اے امت! صبر کر، تیرے فرزند سو رہے ہیں!
✍ *{رأي اليوم}*
٢٠ رجب المرجب ١٤٣٩ھ (سنیچر)
*اے امت! صبر کر، تیرے فرزند سو رہے ہیں!*
امریکہ اور ناٹو کی پشت پناہی میں افغان افواج نے افغانستان کے صوبۂ قندوز میں جو کشت و خون برپا کیا ہے، اس نے امتِ مسلمہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر دی ہیں اور ان چند اربابِ اقتدار کے علاوہ، جنھیں عموماً محض اپنے اقتدار اور کرسی کے چھننے کی فکر دامن گیر رہتی ہے، مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں کو سخت کرب اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔
چناں چہ ان حکم رانوں کو ایک آدھ مذمتی لفظ منھ سے نکالتے ہوے بھی امریکا کا سخت خوف ستاتا ہے۔۔۔ کیوں کہ ان کا ایک مذمتی بیان بھی، ان کے خدا کو چھوڑ کر اختیار کیے ہوے معبود: امریکا کو ناراض کر سکتا ہے، جو ان کی کرسیِ اقتدار کو ایک لمحے میں ڈگمگانے کی طاقت رکھتا ہے۔۔
یقیناً سوشل میڈیا پر گردش کرتی یہ خونی تصاویر، ابھی بھی دیکھنے والے کے قلب و جگر کو چھلنی کر رہی ہیں۔ جن میں اپنے سروں پر تکمیل حفظِ قرآن کی سند کے طور پر عمامے باندھے نظر آنے والے اکثر طلبہ نابالغ لگ رہے ہیں۔۔۔ شعراء ان کے بارے رقت آمیز اور درد انگیز مرثیے پڑھ رہے ہیں؛ مگر سب بے فائدہ ہے؛ کیوں کہ قائدین اور لیڈر تو ابھی بھی اپنی گہری نیند میں سو رہے ہیں۔ انھیں امت کے مسائل سے کوئی سرو کار نہیں۔ بے گناہ مسلم عوام کا قتل اور ان کے آقا کے ہاتھوں انجام دیا جانے والا اس طرح کا خون آشام واقعہ بھی ان کی نیند اڑانے کے لیے ناکافی ہے! ۔۔۔ ان کو تو اول و آخر اپنی کرسی کی حفاظت ہی سے مطلب ہے اور بس!
اے امتِ مسلمہ! اس خوں ریزی اور سرکشی پر صبر کر! شاید تیرے فرزندوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ وہ بیدار ہوں اور ان ظالموں اور سرکشوں کو منھ توڑ جواب دیں! اے بے بس امت! تجھے شکیبائی نصیب ہو؛ کیوں کہ تیرے وہ بہادر فرزند اب خواب کی آغوش میں جا چکے ہیں، جنھوں نے کبھی روم و فارس کو شکستِ فاش دی تھی۔۔ وہ ابھی بھی سو ہی رہے ہیں؛ چناں چہ تیری حفاظت کے لیے اور تیری عزت و آبرو بچانے کے لیے کچھ بھی کرنا ان کے بس میں نہیں۔۔۔ لہذا اپنی کوکھ سے عظیم لوگ پیدا کرنے والی امت! تیرے لیے اب سوائے صبر و شکیبائی کے کوئی چارہ نہیں!۔۔
مجھے معلوم ہے کہ تونے ہی صلاح الدین ایوبیؒ، محمود غزنوی، شمس الدین التمش اور اورنگ زیبؒ وغیرہ وغیرہ کو پیدا کیا تھا۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ تیری کوکھ ابھی بھی ہرگز بانجھ نہیں ہوئی ہے۔۔ تو ابھی بھی صلاح الدین ایسے جلیل القدر فرزند پیدا کرنے پر قادر ہے؛ اور شاید تونے تو ایسے لوگوں کو بعد میں بھی پیدا کیا ہی ہے؛ بل کہ تیرا یہ سلسلہ تو کبھی منقطع ہی نہ ہوا ہوگا؛ مگر تیرے فرزند ہی ایسی گہری نیند میں ہیں، جس سے بیدار ہونے کی مستقل قریب میں کوئی امید نہیں ہے!
یہ بچے مسلمان تھے اور ایک اسلامی ادارے میں زیرِتعلیم تھے۔ ان خبیث اور شرپسند طاقتوں کو ان کو یہی چیز نہیں بھائی۔۔۔ میں جب بھی سوشل میڈیا پر یہ تصاویر دیکھتا ہوں یا ان ننھے شہداء کے بارے میں کوئی مرثیہ سنتا ہوں تو خود پر اور آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پاتا۔۔۔
ہائے رے بے بسی و رسوائی! ہمارے بس میں ان شہداء کے لیے سوائے آنسوں بہانے کے کچھ بھی نہیں!!
❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀
✍ *استاذِمحترم: مولانا نصیرالدین قاسمی دامت برکاتہم*
استاذ شعبۂ عربی ادب: مدرسہ خادم الاسلام بھاکری، جودھپور راجستھان
ترجمہ: نیک محمد 9001835816
Millatmedia.com
Comments
Post a Comment