ٹرمپ کی روس کو حالیہ دھمکی کے معنٰی!

*ٹرمپ کی روس کو حالیہ دھمکی کے معنٰی!*

اکثر اپنی عجیب و غریب حرکتوں، پالیسیوں اور داخلی و خارجی سیاست میں غیرمعمولی فیصلوں کے لیے مشہور امریکی صدر، روس کو شام پر اپنی میزائلیں داغنے کی دھمکی دے رہا ہے، جو (روس) خود شامی خبیث کے ساتھ، شام کے معصوم بچوں کے خون اور وہاں کے شہریوں کی پاکیزہ ارواح سے جاری کھیل میں شریک ہے۔۔۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ واقعتاً روس سے جنگ کرے گا یا یہ حملے بھی نہتی شامی عوام ہی کے خلاف ہوں گے، جو پچھلے آٹھ سال سے لگاتار جنگ کی چکی میں پِس رہی ہے؟

ٹرمپ نے روس کو دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ کی طاقت ور، اسمارٹ اور تیزترین میزائلوں کے مقابلے کے لیے تیار ہوجائے۔۔۔ ٹرمپ کے بارے میں ہی، اس کے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد یہ باتیں بھی کہی گئی تھیں کہ روس، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت: امریکہ کے انتخابی عمل کے اندر دخل اندازی کے کھیل میں ملوث ہے اور روس ہی نے ٹرمپ کے لیے وہائٹ ہاؤس کا راستہ ہم وار کیا ہے اور ہلیری کلنٹن کو اس سے محروم کیا ہے۔

مجھے نہیں پتہ ان دعووں میں کتنی سچائی ہے۔۔۔۔ ہاں، البتہ فیس بک کے سی او: مارک زُکربرگ نے اپنی کمپنی: فیس بک کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کو لے کر ہوئی کچھ غلطیوں کے تناظر میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوکر معافی مانگی ہے، جن (غلطیوں) کی وجہ سے ہی تجزیہ کار امریکی انتخابی عمل میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے لگے تھے۔۔۔ اور اس شک کی سوئی ہمیشہ روس کی جانب گھومتی ہے، جو امریکہ کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا رہا ہے۔

تو کیا روس اور ٹرمپ میں جنگ ہو جائےگی؟ مجھے ایسا نہیں لگتا۔۔۔ یہ صرف ایک انتہائی پیچیدہ اور مضبوط سازش ہے! یا ٹرمپ کا چھوڑا ہوا محض ایک شوشہ ہے یا پھر اس کی سیاسی بے مایگی اور ڈپلومیٹک تجربہ سے تہی دامنی کا نتیجہ ہے!!
اور یا زیادہ سے زیادہ ٹرمپ کے اس بکواس کرنے کی عادت کا حصہ ہے، جو وہ حساس ترین اور نہایت پیچیدہ بین الاقوامی مسائل میں اکثر کیا کرتا ہے۔۔۔

چناں چہ اگر شامی سرزمین میں ان دونوں بڑے ملکوں کے مابین جنگ ہوئی بھی، تو اس کا فائدہ صرف اسرائیل ہی کو ہوگا، جو (اسرائیل)، جب سے شام میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکی ہے، خوشی سے پھولا نہیں سما رہا ہے۔۔۔

اور امریکہ و اسرائیل میں موجود صہیوني لابی عظیم اسرائیل کے خواب دیکھ رہی ہے، جس کے لیے زرخیز زمین شام اور عراق ہی سے حاصل کی جائے گی؛ بل کہ یوں کہا جائے کہ عراق تو ۲۰۰۳ء ہی سے لگ بھگ ایک امریکی کالونی بن ہی چکا ہے، اور اگر یہ جنگ ہو گئی تو شام بھی امریکا کی کالونی بن کر رہ جائے گا۔۔۔ اور عین یہی اسرائیل و امریکہ کی خواہش ہے۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ دھمکیاں محض دھمکیاں ہیں۔ یا یہ صرف ٹویٹر تک محدود ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ کچھ بھی ہو، دونوں بڑی عالمی طاقتیں اس طرح ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہیں، جیسے جنگ کوئی بازیچۂ اطفال ہو، جس کے لیے شام ہی سب سے بہتر میدان ہو سکتا ہو!!۔۔
اے اللہ! تو مسلمانوں کے دشمنوں کا اتحاد پارہ پارہ کر دے، ان کا شیرازہ بکھیر دے اور مسلمانوں کے اور تیرے دشمن: یہود، مشرکین اور ملحدوں کے خلاف ان کی مدد فرما! اے زبردست قوت والے اور سارے  جہانوں کے پروردگار!!

❁❁❀❀✿✿✰✰✺✺❂❂❃
✍ *استاذِ محترم مولانا نصیرالدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم*
استاذ شعبۂ عربی ادب: مدرسہ خادم الاسلام بھاکری، جودھپور راجستھان

ترجمہ: نیک محمد 901835816

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن