سنی سنائی باتوں پر یقین کا نقصان
*سنی سنائی باتوں پر یقین کا نقصان*
آگے گمان یا سنی سنائی باتوں کی بنا پر جوفیصلے کردیئے جاتے ہیں اس کے نقصان کا بیان ہے۔
’’أَنْ تُصِیْبُوْا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ‘‘ کوئی قوم تمہاری ناواقفیت یا طیش کا شکار نہ ہوجائے، جہالۃ کے دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں ایک مفہوم اس کا ناواقفیت کا ہے یہ علم کی ضد ہے اور دوسرا مفہوم اس کا طیش میں آجانے کا ہے یہ حلم کی ضد ہے، ظاہرہے دونوں صورتوں میں جب حقیقت حال سامنے آتی ہے توسوائے ندامت کے اورکچھ ہاتھ نہیں آتا، اسی لیے فرمایا ’’فَتُصْبِحُوْا عَلیٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ‘‘ اپنے کیے پرپھر تم کونادم ہونا پڑے۔
*اصولی باتیں*
اس آیت سے بعض اصولی مسائل سامنے آتے ہیں :
۱- غیرمعروف شخص کی نہ شہادت کا اعتبار ہے اور نہ روایت کا، قاضی اس وقت گواہی قبول کرسکتا ہے جب گواہ معروف ومعتبر ہو، عادل وثقہ ہو،اسی طرح روایت حدیث میں بھی اسی راوی کا اعتبار ہے جومعروف ہو، ’’جہالۃ راوی‘‘ اصول حدیث کی مستقل اصطلاح ہے، اس کے معنی راوی کا ناواقف ہونانہیں ہے بلکہ راوی کے بارے میں ناواقفیت مراد ہے،یہ جہالت راوی ان دس اسباب طعن میں داخل ہے جن کی بنا پر راوی مطعون ہوجاتا ہے اوراس کی روایات قبول نہیں کی جاتیں ۔(۱)
۲- کسی بھی ایسے عمل سے احتراز ہونا چاہیے جوباعث ندامت ہو، اس میں سارے گناہ اوربے احتیاطیاں شامل ہیں بطورخاص قاضی جب کسی کے بارے میں حد تعزیر، تاوان یا سزا کا فیصلہ کرے تواس کو بہت تفتیش وتحقیق کے بعدفیصلہ لینا چاہیے، ورنہ وہ خود قابل مواخذہ ہے۔
------------------------------
*(۱) نزھۃ النظر فی شرح نخبۃ الفکر/۱۳۲ـ۱۳۳ ، مطبوعہ سیداحمد شہید اکیڈمی دارعرفات، رائے بریلی*
*{وَاعْلَمُوْآ أَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اﷲِ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اﷲ َ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الإِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ، أُولٰـئِکَ ھُمُ الرَّاشِدُوْنَ، فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَنِعْمَۃً، وَاﷲ ُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ}*
*’’اور جان رکھو کہ اللہ کے رسول تم میں موجود ہیں ، اگر وہ اکثر چیزوں میں تمہاری بات مانیں گے تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے، البتہ اللہ ہی نے تمہارے لیے ایمان میں رغبت پیدا فرمادی اور کفر و نافرمانی اور معصیت سے تمہیں بیزار کیا، یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں ، (جو ہوا وہ) اللہ کے فضل سے اور اس کے احسان سے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘*
Comments
Post a Comment