علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر بھگوادہشت گردی کا حملہ ناقابلِ برداشت
#پریس_ریلیز! #مطالبات
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر بھگوادہشت گردی کا حملہ ناقابلِ برداشت
مرکز و سیاست میں برسر اقتدار زعفرانی ٹولہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے
ہندوستان، انڈیا اور بھارت جسے کہتے ہیں وہ صوفی سنتوں کا دیش ہے-ہمارے ملک جیسا دنیا میں کوئی ملک نہیں ہے جہاں مختلف رنگ، نسل اور ذات کے ماننے والے باہم شیر و شکر کی طرح مل جل کر رہتے ہوں- سیارہ زمین پر وسیع و عریض رقبہ پر پھیلے اس ملک کا امتیاز، اس کی گنگا جمنی تہذیبی روادی اور اس کی بے نظیر ثقافت ہے-یہ ملک ایک ایسی حسین دلہن کی طرح ہے، تعلیم جس کا جھومر ہے تو اس کی خوبصورت تہذیب اس کی مانگ میں جھلملاتی وہ افشاں ہے جو اس کے وقار کی علامت ہے-بھارت کا یہی درخشاں ماضی اس کے تابناک مستقبل کا پیامبر ہے-گلستانِ ہند رنگارنگ پھولوں کی خوشبووں سے ہمیشہ مہکتا رہا ہے مگر فسطائی عناصر بضد ہیں کہ چمن میں ایک ہی طرح کے پھول کھلیں اور پنپیں اور بیجا خواہش کو پورا کرنے کے لیے مارنے مرنے پر بھی آمادہ ہیں-اپنی جھوٹی اکثریت کے زعم میں مبتلا بھیڑ کی نفسیات کے یہ غلام قانون، نظم و نسق اور آئینِ ہند کی دھجیاں اڑانے کے درپہ ہوگئے ہیں جبکہ کثرت میں وحدت کے فلسفے پر گامزن ہمارا ملک عہدِ قدیم سے گوناگوں تعلیمی و تہذیبی مراکز کا گہوارہ رہا ہے لیکن نہایت قابلِ افسوس اور شرمناک امر یہ ہے کہ اب ہمارے ملک میں مسموم گیروا سوچ رکھنے والے ہٹلر کے پجاری بھگوا بریگیڈ کے لوگ برسر اقتدار زعفرانی ٹولہ کی سرپرستی میں ان تعلیمی مراکز کو بھی منظم سازش کے تحت ہدف بنارہے ہیں، کبھی جے این یو، کبھی ڈی یو، تو کبھی بی ایچ یو اور اب اے ایم یو کو آر ایس ایس کی ہندوتوا سوچ نے جس طرح نشانہ بنایا ہے وہ ملک کو خانہ جنگی کی سمت دھکیلنے کے سوچے سمجھے منصوبہ کا ایک حصہ ہے-
۲ مئی بروز بدھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے تربیت یافتہ ہندو یوا واہنی کے کپوتوں نے ہلہ بول دیا اور علی گڑھ یونیورسٹی کے کیمپس میں گھس کر اس باوقار ادارے کے سپوتوں پر بندوقوں، چاقووں اور سلاخوں سے حملہ کرکے انتہائی درجہ کی قابل سزا وارداتیں انجام دینے کے مرتکب ہوے ہیں جو قابل دست اندازی پولَس جرم ہے لیکن ان حملہ آور غنڈوں کو گرفتار کرنے اور سخت قانونی کاروائی کرنے کی بجاے موقعہ واردات سے پولیس پروٹیکشن میں واہنی کے غنڈوں کو بھاگنے میں مدد فراہم کی، اس پر مستزاد یہ کہ اس ناانصافی کے خلاف احتجاج کررہے مظلوم طالب علموں اور دیگر عملے پر پولیس نے انتہائی بے رحمی سے لاٹھی چارج کردیا جناح کی جس تصویر کو لے کر یہ ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے، سنگھ کا مطالبہ تاریخ پر بدترین حملہ ہے جسے منظور کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا-
اس موقع پر کاروانِ امن و انصاف کی پوری ٹیم اے ایم المنائی ایسوسی ایشن، فریٹرنیٹی موومنٹ فور سوشل جسٹس، جے ہو فاؤنڈیشن ،بابا صاحب اینڈ برسا منڈا ریسرچ سینٹر اور سرسید فاؤنڈیشن ممبر، آل انڈیا ملی کونسل اور اردو کارواں ممبئی اے ایم یو کے ساتھ ہے، اے ایم یو کے طلباء کے شانہ بشانہ ہے، ہم حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ طلباء یونین کے مطالبات جلد از جلد تسلیم کیے جائیں وگرنہ ابلتے خون کی بگڑتی صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی-
*مطالبات:*
*اے ایم یو طلبا کے مطالبات فوراﹰ تسلیم کیے جائیں:*
*جناح کو سیکولر کہنے والے اڈوانی کو غدار وطن قراردیا جائے:*
*جسونت سنگھ کی کتاب پر پابندی لگائی جائے، اور مصنف کو غداروطن قراردیا جائے:*
*نریندر مودی پاکستان کے ساتھ تعلقات رکھنے کو، اور وہاں کی ضیافت کو غلطی تسلیم کریں اور ملک سے معافی مانگیں:*
*جو طلبا زخمی ہوئے ہیں ان کو فوراﹰ کم از کم ۵ لاکھ معاوضہ دیا جائے:*
*اے ایم یو کے طلبا پر حملہ کرنے والی ہندو یوا واہنی کے غنڈوں کو گرفتار کرکے سزا سزا دی جائے:*
*ہندو یوا واہنی چونکہ دھشتگردی میں ملوث تنظیم ہے، اس لیے اس پر پابندی لگائی جائے:*
محمد لقمان ندوی:
ترجمان، کاروان امن و انصاف
تنویر عالم:
صدر، اے ایم یو، ایسوسی ایشن مہاراشٹر
پروفیسر عاقب شیخ:
نیشنل سیکریٹری، آف فریٹرنیٹی موومنٹ
M Tariq Ayubi
Ibrahim Nadwi Omar Abedeen
Khan Nasim Afroz Malik
Comments
Post a Comment