اسلام کے بے باک جسٹس
🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
*اسلام کے بے باک جسٹس*
قوموں کی ہلاکت و بربادی کے ذرائع میں سے یہ بھی ہے؛کہ ان کے منصفین اور جسٹس صفات قلندرانہ اور مجاہدانہ ومجتہدانہ کردار سے محروم ہوجائیں،وہ کمزوروں پر قانونی بندشیں لگائیں اور اشراف کے ساتھ خواہ وہ نسبی اعتبار سے ہو یا عہدہ و وجاہت کے اعتبار سے؛جانبدارانہ رویہ اختیار کریں،یہی خصلت یہودیوں اور نصرانیوں میں بھی پائی جاتی تھی،جس کی بناپر عنداللہ مقبولیت و محبوبیت کے باوجود عذاب الہی کی پاداش میں ملعون ومطعون ٹھہرے،اور آج بھی ملک عزیز ہو یا بیرون ملک کی مختلف محکماتی ادارے؛ان سب کا حال یہی ہے؛ کہ جانبدارانہ انصاف اور عہدیداروں کی چاپلوسی و تملق اور نور نذر بن جانے کی خواہش یا ذاتی نام وسطوت کی تمنا یا زرپرستی و زرغلامی دامن گیر ہے،اس کے برعکس شریعت اسلامی کے ماننے والوں کے جسٹس کا بے باکانہ انصاف اور غیر جانبدارانہ رویہ پر تاریخ بھی ناز کرتی ہے،ان جوان مراداں کی حق پرستی اور مساویانہ سلوک دراصل انسانی زندگی کا سنہرا باب ہے،ان کے سامنے خلیفہ ووزیر اور امیر وغریب کی کیا اوقات؛ بلکہ بجا کہا جاسکتا ہے"ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز"۔
*واقعہ یہ ہے؛کہ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور تربیت کا نتیجہ تھا اور انہیں آڈیل سمجھنے والوں کیلئے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ اور فرمان مد نظر رہا کرتا تھا،جبکہ ایک خاتون کے چوری کے واقعہ پر دوٹوک فرمایا گیا تھا"جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں،انہیں اسی چیز نے ہلاک کیا؛ کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا، تو اس پر سزا جاری کردیتے اور اللہ کی قسم! اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی، تو میں اس کا بھی ہاتھ ضرور کا ٹوں گا"(بخاری:۳۴۷۵۔مسلم:۴۳۷۸)،چنانچہ اسلامی تاریخ کی حکومت میں آتا ہے؛ کہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زرہ گم ہوگئی، جسے آپ نے ایک یہودی کے پاس پایا، مقدمہ قاضی شریح کے پاس پیش کیا گیا،حضرت علی نے ایک گواہ اپنے بیٹے اور ایک گواہ اپنے غلام قنبرہ کو حاضر کیا؛لیکن قاضی صاحب نے یہ کہتے ہوئے کہ بیٹے کی گواہی قبول نہیں ہوتی،اور ایک گواہ کا اعتبار نہیں ؛لہذا یہ زرہ یہودی کو دینے کا فیصلہ کیا،جبکہ آپ اس وقت امیر المومنین تھے۔(اخبار القضاة لوکیع،فی اخبار القاضی الشریح:۳۶۱)۔*
خلافت راشدہ کے بعد بھی اس قسم کے بہت سے واقعات موجود ہیں،قاضی خیر بن نعیم کے سامنے خلیفہ وقت عبدالمک بن مروان نے اپنے چچازاد بھائی کے خلاف مقدمہ دائر کیا؛پیشی کے وقت وہ قاضی صاحب کے ساتھ فرش پر بیٹھنے لگے،تو خیر بن نعیم نے انہیں اٹھا دیا اور فرمایا:اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ جاکر بیٹھو۔(کتاب الولاة القضاة للکندی:۳۵۶)،نیز خلیفہ ابوجعفر مسعود کے خلاف ان کی بیوی نے قاضی غوث بن سلیمان کے پاس مقدمہ دائر کیا،اور اپنی طرف سے مقدمہ دائر کرنے کیلئے ایک وکیل پیش کیا،قاضی صاحب نے خلیفہ کو حکم دیا؛ کہ وہ اپنی بیوی کے وکیل کے ساتھ فرش پر بیٹھیں؛حتی کہ معاملات کا جائزہ لینے کے بعد خلیفہ کے خلاف فیصلہ بھی صادر فرمایا۔(کتاب الولاة والقضاة للكندى:۳۷۵)۔سچ تو یہ ہے ؛کہ ایسی مثالوں سے پوری تاریخ اسلامی تابناک ومنور ہے،جو عصر حاضر کے انصاف کو چیلینج بھی کرتی ہیں، اور ایک نمایا مشعل راہ بھی دکھاتی ہیں ،اور آج کے ظالم ومظلوم سسٹم کو اسلامی تاریخ کو برتنے اور وسیع القلب اور وسیع الفکر ہوکر مطالعہ کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔
✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412382
09/04/2018
Comments
Post a Comment