آواز_دیجیے_کہ:"آپ اس حیوانیت کے خلاف ہیں
آواز_دیجیے_کہ:"آپ اس حیوانیت کے خلاف ہیں
ملک بھر میں اس وقت مجرمانہ حیوانیت عروج پر ہے، نربھیا کو روکنے کے لئے پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا تھا، نربھیا کے گنہگار کیفرکردار کو جا پہنچے، لیکن نربھیا کے بعد بھی بھوکے بھیڑیوں سے ملک کی معصوم کلیاں محفوظ نہیں ہیں، کیوں؟
اسلئے کہ: نربھیا کو نربھیا کی حیثیت سے لیا گیا تھا،
جبکہ: یہ انسانیت سوز بھیڑیا پن حیوانیت ہے اس کو انسانیت کے بنام ہوناچاہیے، آج پھر ملک کراہ رہاہے، ہر طرف سے چیخ وپکار سنائی دے رہی ہے، لیکن سسٹم میں بیٹھے سفّاک ظالموں پر کچھ بھی اثر نہیں ہورہاہے، وہ اپنی ڈھیٹ پالیسی کے تحت وقتی شور میں اسے دبانا چاہتےہیں، وہ ایک بار پھر نظرانداز کرکے بچ نکلنا چاہتےہیں، وہ ایک بار پھر بھیڑیوں کی حوصلہ افزائی کرکے سماج میں انارکی اور جرائم کو بڑھاوا دینا چاہتےہیں،
صاف اور سیدھی بات یہ ہیکہ، ہم جن لوگوں سے بھیک مانگ رہے ہیں، ان میں انسانیت نامی کوئی چیز ہی نہیں ہے، ملک کا وزیراعظم گجرات کے سفاک قتل عام کا ملزم رہ چکاہے، جی ہاں، ہمارے وزیراعظم نریندرمودی جی، جنہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اپنے سگوں کو نہیں بخشا، ان سے انسانیت کی امید کیسی لگائی جارہی ہے؟
اور پھر کیا اب یہ بات ڈھکی چھپی رہ گئی ہے کہ، حکومت اور اسکرین پر نظر آنے والی بھیڑ مہروں سے زیادہ کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی، ان کا ریموٹ کنٹرول ناگپور ہیڈکوارٹر میں ہے، ناگپور کے گرو گھنٹالوں کا مقصد منوسمرتی کا طبقاتی نظام ہے جس کے تحت وہ بھارتیوں کو پھر سے غلام بنانا چاہتےہیں، انہوں نے اپنے اس مقصد کو پانے کے لیے " ہندوراشٹر " کا نعرہ دے کر انہی شودروں کو اپنا محافظ بنایاہے جو ان کے پنجہء استبداد تلے ۲ ہزار سال سے سسک رہےتھے، ائے کاش یہ حقیقت ہندوستانیوں کو سمجھائی جائے ۔
ستر سال کی اپنی مسلسل جدوجہد کے بعد اب یہ فسطائی طاقتیں منہ کھول چکی ہیں، ان کی بھوک جاگ رہی ہے، وہ سماج کو برباد کرنا چاہتےہیں، وہ ہندوستانیوں کو جرائم پیشہ وحشیت کا عادی بنانا چاہتےہیں، ان کی نیتوں میں کھوٹ ہے، ان کے عزائم خطرناک ہیں، ان کی پیاس بڑھ رہی ہے، وہ بھیڑ تنتر چاہتےہیں، یہ لوگ آریائی عہد کا مندر چاہتے ہیں، جمہوریت پر قابض ہوکر یہ لوگ اسی کو پروان چڑھا رہےہیں، یہ ریشہ دوانیاں کسی ایک طبقے کو نہیں پورے ملک کو تباہ کردینگی، اس سے پہلے کہ معاشرے کی انارکی انتہائی درجے کو جاپہنچے اٹھیے، اس سے پہلے کہ انسانیت پر حیوانیت پوری طرح قابض ہوجائے اٹھیے، اس سے پہلے کہ پورا سسٹم بھرشٹ ہوجائے اٹھیے، اس سے پہلے کہ انسان، انسان کو سننا تک پسند نا کریں اٹھیے، اور پکاریے، کہ، ہم اس حیوانیت کے خلاف ہیں ۔
اناؤ ریپ کیس اور آصفہ سانحہ کے مجرمین کو اگر پھانسی نہیں ہوئی تو، کل کا بھارت مسموم ترین ہوگا، جس کا تصور رونگٹے کھڑے کردینے والا ہوگا، یہ دو معاملات اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ، اس کے مجرمین مجرمانہ نظریات پر یقین رکھتے ہیں، ان کو بچانے کے لیے ترنگوں کا سہارا لیا جارہاہے، جے شری رام اور بھارت ماتا کی جے جے کار کی جارہی ہے، یہ محترم رام کی توہین ہے، یہ ہمارے جان سے زیادہ پیارے ترنگے کی توہین ہے، اگر یہ آوارہ گھومتے رہے تو صرف جرم کی نہیں مجرمانہ اور وحشیانہ نظریے کی جیت ہوگی، پتہ نہیں کیا ہوگیاہے کہ ہمارے لوگ ایسے خطرناک مسائل نظرانداز کردیتے ہیں، اگر آج ہم اسقدر سنگین مسئلے کو بھی نظرانداز کرگئے تو یاد رکھیں، کل، ہم بھی بدترین نظراندازی کے شکار ہوں گے ۔
آئیے گھر گھر دستک دیں، رکشہ اور ٹرین سواروں کو جھنجھوڑیں، مندر اور مسجد میں پکاریں، حقیقت سمجھائیں عوام کو جگائیں، اس چھپی ہوئی بھیڑ کو ان کے بیرکوں سمیت نابود کردیں، اور ایک ساتھ ایک دن، ایک ہی وقت میں ملک کے ۱۰۰ مقامات سے پکاریں *ہم اس حیوانیت کے خلاف ہیں*، ہم مضبوط محنت و جدوجہد کے بعد للکاریں گے، اور ان شاءالله مؤثر للکاریں گے، ہندو مسلم سکھ عیسائی برابری کی سطح اور تعداد سے للکاریں گے، بیک گراؤنڈ، وسائل اور مشہور لوگوں کا انتظار نہ کریں،آپ میں عزم ہے تو یہ سب خود آپ میں ہے، یہی وقت ہے کہ آپ زندگی اور زندہ دلی کا ثبوت دیں، نوجوان عقابی روح کا منظر پیش کریں، ہم آپکے جواب کا انتظار کرینگے، اگر آپ تیار ہیں تو ای میل کریں، درج ذیل میل ایڈریس پر پیغام بھیجیں، پھر جلد ہی اگلی ترتیب طے کی جائے گی ۔
*سمیع اللّٰہ خان*
جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com
Comments
Post a Comment