یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

◼یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا◼

✍🏻 (محمد عدنان وقار صدیقی)
 
   "سانحہ قندوز" اس لفظ کو سن کر پتہر دل کانپ اٹھے, آسمان تھرّا گیا, زمین کے جگر میں زلزلہ بپا ہوگیا, سمندر کی موجیں تلاطم خیز ہوگیں, فضا میں خونی فوارے بلند ہوگئے, پہاڑوں پر رقت طاری ہوگئی, ھواؤں میں زہر گھل گیا,ندیوں کے پانی میں جمود پڑگیا, سبزہ زار سرخ ہوگئے, پھولوں نے مہکنا چھوڑ دیا, کلیوں نے چٹخنا موقوف کردیا,کائنات پر خوف چھاگیا, چرند و پرند, حیوانات و جمادات انسان کا یہ روپ دیکھ کر  دم بخوردہ ہوگئے, کہ یہ کونسی اشرف المخلوقات ھے, جو درجہ انسانیت سے گر کر درجہ حیوانیت سے بہی نیچے چلی جایئگی,

   جی ہاں! ہم اسی سانحہ قندوز کی بات کر رھے ہیں جہاں سینکڑوں معصوم ننہے حفاظ کرام کو لمحے ہی لمحے میں لہو کی سرخ چادر اڑھادی گئی, جن کے سفید چمکتے ہوئے خوشنما لباسوں کو خاکستر کردیا گیا, جس چمن میں وہ بستے تھے اس چمن کو رزم گاہ بنادیا, اور ایک بار پھر "بئر معونہ" کی خونریز تاریخ کو دہرایا گیا,ذرا کوئی پوچھے ان کا قصور کیا تہا؟ کس جرم کی انہوں نے سزا پائی؟ کونسا دہشت گرد ان شہداء میں مارا گیا؟ کوئی جواب کسی کے پاس نہیں؛ کیونکہ انکا جرم فقط مسلمان ہونا تہا, کیا اب بہی دنیا نہ سمجھےگی کہ یہ فقط اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کی بنا پر ہوا؟

لیکن  امریکہ و طاغوتی طاقتوں کی زر خرید غلام  میڈیا بالکل خاموش ھے, مانو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو, نہ ہی موم بتی مافیا آج کسی چوک پر جمع ہیں, نہ ہی کوئی ملالہ ماتم کناں ھے, نہ ہی ہیومن رائٹس کے کان پر جوں رینگی ھے, نہ کسی جمہوریت کو یہ وحشیانہ ظلم ناگوار خاطر گزرا ھے, نہ ہی مخنث اقوام متحدہ کا ایک عدد بیان جاری ہوا ھے, اور نہ ہی کروڑں کھربوں ریال سے امریکہ سے تجارتی معاہدے کرنیوالے ابن شاہ عبدﷲ نے اس سانحہ قندوز کے بعد لب کشائی کی ھے, نہ ہی غیرت ایمانی کے جذبہ کے تحت ان کروڑہا کروڑ ریالوں میں سے ایک ریال واپس لیا ھے, بلکہ سنگدلی کی تمام حدودوں کو تجاوز کرتے ہوئے انہیں عرب شاہوں نے امریکی قاتلین کو اسلام و امن کا عظیم حامی و داعی ہونے کا ثبوت دیا ھے, اگر عربوں کا سکوت نہ ٹوٹا تو پھر تم نے جو سوچا نہیں ہے، ہم نے جو دیکھا نہیں
اک نہ اک دن وہ بھی زیرِ آسماں ہوجائے گا۔

پھر جب اس ایکشن کا ری ایکشن ہوگا تب ساری دنیا شور مچایئگی اور تب انسانیت زندہ ہوگی؛ کیونکہ آج تو مارنیوالا کلین شیو ھے اور مرنیوالا مولوی, کل جب معاملہ برعکس ہوگا تو پھر وہ افراتفری اور ہر سو رونا دھونا برپا ہوگا کہ بس ...

*خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے*

لیکن میں تو عربوں کے حق میں یہ شعر کہتا ہوا بہی لرزتا ہوں مبادا شعر قبولیت کا شرف پالے اور مملکت سعودیہ میں کوئی غیر مترقبہ طوفان امڈے, اور  مارے خوف کے  ان بظاہر مردوں اور بباطن خواتین مزاج و ہمت عربوں کے پیشاب سے سرزمین مقدس ناپاک نہ ہوجائے, کیونکہ ان کی مردانگی تو فقط سبز گنبد کے پاس حاجی و عامر کے درود پڑھنے کے طریقے اور دعا پر شکنجہ کسنے کی حد تک جو رہ گئی ھے, ان کی لیاقت و قابلیت تو فقط اتنی باقی ھے کہ ذخیرہ احادیث سے مضمون جہاد و غزوات کی عبارات کو حذف کریں, تاکہ ان کے جسم و جاں اور رگ و پیشہ میں پیوست امریکی شرابیں دینے والے آقا خوش رہیں۔

*نہ بیباکی, نہ بیداری, نہ ہشیاری,*
*جوانی کتنی شرمندہ ھے نوجوانوں میں*

   عربوں کے لیے خصوصا اور مسلمانوں کے لیے عموما دعوت فکر اور جو پیغام ھے وہ فقط اتنا ھے:
*مسلح دیکھ کر*
*خنجرخرید*
*اے صوفئ دوراں*
*کہ قلبِ کفر میں*
*ماتم*
*بپا کرنے کے دن آئے*

   اس صبح جلسے کی خوشیاں عروج پر تہیں, اور خوشی کا تو آج موقع بہی تہا, سینکڑوں حاملین قرآن و محافظ کتاب کی دستار فضیلت جو تہی, ان معصوموں کی ماؤں نے مقدور بہر اپنے جگر گوشوں کو خوب سجا سنوار کر دولہا بناکر مدرسہ بہیجا تہا, برسوں کی امید کا درخت آج بار آور جو ہونیوالا تہا, آج ان کا آخری سبق تہا,اور وہ قرآن مقدس کی چند سطور سنانے مدرسہ کی جلسہ گاہ روانہ ہوچکے تھے, آج مدرسہ جانے کی جو خوشی تہی وہ تو دیدنی تہی, جلسہ گاہ عوام و خواص سے پر تہا, اور اس آخری سبق کو سننے کے لیے علماء کرام کی ایک مقدس جماعت کی تشریف آوری ہوئی تہی, کائنات کا ہر ذرہ , ہر بوٹہ, ان کے آخری سبق کا گواہ بننے والا تہا, پروگرام کا آغاز ہوتا ھے , کاروائی آگے بڑھتی ھے, اور سب نونہالان قوم اپنی اپنی باری کے موافق وحی الہی کی آخری چند سطور و آیات سناکر اکابرین کے دستہائے شفقت سے اپنے سروں پر تاجِ دستار بندھوا رھے تھے, اور جلسہ گاہ کے صدر مقام میں لگے اسٹیج کے سامنے والی نشستوں پر قطار در قطار جلوہ فگن تھے, معلوم ہوتا تہا کہ کچھ چھوٹے  چھوٹے ننہے ننہے آسمانی فرشتے آج سر زمین قندوز میں اتر آئے ھیں, اس وقت اگر کوئی معلوم کرتا کہ فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟ تو جواب دہندہ کا صاف جواب ہوتا کہ سامنے بیٹھی طلبہ کی قطار بالکل فرشتوں کی شبیہ ھے.

   ان معصوم جیالوں کی مائیں اپنے گھروں میں آج متعلقین و اقارب اور پڑوسیوں کے کہانے کا بندوبست کر رہی تہیں ۔انکے دل فرحت و انبساط سے سرشار و لبریز تھے, کہ آج بچوں کی تکمیل حفظ کے موقع پر سب مل کر کہانا کہاینگے, آج ہمارے جگر پارے سروں پر دستار سجائے اپنے دوستوں و رشتہ داروں اور مشفق
اساتذہ کرام کے جلو میں واپس آئینگے, پھولوں کے گجرے خالاؤں و چچیوں اور پھوپھیوں وغیرہ نے صبح صبح ہی بازار سے منگالیئے تھے,جیسے ہی وہ گھر واپس ہونگے انکو دولہا بنایا جایئگا, بہنیں اپنے بہائیوں کی خاطر طرح طرح کے پکوان تیار کیئے بیٹھی تہیں, محلہ و بستی کے بزرگ والدین کو بدھائی دیتے نہ تھک رھے تھے, اب سبہوں کو ان بچوں کے گھر واپس ہونے کا انتظار تہا, اور یہ شدت انتظار بڑی سخت گزر رہی تہی, بار بار دروازے کی جانب نگاہ اٹھ کر رہ جاتی, باہر سے آتی ہر آواز پر کان لگائے جاتے کہ یہ آواز ان کے سپوت کی ہو, لیکن دروازہ پر کوئی دستک نہ ہوتی, دستک ہوتی بہی کیسے ؛

      ادھر جلسہ گاہ تو قربان گاہ بن گئی تہی, سفید قالینیں سرخ کردی گئی تہیں, جسموں کے ہر سو ٹکڑے منتشر تہے, بارود کی بو ہر طرف چھاگئی تہی, فضا میں خون کی پھواریں تہیں, سارا جلسہ لاشوں میں تبدیل ہوگیا تہا, امریکی بزدلوں کا بمبار طیارہ بدنام زمانہ "ڈرون" اپنی مہلک کاروائی کو انجام دے چکا تہا, اور ننہے معصوم دستار بند دولہے بئر معونہ کے حفاظ شہدائے صحابہ کرام کی صف سے جاملے تہے, اور ان کی جنتی  دلہنیں ان کو اپنے حصار میں لے چکی تہیں, بزدل منافق اپنا کام کر چکا تہا, اور علماء و طلبہ و حفاظ کرام کے مقدس لہو سے ارض قندوز پر سرخ حاشیہ لگاگیا تہا,

*ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں*

  اُدھراہل خانہ جو سجے سنورے دعوت کا انتظام کرچکے تھے, یکایک ایک شور سنتے ھیں ان کو لگا کہ ان کا چشم و چراغ اب آہی گیا ھے , کسی نے چھت سے اور کسی نے راہداری سے اور کسی نے بیٹھک کی کھڑکی سے اور کسی دروازے کی جہیری سے آتی ہوئے بھیڑ کو دیکہا اور جہانکا,  ماؤں کو تو یہ احساس تہا کہ انکے فرزند اپنا آخری درس مکمل کرکے آرھے ہیں اور لوگ انکو خوشی میں ہاتہوں میں اٹھائے ہوئے ہیں ؛ لیکن ان کی سب امیدیں و جذبات اور شادمانی و فرحت آمیز جذبات کو گہن لگ گیا جب دروازے پر چند لوگ ان کے ننہے کو حوالے کر رھے تہے اور آہستہ سے کہہ رھے تھے کہ اس کی ماں کو بتادینا کہ اسکی دستار کے لیے دنیا فانی میں پگڑی نہ مل سکی, بلکہ یہ جنت کا باسی اپنی دستار کے لیے جنت گیا ھے, اسکی پگڑی قندوز کے مدرسہ میں نہیں؛ بلکہ حضور اکرم و دیگر انبیاء و رسل  کے مبارک ہاتھوں بئر معونہ کے طلبہ کے ساتھ باندھی جایئگی , جہاں مہمان خصوصی رب العالمین کی ذات بابرکت ہوگی, جہاں جلسہ کا انتظام جبرئیل اور دیگر فرشتوں کے ہاتھوں میں ھوگا, اور ان کے اعزاز میں آج جنت کو سجایا گیا ھے, آج جنت میں حفاظ کا ایک عظیم لشکر آیا ھے, وہاں خوب چہل پہل ہوگی, آج رب کریم خود اپنا کلام ان معصوموں کی شیریں زبان سے سنے گا, اور تکمیل حفظ کی سند پر ختامِ مسک ثبت فرمادیگا,ان کے چمن کے گل اپنی لطافت کی داد نہ پاسکے, اور 
تم ان کا انتظار مت کرنا کیونکہ
  
*نہ انتظار کرو ان کا اے عزا دارو*
*شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے*

    قربان جاؤں ان ماؤں پر کہ
جنہوں نے اپنے معصوموں کے ٹکڑے اپنے دوپٹے کے آنچل میں سمیٹ کر آنسووں کو پونچ کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا, اور کہنے لگیں یہ تو معلوم تہا کہ میرا لخت جگر  جنت کا دولہا ھے لیکن یہ امید نہ تہی کہ ابہی ننہی سی عمر میں اسکو نوشۂ جنت بنا جایئگا! ہمارا پھول کھلا ضرور تہا لیکن ابہی مسکرانے کی نوبت نہ آئی تہی, کہ ظالم نے ان کو کچل و مسل ڈالا, اور تمام مہمانوں سے استدعا کرنے لگیں:
*یہ بستیاں ہیں کہ مقتل، دعا کیے جائیں*
*دعا کے دن ہیں مسلسل، دعا کیے جائیں*
*غبار اڑاتی، جھلستی ہوئی زمینوں پر*
*امنڈ کے آئیں گے بادل، دعا کیے جائیں*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن