اندھیرے میں وہ چراغ بھی بجھ گیا:جسٹس سچر
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*اندھیرے میں وہ چراغ بھی بجھ گیا:جسٹس سچر*
*ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی بے دخلی اور انگریزی استعماری کے سایوں میں ہندومت کا پروان چڑھنا؛ دراصل مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے اور انہیں صفحہ ہند سے پارینہ کردینے کا متن تھا،جس کی تشریح روز بروز منصہ شہود میں آرہی ہیں، بالخصوص آر،ایس،ایس کی پالیسیاں اور دیگر ہندو جماعتوں کا ڈھانچہ اسلام مخالف اور مسلم دشمنی ہی سے مرکب ہے،یہی وجہ ہے؛ کہ انگریزوں کے دور ہی سے مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہونے لگی تھی،فارسی کو خارج کر کے انگریزی کو سرکاری زبان قرار دے کر اعلی عہدوں پر ہندوؤں کو فائز کیا جانے لگانے تھا،اگرچہ کہ آزاد ہند کا خواب متحدہ خواب تھا ؛لیکن ۱۹۴۷ء یعنی آزادئ ہند کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ دوہرے رویہ اور یتیمی کا سا سلوک میں کوئی کمی نہ آئی؛ بلکہ مسلم اور اسلام بیخ کنی کی جانب طوفانی سرعت انگیزی کے ساتھ قدم بڑھایا جانے لگا، اور ہر مدعا و منصوبہ مسلمانوں کو اقتصادی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے درماندہ و کمزور کرنے اور انہیں ملک وملت کیلئے مضر ثابت کرنے میں صرف کیا جانے لگا۔*
ان منصوبات کو ایسے شکر کے پڑئیے میں پیش کیا جارہا تھا؛کہ ہر بچہ اس کی طرف لپکے،بلکہ نیم کے رس کو آب حیات بتلا کر یا زہر کو تریاق بتلا کر عوام و خواص کے گلے سے اتارا جارہا تھا،لیکن ان سب تاریکیوں اور شب دیجوری میں "۲۰۰۷ء کے سچر کمیٹی رپوٹ" نے ٹمٹماتے لو کا کام کیا،اور صبح کاذب میں صبح صادق کی نشاندہی ہی کی،اس رپورٹ کے اندر مسلمانوں کے سیاسی وسماجی اور اقتصادی و معاشی صورت کو بد حال و زبوں حال اور آزادی کے بعد ہی سے اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور کمزور طبقوں میں تعلیمی بیداری کے تئیں گراوٹ اور ان کے ساتھ ہندوستانی سطح پر دورخے پن کی قلعی کھول کر رکھ دی،نیز ملک کی سالمیت و حفاطت اور سیکولرزم اور جمہوریت کی بقا کی خاطر اس رویہ کو بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کو خطرناک بتلایا اور اس کی اصلاح کی خاطر مناسب آراء و تجاویز بھی ہیش کیں،یہ رپورٹ اس قدر حق پر مبنی تھی ؛کہ بد نیتوں کے خیمے میں فکر و تشویش پیدا ہوگئی اور چہار سو اس کی مخالفت کی گئی،اور ہر ممکن کوشش کی گئی؛ کہ اس کا نفاذ نہ ہونے پائے،جس میں کف افسوس وہ کامیاب بھی رہے،خاص طور پر گزشتہ چار سالوں سے عین سچر کمیٹی رپورت کی خلاف ورزی کی گئی اور ان ہی خدشات کو حقیقت کا جامہ پہنایا گیا۔
*یہ بات حیران کن ہے؛ کہ اس کمیٹی کی نمائندگی کرنے والے ان ہی میں سے ایک جناب راجندر سچر تھے،جنہوں نے ۱۹۲۳ء لاہور میں ولادت پائی اور ۲۰ اپریل ۲۰۱۸ء کو نئی دہلی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں ایک معتد بہ عمر پاکر وفات پائی، واقعہ یہ ہے؛ کہ انہیں تاریکی میں ایک جوت ہی کہا جاسکتا ہے،آپ انسانی حقوق کے علمبردار تھے،شریف طبیعت اور انسان دوست شخصیت تھے؛بلکہ بلا مبالغہ امیر مینائی کی زبان کہا جا سکتا ہے:*
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
*آپ ۱۹۹۰ء میں کشمیر پر تیار کی گئی ایک اہم رپورٹ کی کمیٹی میں بھی شامل تھے،وہ انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے بھی رکن تھے،نیز آپ ہی وہ بے باک اور حق طرف اور غیر جانبدارانہ شخصیت کے حامل تھے؛ جس نے اگست ۱۹۸۵ء سے دسمبر ۱۹۸۵ء میں ایمرجینسی کے ظالمانہ احکام کو ماننے سے منع کردیا تھا،آپ حقیقتا انسانیت کے علمبردار تھے؛حتی کہ عمر کے آخر آخر میں بھی مستقل متحرک رہتے تھے،جہاں کہیں اقلیت کے خلاف ظلم ہوتا اور انسانی حقوق کی بات آتی اور اس کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی بھی نوبت آتی، تو آپ نہ صرف قدم سے قدم ملاتے؛ بلکہ اپنی تحریروں اور دیگر تحریکات کے ذریعہ ظلم کدوں سے آنکھیں ملاتے نظر آتے تھے، آپ کی وفات دراصل انسانیت کیلئے ایک خسارہ ہے،لیکن شاعر مشرق کی یہ آواز کانوں میں گونج اٹھتی ہے:*
*نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے*
*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔*
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412382
Comments
Post a Comment