لندن کی انسانی حقوق کی تنظیم نے اے ایم یو پر ہندوتوا گروپ کے حملے کی شدید مذمت کی
لندن کی انسانی حقوق کی تنظیم نے اے ایم یو پر ہندوتوا گروپ کے حملے کی شدید مذمت کی
لندن۔۶؍مئی: انسانی حقوق کی تنظیم ساؤتھ ایشیا سالیڈاریٹی گروپ (ایس اے ایس جی) کی جانب سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی پر ہندوتوا بلوائیوں کے وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے جس میں گزشتہ بدھ کئی طالب علم زخمی ہو گئے تھے اور بہت سوں کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔ایس اے ایس جی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے : ’’اس حقیقت کے تناظر میں کہ جناح کی تصویر طلبا یونین کے ایک کونے میں اُس وقت بہت سے سیاست دانوں کے ساتھ 1938 سے لگی ہوئی ہے اور 80 سال بعد ہندوتوا گروپوں کا اچانک اس کے خلاف مظاہروں کا خیال جاگا ہے اس سے ان کے حقیقی اور مذموم ارادے بالکل واضح ہو جاتے ہیں یعنی نفرتوں کو پھیلا یا جائے اور 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کے حق میں ووٹ جمع کئے جائیں۔ اے ایم یو پر حملہ کرنے سے پہلے ہندوتوا کے اقتدار کے ان حامیوں کو اپنے قائد لال کرشن اڈوانی سے سوال کرنے چاہئے تھے اور بی جے پی کے بانی جسونت سنگھ کی کتاب پڑھنی چاہئے تھی۔ دونوں ہی نے جناح کی تعریف کی ہے۔ مگر ان کی بے غیرتی کی کوئی حد نہیں ہے۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا ہے: ’’یہ لوگ اختلاف رائے اور آزادی اظہار کے حق سے عوام کو محروم کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے پہلے جے این یو پر حملہ کیا اور اب ان کے نشانے پر اے ایم یو ہے۔یہ بات خاص طور پر قابل مذمت ہے کہ اتر پردیش پولیس نے حملہ آوروں کی مدد کی جن کا تعلق اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کی تنظیم ہندو یووا واہنی سے ہے۔’’کسی کو پسند ہو یا نہ ہوجو واقعات تاریخ میں واقع ہوچکے ہیں انہیں تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ ہندوتوا کے غنڈے تاریخی حقائق کو بدل نہیں سکتے۔ اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جناح کے بر عکس ،جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اور نوآبادیاتی نظام کے سب سے بڑے مخالف شہید بھگت سنگھ کا مقدمہ لڑا تھا، ہندو اانتہا پسند وی ڈی سروارکر ، جس نے خود دو قومی نظریہ تشکیل دیا تھا اور جناح کی مانگ سے 16 سال قبل تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔‘‘’’آزادی اظہارکا، بالخصوص تغلیمی اداروں میں، ہر قیمت پر دفاع کیا جانا چاہئے ۔‘‘ایس اے ایس جی نے ہندو یووا واہنی کے ٹھگوں کے حملے کے خلاف اے ایم یوطلبا کی پر عزم مزاہمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں سیکولر اور ترقی پسند طلبا کی ہمت افزائی کا سبب بنے ہیں اور اس وقت #StandWithAMU انڈین سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ تنظیم نے خاص طور پر طالبات کی ہمت کو سلام پیش کیا ہے جنہیں بنارس ہندو یونیورسٹی کی طرح قید میں رکھا جاتا ہے۔تنظیم نے ان ہندو طلبا کی تعریف کی جو نماز کے دوران مسلمان طالب علموں کی حفاظت کر رہے تھے اورسیکولرزم کے اس جزبے کو زندہ رکھنے کی مثال پیش کر رہے تھے جسے آر ایس ایس تباہ کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس ، اے ایم یو میں شاکھا لگانے میں ناکام رہی تھی۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.mustafapadarwala.new_sahaafi
Comments
Post a Comment