ہاں میں ڈاکٹر کفیل محمد خان ہوں۔۔۔!
ہاں میں ڈاکٹر کفیل محمد خان ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
ہاں میں ڈاکٹر کفیل محمد خان ہوں، جی وہی ڈاکٹر کفیل محمد خان جو بی آرڈی اسپتال گورکھپور میں بطور معالج خدمات انجام دے رہا تھا ۔ ۱۰؍اگست ۲۰۱۷ میں اسپتال انتظامیہ کی لاپروائی کی وجہ سے بچے جب آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مررہے تھے تو میں نے عقل وہوش سے کام لیتے ہوئے باہر سے آکسیجن لاکر مرتے بچوں کی سانس بحال کی ۔۔۔ اس حادثے میں کئی بچے لقمہ اجل بن گئے تھے اگر میں بروقت آکسیجن فراہم نہیں کرتا تو شاید یہ تعداد مزید بڑھ جاتی؛ لیکن شاید مجھے یہ نہیں کرناچاہئے تھا، میں نے یہ نیکی سمجھ کر کیا تھا ۔۔۔ انسانیت کی وجہ سے کیا تھا ۔۔۔ ایک ذمہ دار شہری کی وجہ سے کیا تھا کہ بچے مررہے ہیں انہیں حتی الامکان موت سے بچانا تھا ۔۔۔ میں بی جے پی میں نہیں تھا جو یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ ’اگست میں بچے مرتے ہی ہیں ‘ مجھ سے مرتے ہوئے بچوں کو دیکھا نہیں جارہا تھا؛ اسی لیے میں نے باہر سے آکسیجن لاکر مرتے بچوں کی جان بچائی ۔۔۔؛ لیکن اس کا صلہ مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے جیل میں ڈال کر دیاگیا۔
ہاں میں وہی کفیل محمد خان ہوں جس کی پیدائش اعظم گڑھ میں ۱۹۸۲ میں ہوئی ، میرے والد کا نام شکیل احمد ہے، او رمیری اہلیہ کا نام ڈاکٹر شبستاں خان ہے وہ بھی ڈاکٹرہیں اور پرائیوٹ نرسنگ ہوم چلاتی ہیں۔ میری ایک سال سات ماہ کی چھوٹی سی بچی ہے۔ میں نے اپنی تعلیم کستوربا میڈیکل کالج منی پال یونیورسٹی سے مکمل کی اور میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنا۔ میں وہی ڈاکٹر کفیل محمد خان ہوں جو بابا راگھو داس میڈیکل کالج میں بچوں کی بیماری کے شعبہ میں نوڈل آفیسر تھا ، میں ۸؍اگست ۲۰۱۶ کو یہ اسپتال جوائن کیا اور ایک سال بعد مجھ پر قیامت گزری اور ایک سال سے جہنم میں ہوں۔ گورکھپور بی آرڈی کالج سانحے کے بعد مجھ پر الزام عائد کیاگیا کہ میں بی آرڈی کالج سے آکسیجن چرا کر اپنے نجی اسپتال میں رکھتا تھا حالانکہ آکسیجن کی سپلائی کمپنی نے انتظامیہ کی جانب سے پیسہ نہ دینے پر ٹھپ کی تھی۔ جس کی اطلاع سبھی کو تھی؛ لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی اور اتنا بڑا سانحہ رونما ہوا۔ اور جس نے اس سانحے میں مکمل تعاون کیا؛ بچوں کو مرنے سے روکا اسے ہی تمام تر ذمہ داریوں سے سبکدوش کرکے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے پابند سلاسل کردیاگیا ۔ ہاں میں وہی ڈاکٹر کفیل احمد ہوں جس پر میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشرااور ان کی اہلیہ پورنما شکلا کے ساتھ ۶۸ مریضوں کی موت کا ٹھیکرا پھوڑا گیا۔ اور ان دونوں کی گرفتاری کے ایک دن بعد مجھے بھی گرفتار کرلیاگیا۔ ہاں میں وہی کفیل محمد خان ہوں جس نے بچوں کی موت سے ناراض اہل خانہ کو دلاسہ دیا، انہیں پرامن رہنے کی تلقین کی، میں نے ان کے اہل خانہ کو سمجھایا جو اپنے بچوں کو کھونے کیوجہ سے پریشان تھے اور غصے میں تھے ۔ ہاں میں وہی کفیل احمد خان ہوں جس سے ۱۳؍اپریل کی صبح وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پوچھا تھا کہ’’ "آپ ہی ڈاکٹر کفیل ہیں اور آپ نے ہی سلینڈر کا انتظام کیا ہے‘‘؟ جس پر میں نے کہا تھا ہاں؛ لیکن یوگی جی غصے میں کہہ گئے کہ سلینڈر کا انتظام کرنے سے آپ ہیرو بن جائیں گے؟ میں اسے دیکھتا ہوں! اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ ان کے دیکھنے کا مقصد کیا تھا؟ وہ سرکار جو مجھے بنا جرم کے جیل میں ڈالنے کے لیے اتنی فرصت میں تھی کہ آنا فاناً ہی مجھے بلی کا بکرا بنادیا؛ لیکن عصمت دری کے ملزم اپنے ممبر اسمبلی پر مقدمہ درج کرنے کے لیے ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، رائے عامہ جب مکمل چیخ وپکار کرنے لگی اور عدالت نے پھٹکار سنائی تب جاکر اس ممبر اسمبلی کو گرفتار کیا؛ کیوں کہ وہ ان کی پارٹی سے تھا ، وہ تمام جرائم کے بعد بھی مجرم نہیں تھا ، مجرم تو ہم سیدھے سادھے عوام ہوتے ہیں جن کا کوئی گناہ بھی نہیں، پھر بھی وہ مجرم؛ کیوں کہ وہ نچلے طبقات سے ہیں، مجرم انائو متاثرہ کا باپ تھا جسے مار دیاگیا ، مجرم میں ہوں جو جیل میں ہوں۔
ہاں میں وہی ڈاکٹر محمد کفیل ہوں؟ جسے اس سانحے کے بعد پولس ٹارچر کرنے لگی، اہل خانہ کو دھمکیاں دی جانے لگی، لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پولس مجھے انکائونٹر میں بھی مروا سکتی ہے، میرے اہل خانہ سہمے ہوئے تھے، ڈرے ہوئے تھے، میں نے اپنے اہل خانہ کو بچانے کے لیے یہ سوچ کر سرینڈر کیا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے مجھے جلد ہی انصاف ملے گا، لیکن نہیں۔ دن بیت گئے، ہفتے بیت گئے، مہینے گزر گئے، اگست سے لے کر ۱۸؍اپریل تک ہولی آئی، دسہرہ آیا، کرسمس چلا گیا، نیاسال آیا، دیوالی آئی، مجھے لگتا تھا کہ ضمانت مل جائے گی، لیکن اب لگنے لگا ہے کہ عدلیہ بھی دبائو میں کام کررہی ہے، زندگی صرف میرے لیے نہیں میرے اہل خانہ کے لیے بھی جہنم بن چکی ہے، انصاف کے لیے میرے اہل خانہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ رہے ہیں، پولس اسٹیشن سے کورٹ تک، گورکھپور سے الہ آباد تک؛ لیکن یہ جہد مسلسل لاحاصل، کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں میں وہی ڈاکٹر کفیل ہوں جن کی ویڈیو آپ نے ان دنوں دیکھی ہوگی کہ کس طرح پولس مجھے میڈیا سے دور رکھ رہی ہے تاکہ میڈیا کے سامنے میں حقائق نہ بیان کردوں، مجھے میڈیاکے سامنے نہیں آنے دیا جارہا ہے پھر بھی میں پر امید ہوں سارے حقائق منظر عام پر آجائیں گے اور میرا خدا مجھے انصاف فراہم کرے گا۔
ہاں میں وہی ڈاکٹر کفیل محمد خان ہوں جو گزشتہ آٹھ ماہ سے اپنے ناکردہ جرم کی سزا جیل میں کاٹ رہا ہے۔ میں ان دنوں بیمار ہوں، خرابی صحت کے باعث نقاہت آگئی ہے؛ لیکن پھر بھی مجھے مناسب علاج مہیا نہیں کیاجارہا ہے۔ میں صدمے میں ہوں، میرے اہل خانہ نڈھال ہیں انہیں خوف ہے کہ کہیں پولس مجھے انکائونٹر میں نہ ماردے، کہیں میری ایک سالہ بچی یتیم نہ ہوجائے۔ کیا انسانیت کی خدمت کا صلہ جیل ہے؟ جسے عزت دینی چاہئے تھی مسلم مخالف حکومت اسے جیل میں ڈال کر ذلیل کررہی ہے، مجھے آج بھی سانحہ گورکھپور یاد ہے، میں کبھی کبھی اپنے آپ سے سوال کرڈالتا ہوں کہ کیا میں سچ میں گنہ گار ہوں؟ تو دل کی گہرائی سے صاف جواب ملتا ہے نہیں؟ نہیں؟ ۱۰؍اگست کو وہاٹس ایپ پر جب مجھے خبر ملی تو میں نے وہ سب کچھ کیا جو ایک ڈاکٹر ، ایک والد اور ملک کے ایک ذمہ دار شہری کو کرنا چاہئے ؟ میں نے تمام بچوں کو بچانے کی کوشش کی جو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے خطرے میں تھے مجھ سے جتنا ممکن تھا میں نے اتنا کیا؛ لیکن لیکن۔۔ہائے افسوس۔۔۔ہائے دوہرا رویہ۔۔۔ یہ سب کرنے کے باوجود مجھے ہی گنہ گار تصور کیاگیا۔ آخر کیا جرم ہے میرا؟ ہم لوگوں کو بلی کا بکرابنایا گیا ہے؛ تاکہ سچائی گورکھپور جیل میں ہی رہ جائے، جب منیش کو ضمانت ملی تو مجھے بھی لگا کہ جلد ہی انصاف مل جائے گا او رہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ خوشی سے زندگی بسر کریں گے؛ لیکن ہم لوگ ابھی بھی انتظار کررہے ہیں ، میں امید کرتا ہوں کہ وقت آئے گا جب میں رہا ہوجائوں گا او راپنی بیٹی اور اہل خانہ کے ساتھ رہنے لگوں گا، مجھے انصاف ضرور ملے گا۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں ڈاکٹر کفیل محمد خان کے خط سے مدد لی گئی ہے اور کہیں کہیں من وعن ان ہی کے جملے استعمال کیے گئے ہیں جو کہ انہوں نے جیل کے اندر سے لکھے ہیں۔
۔۔۔منکووووووول۔۔۔
Comments
Post a Comment