آج یوم مزدور ہے
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*آج یوم مزدور ہے*
*دنیا کی ترقی وعروج میں مزدوروں کے خون و پسینہ کی حیثیت شیر وشکر کے گھل مل جانے کی طرح ہے، ہماری نظروں کے سامنے بلند بانگ عمارتیں، فلک بوس درخت، نہریں،ندیان اور لہلہاتے کھیت و کھلیان اور سبزہ زار باغ اور صاف و شفاف سڑکیں ؛ان سب کا وجود انہیں مزدوروں کے قوت بازو اور محنت کشی کا نتیجہ ہیں؛لیکن افسوس کی بات ہے؛ کہ تاریخ میں جن اصناف کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم اور حق تلفی ہوئی ہے، ان میں مزدور طبقہ بھی ہے،ان کی جفا کشی کا استحصال کیا گیا،انہیں استطاعت سے بڑھ کر مکلف کیا گیا،انہیں عرق ریزی کے بدلے تازیانے ملے اور مزدوری کی جگہ ستم ظرفیوں کا پروانہ ملا،قدیم حکومتوں نے انہیں کولہو کے بیل کے مثل استعمال کیا،ضرورت پڑنے پر مشعل کا بھی کام لیا،ان میں موجود صنف نازک کی عصمت و عزت کی پامالی کی گئی،زمانہ گزرا اور گزرتا ہی گیا اور گردش زمانہ میں بعض افراد نے حقوق مزدور کی آواز بلند کی،امریکی ایوانوں میں اس کا شور ہوا اور اپنی برتری و تفوق کے پیش نظر، اس نے ایک دن (یکم مئی)کو یوم مزدور منانے اور اور ان کے حقوق کی پیروی کرنے کا دن قرار دیا*۔
حقیقت یہ ہے کہ مغربی آنکھیں جب تاریکی میں گم تھیں،اور وہ اپنے وجود کو ترستا تھا،اسی درمیان صحرائے عرب کا ایک نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوروں کے حقیقی حقوق کی نہ صرف بنیاد رکھ دی تھی؛ بلکہ اپنے متبعین کے ذریعہ اور خود اینٹ و پتھر اٹھا کر اور مزدوروں سے شانہ بشانہ ہوکر ؛ان کے مقام کو حقارت و کمتری سے عروج کا منصب عالی دے دیا تھا،مزدوری کو انبیاء کرام کے مشغلوں میں شمار کرکے(مسند احمد،ابن ماجہ عن عتبہ بن منذر)اور حلال روزی کی تلاش،محنت ومزدوری کو عند اللہ پورے ایک سال امام عادل کے ساتھ جہاد سے افضل قرار دے دیا تھا(ابن عساکر عن عثمان)، اپنے بچوں کی کفالت کیلئے دوڑ دھوپ کرنے کو خدا کی راہ میں جد و جہد بتایا (طبرانی:عن کعب بن عجرة)؛بلکہ ہاتھوں سے کمانے کو سب سے پاکیزہ عمل ٹھہرایا (بیہقی عن علی،طبرانی عن ابی بردة)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمام انبیاء نے بکریاں چرائی ہیں اور فرمایا: میں نے خود چند قیراطوں پر مکہ والوں کی بکریاں چرائی ہیں (بخاری وابن ماجہ عن ابی ھریرة)۔
*مزدوروں کی مزدوری کی حفاظت کی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ میں قیامت کے دن ان کا دشمن ہونگا، جو مزدور سے مزدوری کروائے اور اس کو اجرت نہ دے،(بخاری: عن ابی ھریرة)،یہاں تک کہ جب تک مزدور کی مزدوری معلوم نہ ہوجائے اس سے کام لینے سے منع فرمایا(مسند احمد:۱۱۱۳۹)، اسی طرح کسی بھی مزدور کو اس کی استطاعت سے زائد کا مکلف کرنا غلط قرار دیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلاموں سے کوئی ایسا کام نہ لو جو ان کی طاقت اور قدرت سے ماورا ہو(موطا مالک عن یحیی بن یحیی)،ساتھ ہی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور خیر خواہی کا معاملہ کرنے کی تلقین کی جس کو فقہائے اسلام نے شرح و بسط کے ساتھ نقل کیا ہے(ردالمحتار:۰۸/۳)،نیز ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے حکومت بھی مداخلت کر سکتی ہے، چنانچہ قاضی ماوردی لکھتے ہیں:"اگر کوئی شخص مزدور یا ملازم (اجیر) پر زیادتی کرے، مثلا اجرت کم دے یا کام زیادہ لے، تو محتسب ایسا کرنے سے روکے اور حسب درجات دھمکائے اور اگر زیادتی اجیر کی طرف سے ہو، مثلا کام کم کرے اور اجرت زیادہ مانگے تو اس کو بھی روکے اور دھمکائے اور اگر ایک دوسرے کی بات کا انکار نہ کریں تو فیصلے کا حق حاکم کو ہے"۔(الأحكام السلطانية:باب ۲۰-ص:۳۹۹)،اب کوئی بتائے کیا یوم مزدور منانے والے بھی یہی پیغام دیتے ہیں؟۔*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
Comments
Post a Comment