوں پر براجمان ہوں،جہاں سے ہم فرقہ پرستوں پر حکومت کریں؛ اس لیے وہ برسوں سے اس فراق میں ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نمایاں کردار ختم کردیاجائے۔ اسے بند کروا دیا جائے، اسے مکمل طور پر نیست ونابود کردیا جائے تاکہ ہندوستانی مسلمانوں اور سیکولر ہندوئوں کا مستقبل ختم ہوجائے۔ اور پھر وہ کسی کام کے نہ رہیں۔
گذشتہ دنوں بانئِ پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کا سہارا لے کر اسے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے فرقہ پرستوں نے یونیورسٹی میں گھسنے کی کوشش کی، حالانکہ اس وقت یونیورسٹی میں ہندوستان کے سابق صدرجمہوریہ کا پروگرام ہونا تھا؛ لیکن انہوں نے شور شرابہ ہاتھوں میں بندوق لیے ہوئے اور لاٹھی ڈنڈوں کے ساتھ باب سید کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے طلبہ سے الجھ پڑے، انہیں زدوکوب کیا، خون میں نہادیا، نصف درجن سے زائد بچے شدید زخم کی حالت میں اسپتال میں بھرتی کردئے گئے، فرقہ پرستوں کا ساتھ مکمل طور پر پولس نے بھی دیا۔ جناح کی تصویر بہانہ تھی اصل نشانہ تو میں ہوں۔ کیا ملک کی پارلیمنٹ میں انگریزوں کو سلامی دینے والے کی تصویر آویزاں نہیں ہے؟ ۔ کیا گاندھی کو قتل کرنے والوں کو یہاں سلامی پیش نہیں کی جاتی ہے؟ ۔ اگر یہ سب ہے تو پھر جناح کی تصویر پر اتنا ہنگامہ کیوں؟ ۔ وہ اس لیے کہ حکومت مکمل ناکامی کے بعد اب ۲۰۱۹ کو ہندو مسلم فسادات کے ذریعے جیتنا چاہتی ہے اور میں علی گڑھ کی تابناک تاریخ کے پس منظر میں کہہ سکتی ہوں کہ فرقہ پرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہمارے جیالے انہیں ہر جگہ مات دیں گے۔ ان شاء۱للہ ۔
اگرجناح سے اتنی ہی نفرت ہے تو جناح کے بنائے گئے پاکستان میں جاکر بریانی کھانے والے کے پتلے جلائو، حافظ سعید سے ملنے والے صحافی کو پھانسی دو، نواز شریف کے رشتہ دار کی شادی کی تقریب میں شریک ہونے والے کو سرعام گالیاں دو، جناح کی فوٹو کے ساتھ تصویر کھنچوانے والوں کا پتلا پھونکو۔مجھے معلوم ہے تم یہ سب نہیں کرسکتے؛ کیونکہ وہ تمہارے رہنما ہیں وہ جو کریں سب ٹھیک ، وہ گاندھی کا قتل کریں ٹھیک، وہ گوڈسے کو خدا مانیں ٹھیک؛ لیکن اگر میں علی گڑھ وزٹ پر آئے ہوئے مہمان کی برسوں پرانی تصویر کو آویزاں رہنے دینے پر اصرار کروں تو ہمارے طلبا کے ساتھ مارپیٹ کی جائے، ان پر مقدمہ کیجئے، کیا یہی انصاف ہے؟ ۔ یہ انصاف کے دوہرے پیمانے چھوڑ دو، دوغلے پن سے باز آجاؤ، میری شاندار تاریخ رہی ہے میں  کبھی کسی طاقت کے سامنے جھکی نہیں اور نہ ہی آئندہ جھکونگی ان شاء اللہ۔
۔۔۔۔منکووووووول۔۔۔۔

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح