اتر پردیش میں آپ کا استقبال ہے
*اتر پردیش میں آپ کا استقبال ہے*
یہ وہی ریاست ہے جس کو مذہبی و ملی اعتبار سے خواہ مسلمان ہو کہ ہندو انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے،
ہندوؤں کے مقدس مقامات یوپی کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں،
تو ملت اسلامیہ کے لئے اسلامی قلعوں کی حیثیت رکھنے والے دینی مدارس کی قیادت کرنے والی اکثر جامعات اسی ریاست میں پھل پھول رہی ہیں،
جنگ آزادی میں مذکورہ ریاست کا رول ناقابل فراموش رہا ہے،
اور آزاد بھارت میں بھی اس ریاست کو دہلی کی سلطنت تک پہنچنے میں اہم تصور کیا جاتا ہے،
اس ریاست کی تہذیب و تمدن، زبان و ادب کو ملک بھر میں ممتاز مقام حاصل ہے،
الغرض متنوع اقسام کے اوصافِ دلربا سے یہ ریاست ملک و بیرون ملک مشہور و معروف رہی ہے،
*لیکن آجکل یہ ریاست اپنی ماضی کے امتیازات کے برعکس نظارہ پیش کر رہی ہے،*
جہاں کبھی ہندو مسلم بھائی چارے کا بسیرا ہوا کرتا تھا اب دنگے، فساد، اسکی جگہ لے چکے ہیں،
کسانوں کی خودکشی کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے،
ریاست کے کئی أضلاع پینے کے پانی کی قلت کا شکار ہیں،
غذائی قلت اپنے عروج پر ہے، کرپشن ماضی کے تمام اعداد و شمار کو پچھاڑ تے ہوئے 2018 میں سب سے اول صف میں جا بیٹھا ہے،
حضرتِ انسان کے معصوم بچے آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں،
مریضوں کو علاج کے لئے کوئی ڈھنگ کا سرکاری ہسپتال میسر نہیں،
سڑک سے لیکر گلیوں تک بنیادی سہولتوں کا زبردست فقدان ہے،
غریب عوام حکومتی کارندوں کے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے،
پولس، پرساشن بے لگام ہے، تھانے چوکیاں اہلِ مال و منصب اور نیتاؤں کے حکم پر کام بجالاتی ہیں،
کس کی بیٹی کو یہ مغرور نیتا، سیاسی جماعتوں کے گنڈے، وزراء، اور اقتدار کے نشے میں چور کب اٹھا لیں
اور اس معصوم بچی کی ردائے عصمت کو تار تار کردیں کچھ کہا نہیں جا سکتا!
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی فلم چل رہی ہے،
لیکن اسکی شوٹنگ افسانہ نہیں بلکہ حقیقت میں ہی کی جا رہی ہے،
*ابھی تازہ ترین واقعہ اناؤ کا ہے، جو ایک درد مند اور انصاف پسند انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے،بچی کے ساتھ گینگ ریپ کیا جاتا ہے،*
سال بھر تک پولس فورس شکایت تک درج نہیں کرتی بلکہ مزید ظلم یہ کیا جاتا ہے، باپ کو اٹھاکر اتنا مارا جاتا ہے کہ وہ اپنی بچی کو کیا انصاف دلاتا خود اپنی زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے،
یہ وہ منظرنامہ ہے جسکو لیکر ہر انصاف پسند انسان سسک اور تڑپ رہا ہے،
اور ریاست کے وزیر اعلیٰ سرکاری دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ، کو بھگوا رنگ میں رنگوانے میں مگن ہیں،
یہ حکومت نہ ہندوؤں کی ہے نہ مسلمانوں کی یہ صرف انارکی، غرور اور ہوس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے باقی عوام جائے بھاڑ میں:
اب وقت آ چکا ہے کہ رام راجیہ کے نام پر بننے والی حکومت سے سوالات کئے جائیں،
اور حق و صداقت کے لئے کمر بستہ ہوا جائے،ورنہ یہ حکومت جس تیزی سے انارکی والے سماج کو جنم دے رہی، جس طرح جرائم کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ صاف محسوس ہورہاہے کہ، اب اتر پردیش میں اہل مال و منصب کے بگڑے ہوئے شہزادوں کا ننگا ناچ ہوگا، عصمتوں پر عفتوں پر، جان و مال پر، یہ درندے جھپٹتے جائیں گے، اور ایک دن ان کے ہاتھ بہت لمبے ہوجائیں گے ۔
*محمد فرقان سیف*
*کاروانِ امن و انصاف*
Comments
Post a Comment