بچوں کی تربیت اور والدین کے فرائض

بچوں کی تربیت اور والدین کے فرائض
ہمارے ساتھ تقریباً ہر روز ہی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے کہ کوئی نہ کوئی ماں آتی ہے کہ میرے بچے یا بچی کو فلاں ٹیچر یا کسی دوسرے بچے نے مارا ہے، ہزار تسلی کراؤ کہ بی بی اسے کسی نے نہیں مار، ا یہ صرف آپ کی بے جا محبت اور پیار کا فائدہ اٹھا رہا ہے، وہ ہر گز نہیں مانے گی۔ اس کی تسلی صرف ایک بات سے ہوگی کہ واقعی تمہارا بچہ بالکل مٹی کا مادھو اور بھولا بھالا ہے اس کا کوئی قصور نہیں سب غلطی دوسروں کی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہر ماں بچے کو سینے سے لگائے بڑی رندھی ہوئی آواز میں یہ ساری کہانی سنائے گی، وہ چھوٹا سا ذہن جو یہی سننے کے لیے اپنے ماں کو الٹی سیدھی باتیں بتا کر سکول لاتا ہے اس کی تو موج ہوگئی۔ والدین کی یہی کمزوری بچے کو پڑھائی سے بھی اور اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہونے کی دونوں صلاحیتوں سے محروم کردیتی ہے۔
سمجھد ا ر والدین بچے کی شکائت سننے پر اس پر غور کرنے کے بعد اگر واقعی سکول کے کسی ذمہ دار آدمی تک پہنچانے والی ہے سکول آتے ہیں، بڑے مناسب اور سلجھے ہوئے طریقے سے بات کرکے کہتے ہیں کہ بچہ یہ شکائت کررہا ہے، آپ چھان بین کر لیں ، اگر شکائت جائز ہو تو تدارک کردیا جاتا ہے، اگر بچے نے مرچ مصالحہ لگا کر بات کا بتنگڑ بنا دیا ہو تو معذرت کر کے چلے جاتے ہیں اور اپنے بچے کی اصلاح کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایسا ہی ایک آدمی اپنی بچی کی شکائت لایا کہ کسی ٹیچر نے اس کی نامناسب ڈانٹ ڈپٹ کی ہے جب میں نے تفتیش کی تو بات قطعاً غلط تھی، وہ کچھ شرمندہ ہوگیا۔ میں نے اسے بٹھا کر سمجھایا کہ تمہاری جوان بچی ہے، اگر گھر جا کر اسے ڈانٹ ڈپٹ کروگے تو اس میں شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے بچھتاوے کا منفی احساس بھی شدت سے بیدار ہوگا، بہتر ہے کہ بڑے پیار سے اسے ٹیچر اور شاگرد کے باہمی رشتہ سے آگاہ کرو اسے شرمندہ کرنے کی بجائے اس میں اصلاحی سوچ پیدا کرو۔
ہفتہ عشرہ بعد وہ لڑکی میرے پاس دفتر میں آئی کہنے لگی سر میں اکیلے میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔ اتنا کہہ کر وہ رونے لگی، میں نے اسے کہا کہ اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو اپنی ٹیچر سے Sorryکرو۔ یہ سلجھے ہوئے گھرانوں کا مثبت کردا ر ہوتا ہے۔ جو ان کی اپنی اولادوں اور معاشرے کے لیے ایک نشان منزل بن جاتا ہے۔
ایک اور واقعہ سنئیے، دوسال پہلے ایک بچہ نرسری میں داخل ہوا، تھوڑے دنوں بعد اس کی والدہ اسے گلے لگائے دفتر میں شور مچاتی آئی کہ میرے بچے کو دوسرے بچے مارتے ہیں۔ بڑے جلال میں اند ر کی طرف زور دے رہی تھی کہ جن بچوں نے اسے مارا ہے، انہیں میں نہیں چھوڑوں گی۔ مجھے چھیاسٹھ سالوں میں ایسے لوگوں سے بے شمار واسطہ پڑتا رہا ہے، خاموشی بہتر ہوتی ہے۔ میں چپ کر کے بیٹھا رہا، جب جھاگ ذرا بیٹھ گئی تو میں نے متعلقہ ٹیچر کو بلایا، پوچھا کیا مسئلہ ہوا ہے؟ وہ کہنے لگی سر یہ وہی بچہ ہے جس نے کل تفریح کے وقت بچے کے پیٹ میں لات ماری تھی۔ مجھے بھی پچھلے دن کا واقعہ یاد آگیا میں نے اس عورت کو بڑی دیر سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھی کہ میرا بچہ کبھی جھوٹ نہیں کہتا ، وہ اسے سکول سے لے گئی دو تین سکول بدلنے کے بعد پھر میرے پاس آئی۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا بی بی بچے کو تو ہم پڑھا لیں لیکن آپ کو پڑھانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اگر اس کی والدہ کا بچے کے ساتھ یہ رویہ نہ ہوتا تو وہ بچہ کم از کم آج تیسری کلاس کا طالب علم ہوتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ دیہات میں ہم اس وقت تک نہیں معاشرے کو نہیں بدل سکتے جب تک نئی پود کو تیار نہیں کرسکتے اور نئی پود اس وقت تک تیار نہیں ہوسکتی جب تک ہم والدین کو صحیح خطوط پر تعلیم و تربیت سے آراستہ نہیں کرلیتے، 1952میں حکومت پاکستان نے دیہات سدھار کے نام سے ایک پروجیکٹ شروع کیا تھا، اس پروگرام میں دیہات میں پیش آنے والے ان تمام مسائل کے حل کے لیے غور کیا جاتا جس سے انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوسکیں۔
ان میں ایک پروگرام تعلیم بالغاں کا بھی تھا جس کسی نے بھی اس پروگرام کے متعلق سوچا تھا اس کا مقصد یقیناًیہی تھا کہ جب تک بوڑھوں کی صحیح تربیت نہیں ہوگی وہ اپنی آنے والی نسلوں کو معاشرے کا صحیح شہری نہیں بنا سکیں گے ۔
دیہات سدھار کے پروگرام کو مجھے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں جب لالہ موسیٰ ٹریننگ کے لیے داخل ہوا وہاں قریب ہی دیہات سدھار کا دفتر تھا۔ وہاں کے ڈائریکٹر اٹک کے رہنے والے تھے، جب میں مرزا کمبیلی میں تھا تو وہ یہاں محکمہ تعلیم میں ADIتھے۔ وہ میرے ایک بہت ہی قریبی اور محترم بزرگ سید علی قدر شاہ آف چوآخالصہ کے قریبی دوست تھے۔ اس لحاظ سے میری ان سے شناسائی پہلے سے چلی آرہی تھی، میں اکثر ان کے دفتر میں جاتا رہتا ، دیہات سدھار کے اس پراجیکٹ کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی، اس پراجیکٹ میں تعلیم بالغاں کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ اور اخلاقیات کے پروگرام پر خصوصی توجہ دی جاتی۔
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر اس طرح کے پروگرام ہمارے اولڈ ایج معاشرے میں رائج کیے جائیں تو ہمارے پاس سوشل ورکرز کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں، یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف ’’مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ دے کر ہم اس گپ اندھیر ے کو ختم نہیں کرسکتے۔
انتہائی ضروری ہے کہ بامقصد تعلیم کے لیے بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں، ان تبدیلیوں کو کامیاب بنانے کے لیے والدین میں تبدیلیاں لانا ضروری ہے ۔ ایک وقت ایسا آسکتا ہے کہ یہ معاشرہ ان شاء اللہ دنیا کے مہذب معاشروں کی صف اول میں ہوگا۔
اگر ہم ماضی میں تعلیم میں پیش آنے والے حالات و واقعات سامنے رکھیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو ماہرین تعلیم سمجھتے ہیں وہ ساٹھ پینسٹھ سالوں میں ایک ایسا تعلیمی نصاب بھی نہیں دے سکے، جو کم از کم 5سال تک تو برقرار رہ سکتا ۔ ساتھ ہی ساتھ، معاشرہ بچوں کی اندھی محبت میں اس حد تک حساس ہوچکا ہے کہ وہ استاد کو کسی بھی صورت میں یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں کہ وہ بچے کو اس کی غلطی پر باز پرس کرسکے، دوسرے لفظوں میں ہمارے معاشرے نے جزا اور سزا کے تصور کو بیک جنبش قلم ختم کردیا ہے۔
ایک بات بار بار میرے ذہن میں کلبلاتی رہتی ہے کہ والدین بچے کی فیس زیادہ ہونے یا اسے ڈانٹ دپٹ کی شکائت لے کر جھٹ سے سکول پہنچ کر ٹیچر سے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن بہت کم والدین ایسے ہیں کہ صرف اس بات پر استاد کی باز پرس کریں کہ ان کا بچہ پڑھائی میں کیسا جارہا ہے ۔ استاد کی طرف سے اسے مکمل توجہ مل رہی ہے یا نہیں اگربچہ کسی وجہ سے استاد سے تعاون نہیں کررہا تو استاد اور والدین دونوں مل کر اس گتھی کو کیسے سلجھا سکتے ہیں۔
اگرمیں اپنی اس بحث کو ایک جملے میں ختم کردوں تو وہ یوں ہے’’ کہ ہم نے سہولیات کے مقابلے میں علم کو پسِ پشت ڈال دیا ہے‘‘۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن