بھارت کی تقدیر، مظالم اور احتجاج

*بھارت کی تقدیر، مظالم اور احتجاج*

اگر جائزہ لیاجائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی کے بعد سے اب تک حکومتی سطح پر ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ علاقائی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر سیاسی منصوبے بنائے گئے، اس طرح مظالم کی نئی نئی کہانیاں لکھی گئیں اور پھر مظلوموں کی طرف سے الگ الگ نوعیت کے احتجاج ہوئے، ظاہر ہے کہ مظلوم ہمیشہ مسلمان یا او بی سی، ایس سی، ایس ٹی رہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کے اس دور حکومت میں مظالم کی تعداد نوعیت میں اضافہ ہوا ہے، مگر طویل مدت سے مسلمان جس جماعت کے حاشیہ بردار ہے اس کا ہاتھ بھی ملک کی یہ تصویر بنانے میں کسی سے کم نہیں رہا، سچر کمیٹی کی رپورٹ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تعلیم اور سرکاری نوکریوں کو کنارے رکھیے، تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ ملک کا ہر چوتھا بھکاری مسلمان ہے۔
موجودہ بھاجپائی حکومت کے چار سالہ دور اقتدار میں قانونی دہشت گردی الگ ظلم ڈھاتی رہی، جبکہ بھاجپا کی شہ پر حیوان بن جانے والے انسانوں کے ذریعہ اپنے ہی جیسے انسانوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیے جانے کے واقعات الگ سامنے آتے رہے، ابھی دو دن قبل گجرات سے ایک خبر آئی کہ ایک دلت نوجوان کو محض اس لیے گلا کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کہ وہ گھوڑا پالتا تھا، گھوڑے پر بیٹھے ہوئے اس کی تصویر اور اس کی موت کے بعد کی تصویر بہت وائرل ہوئی، ۲ اپریل کو ایس سی ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم اور رزرویشن کو لے کر دلتوں نے ملک گیر احتجاج کیا، معمول کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی، کروڑوں کی املاک تباہ کی گئی، لیکن کیسا زوردار احتجا ج تھا کہ حکومت ۲ اپریل کو ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی، دوسری طرف ہمارا احتجاج ہے جو تقریبا ایک سال سے جاری ہے اور ادھر دو مہینے سے ہماری عفت مآب خواتین نے احتجاج کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، دلتوں کے ایک دن کے احتجاج پر مسٹر ہوم منسٹر نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر حکومت کی منشا کے متعلق صفائی دے کر دلتوں کو مثبت پیغام دیا اور مسلمانوں کے کثیر تعداد میں احتجاجی جلسوں کے باوجود پارلیمنٹ میں کوئی بھی ان کی حمایت میں نہ کھڑا ہواچہ جائیکہ حکومت کی طرف سے کوئی مثبت رویہ ہی آتا، یہی نہیں بلکہ ہمارے احتجاج کے کارٹون بنائے گئے، ان کو کوریج تو کیا دیا جاتا ان کا مذاق بنایا گیا، عین اس وقت جب تین طلاق بل کے خلاف یہ احتجاج جاری تھے عدالت عالیہ نے حکومت سے حلالہ، تعدد ازدواج اور متعہ وغیرہ کے بارے میں اس کی رائے طلب کر لی۔
سچی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم جیسے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے، کیوں کہ ہمارے یہاں کا مزاج اور عام مزاج یہ ہے کہ رائے کے اختلاف کو اولین مرحلہ میں گمراہی اور آزاد خیالی، گستاخی و بے ادبی سے جوڑ دیا جاتا ہے، تنقید کو ضیغ وضلال کا نتیجہ قرار دے کر ناقد کو راندۂ درگاہ سمجھ لیا جاتا ہے، اور کم از کم یہ تو ضرور ہوتا ہے کہ سوچنے اور بولنے والوں کو متملقین اور جی حضوری کرنے والوں سے بہت پیچھے دھکیل دیا جا تا ہے، یہی نہیں بلکہ جزئیات میں اختلاف رائے اور خالص اجتہادی مسائل میں اختلاف موقف کے سبب ’’من شذ شذ فی النار‘‘ کے طعنے دے کر یزی جہالت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔
یہ خدشات اپنی جگہ مگر ہم کو یہ کہنے دیجئے کہ ہمارے احتجاج بے دم ہوتے ہیں، ہمارے نعروں کے پیچھے کوئی طاقت نہیں ہوتی جو ان کو حقیقت میں تبدیل کرے، ہمارے یہاں ذاتی اور عارضی مفادات پر مبنی سیاست کی کارفرمائی اپنا کام کرتی ہے، کوئی طویل المیعاد منصوبہ اور ٹھوس پالیسی و حکمت عملی نہیں ہوتی، اس پر مستزاد یہ کہ مسلسل زوال اور ناکامیوں نے ہماری قوم کے اعتماد کو بری طرح سے متزلزل کر دیا ہے، جس کے نتیجہ میں ہمارے یہاں ایک ہی وقت میں کئی کئی بڑی بڑی کانفرنسیں اور الگ الگ احتجاجی جلوس ہوتے ہیں، قومی یکجہتی اور انسانی اقدار کے نام پر کانفرنسوں میں مختلف مذاہب کے پیشواؤں کو بلایا جاتا ہے، مگر جواب میں ان کی طرف سے کبھی ایسا نہیں ہوتا، ان مذہبی پیشواؤں میں سے بعض تو وہ ہیں جن کو میں جانتا ہوں اور جن کا تجربہ بھی ہے کہ وہ پچیس تیس منٹ گفتگو کرنے کے لئے پیتیس۔چالیس ہزار کی رقم ایڈوانس اکاؤنٹ میں جمع کرا لیتے ہیں اور پھر توحید پر ان کی تقریر ماشاء اللہ، ایک صاحب بہت جھوم کر نعت پڑھتے ہیں مگر ستر اسی ہزار ایڈوانس جمع کرواتے ہیں، ایک جگہ تو انھوں نے ستر ہزار جمع کرکے ہڑپ لیے اور تشریف بھی نہیں لے گئے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا اپنی قوم میں نہ کوئی وجود ہے نہ اثر، یہ حال ہے ہماری یکجہتی کے لئے کی جانے والی کانفرنسوں اور احتجاجی جلسوں کا جس پر ملت کا بڑا سرمایہ صرف ہوتا ہے، ذاتی مفادات اور سیاسی گٹھ جوڑ کے متعلق میں یہاں گفتگو نہیں کروں گا، حالانکہ تمام کاموں کو بے اثر بنانے میں اس کا بڑا کردار ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی اہم چیز یہ ہے کہ ہمارے یہاں کوئی متحدہ قومی پالیسی نہیں ہوتی، جس کا بڑا سبب ہماری تنگ نظری ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ مسئلہ جتنا با وزن ہوگا اس پر احتجاج بھی اتنا ہی با وزن ہوگا، مگر جب مسئلہ اختلافی ہو، اور اس کی بنیاد ہی غیر یقینی اور غیر مستحکم ہو تو احتجاج کے اثرات وہ مرتب نہیں ہو سکتے جو ہونا چاہیے، تین طلاق کے مسئلہ پر یہی ہوا ، ذرا جب پہلی بار یہ مسئلہ اٹھایا گیا اس وقت کا ہمارا اداریہ پڑھ لیا جائے اور تب سے اب تک کی ہماری کارروائی کا جائزہ لے لیا جائے، ظاہر ہے کہ ہم عوامی اور حکومتی دونوں سطح پر شریعت کی تفہیم وتشریح نہ کر سکے، یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مسلکی تشدد ہمیشہ تفہیم شریعت اور تعارف اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنا ہے۔
ابھی حلالہ کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے، پہلے ہی دن دو نقطہ نظر سامنے آگئے، ایک میں مروجہ حلالہ کو شریعت کا جز ہی نہیں مانا گیا اور دوسرے میں اس کو شریعت کا جز تسلیم کیا گیا، جنھوں نے اس کو شریعت کا حصہ تسلیم کیا انھیں معذور سمجھنا چاہیے مگر یہ کہنا ضروری ہے کہ انھوں نے پھر وہی حرکت کر دی جس سے احتجاج غبارہ بن جایا کرتا ہے، البتہ جنھوں نے اس کو شریعت کا جز نہیں تسلیم کیا ان کے لیے مقام غور و فکر ہے، اول یہ کہ مسلمانوں میں طلاق کے واقعات دوسروں کے بالمقابل بہت کم ہوتے ہیں، مگر جو ہوتے ہیں وہ اکثر تین طلاق کے ہوتے ہیں، پھر بھی حلالہ کے واقعات کم ہوتے ہیں، مگر جو ہوتے ہیں ان کی اجازت اس طرح کیوں دی جاتی ہے، حلالہ کی نیت سے نکاح کی اجازت ایسے ماحول میں کیسے دے دی جاتی ہے جبکہ لوگوں نے اس کو ایک کھلواڑ بنا لیا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لعنت رواج پاگئی، کیوں ایسا ہوا کہ حلالہ ایک عار اور ایک لعنت بن گیا، ہم اب تک یہ کیوں نہ سمجھا سکے کہ حلالہ کا اسلام میں تصور نہیں، ہاں تین طلاق کے بعد اگر یہ مطلقہ کہیں اور شادی کر لے پھر اتفاقا وہاں بھی اس کا نباہ نہ ہو سکے اور وہ علحدگی اختیار کر لے، پھر زندگی کے کسی موڑ پر اس پہلے شوہر سے بات بن جائے تو اب یہ اس کے لیے حلال ہوگی، کیوں کہ درمیان میں اس کا ایک اور نکاح ہو چکا ہے، ہم کیوں نہ بتا سکے کہ دوبارہ یہ نکاح و طلاق محض اتفاقی ہے، اس میں منصوبہ بندی (Pre plan) کا کوئی دخل نہیں، بلکہ مجھے معاف کیا جائے ابھی ایک اور ریلی ہوئی اور اس میں ایک ذمہ دار شخصیت کے منہ سے یہ بات نکلی کہ حلالہ کو مت چھیڑیے، حلالہ کی ضرورت آپ کو بھی پڑے گی، یہ کہہ کر بی جے پی کو مشورہ دیا گیا، حلالہ ایک سزا تھی، حلالہ ایک لعنت تھی، لعنت سے متصف حلالہ کا اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں، ہاں جو حلالہ سزا ہے اس کی گنجائش ہے مگر وہ بھی ضرورت کہاں سے ہوگیا۔
مسلمانوں کے اکثر احتجاج ملی مفادات اور وسیع تر امکانات سے عاری ہوتے ہیں، بلکہ پسِ پردہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، جس سے وقتاً فوقتاً پر دے اٹھتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے احتجاجوں اور بڑی بڑی ریلیوں اور کانفرنسوں میں صرف مزدوروں کی گاڑھی کمائی برباد ہوتی ہے، پسِ پردہ طے کیے گئے مقاصد تو پورے ہوتے ہیں مگر قومی سطح کے مسائل ۷۰ سال سے جوں کے توں باقی ہیں، بلکہ ان میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، فسطائی طاقتوں کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد جس قدر تشویش کا اظہار کیا گیا، افسوس یہ ہے کہ اسی قدر غیر دانشمندانہ رویہ اپنایا گیا، موجودہ منظر نامہ کا اگر جائزہ لیا جائے تو یقین کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مسلمانوں نے اپنی غیر دانشمندانہ پالیسی کے سبب ہندوؤں کو متحد ہونے کی دعوت دی ہے اور آر ایس ایس کے خاکے میں پوری طرح رنگ بھر دیا، ۲۰۱۹ء پھر ان کے نام کرنے کی تیاری مکمل کر دی ہے۔
اس کے برخلاف اگر دلتوں پر مظالم کا جائزہ لیا جائے تو وہ مسلمانوں سے کسی طرح بھی کم نہیں، آج بھی گھوڑے پر بیٹھنے کی وجہ سے دلت نوجوان کو قتل کیا جاتا ہے، آج بھی دلت عورتوں کے ساتھ اونچی ذات کے لوگ بد ترین سلوک کرتے نظر آتے ہیں، موجودہ حکومت میں ملک کے مختلف حصوں میں دلتوں پر مظالم کے مختلف ویڈیوز وائرل ہوئے جن سے حکومت اور حکومت کی شہ پر بے لگام لوگوں کی منو و ادی سوچ کا اندازہ کرنا مشکل نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دلتوں کے احتجاج میں بڑا دم ہوتا ہے، جس کا نظارہ جنوری کے پہلے ہفتے میں دلت بنام مراٹھا احتجاج میں دیکھنے کو ملا تھا، اور ابھی اپریل کے پہلے ہفتہ میں بھی مشاہدہ ہوا جب ۱۱؍ ستمبر ۱۹۸۹ء کو منظور ہوئے بل ’’انسداد استحصال‘‘ میں ذرا سی ضمنی ترمیم ہوئی تو دلت سراپا احتجاج بن گئے، ۲۴گھنٹے کے اندر حکومت اور عدلیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، دلتوں کی اصل طاقت ان کی منصوبہ بندی، مضبوط پالیسی اور اتحاد ہے، جو مسلمانوں کے یہاں سرے سے مفقود ہے، ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جس وقت ہمیں سراپا احتجاج بن جانا چاہیے اس وقت ہم خاموش رہتے ہیں، جس کا سبب صاف لفظوں میں یہ ہے کہ ہماری نظر ’’تملق، بھیک اور کٹورے والی سیاست‘‘ پر رہتی ہے یا پھر ہم مصلحتوں کا شکار رہ کر اپنے گوشۂ عافیت میں پناہ گزیں رہتے ہیں، ایشوز ہمارے یہاں اتنے اہم نہیں ہوتے۔
ابھی جموں و کشمیر کا درد ناک واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک معصوم بچی آصفہ کی وحشیانہ طریقے سے آبروریزی کی گئی اور پھر اسے حیوانیت کے ساتھ پتھر سے سر کچل کر ہلاک کیا گیا، اناؤ کا حادثہ سامنے آیا، جہاں ایک ہندو خاتون کو ہوس کا شکار بنایا گیا اور پھر اس کے باپ کو قتل کردیا گیا۔ یہ وقت تھا جب منصف مزاج ہندو بھی ہمارے ساتھ کھڑے تھے، حکمراں جماعت ہندووں کے تیور دیکھ رہی تھی، یہ مناسب وقت تھا کہ مسلم تنظیمیں کمال دانشمندی سے غیر مسلموں کو ساتھ لے کر بلکہ ان کو آگے رکھ کر پورے ملک کو سراپا احتجاج بنا دیتیں اور حکومتی مظالم کے تئیں حکومت کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیتیں، ہم نے ہندوؤں کے مذمتی بیانات بھی سنا اور پڑھا، ہائی کورٹ کی وکیل دیپکا کی ہمت بھی دیکھی اور ہندوؤں کا اس واقعہ پر غصہ بھی دیکھا، لیکن ساتھ ہی مسلمانوں اور ان کی قومی سطح کی تنظیموں کی سرد مہری ناعاقبت اندیشی کا بھی مشاہدہ کیا، صاف واضح ہے کہ اس طرح کے مسائل پر احتجاج سے نہ سیاسی مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور نہ خود نمائی کے منصوبے، انتہا تو تب ہوئی جب ناعاقیت اندیش سیاسی بازی گروں نے اس کو ہندو مسلم رخ دینا شروع کر دیا، اور ہندو درندگی کہہ ڈالا، جبکہ حقیقت واقعہ اس کے بر خلاف ہے، اسے بھاجپائی غنڈہ گردی تو کہا جا سکتا ہے، ہندوؤں کی حیوانیت نہیں، ابھی کل ایٹہ میں ایک شادی کی تقریب سے رات ڈیڑھ بجے ایک ۸ سالہ معصوم کو اٹھا کر درندے نے درندگی کی، وہ شادی بھی ہندو کی تھی، بچی بھی ہندو تھی اور درندہ بھی ہندو تھا، بلکہ اس کے بر خلاف یہ ہوا کہ ہندووں میں جو کچھ غصہ بھڑکا تھا اس کو ہماری کانفرنسوں اور ریلیوں اور مودی کی مالا جپنے کے ذریعہ دبا دیا گیا، گویا لگنے والی آگ کے بھڑکنے سے پہلے اس پر پانی کی چھینٹیں ڈال دی گئیں۔
اس موقع پر یہ بھی عرض کرنے دیجئے کہ جس طاقت کے ساتھ ایک عرصہ سے دلت مسلم اتحاد کی بات چلائی جاتی ہے اور مختلف تنظیمیں اس کا نعرہ دیتی ہیں، اب تک نہ اس کا کوئی منصوبہ سامنے آیا اور نہ کوئی خاکہ اور نہ اس کے مظاہر، ہمارا ماننا ہے کہ دلت اپنی بالا دستی کے بغیر مسلمانوں سے اتحاد کے لیے تیار نہ ہوں گے، جس طرح مسلمان آپس میں اتحاد کا نعرہ تو لگاتے ہیں لیکن کوئی کسی کی سربراہی و ماتحتی میں رہ کر متحد نہیں ہونا چاہتا، یہ واضح رہنا چاہیے کہ دلتوں سے اتحاد الگ بات لیکن ان کی بالا دستی قائم ہونا مسلمانوں کے لئے مزید خطرناک ہے، کیوں کہ ہندستان کی تاریخ میں دلت ہمیشہ مظلوم رہے ہیں، چھوٹے چھوٹے زمیندار بھی دلتوں پر مظالم کرتے آئے ہیں اور اس کا سلسلہ ابھی ۲۰۔۲۵ سال پہلے تک جاری رہا، یہی وہ انتقامی جذبہ ہے جس کا حوالہ دے کر انھیں برہمن ہندو بنانے اور مسلمانوں سے ٹکرا دینے میں کامیاب ہوتے ہیں، ہم نے ایک موقع پر دیکھا کہ ملک کی بڑی دلت تنظیم کے ذمہ دار ہندو مسلم اتحاد کی بات پر اس وقت دامن جھٹک کر کنارے ہو گئے جس وقت مسلم بالادستی کے ساتھ اتحاد کے آثار نظر آئے، ہمارا بامسیف نامی اس تنظیم کے سر براہ کے بارے میں یہ بھی نظریہ ہے کہ وہ خود بھی دلتوں کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ جس طرح منوواد کے خلاف بولتا ہے اور حقائق بیان کرتا ہے اس کو نہ میڈیا شائع کرتا ہے اور نہ پولیس چھیڑتی ہے، اگر یہ دونوں باتیں ہی ہوتیں تو شاید اس قدر شک نہ ہوتا مگر تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے سماج میں ۳۵ سے چالیس سال کی محنت کے باوجود نہ وہ بیداری آئی اور نہ وہ انقلابی سوچ پیدا ہوئی جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے، اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ دلتوں کی کسی بھی احتجاجی تحریک میں اس کی شمولیت نہیں ہوتی، اور ہر ابھرتے دلت لیڈر کو وہ پاگل اور ایجنٹ بتاتا ہے، قوموں کی زندگی میں تیس چالیس سال بہت اہم ہوتے ہیں، ہم نے دلت سربراہ سے ایک معروف مسلم سیاسی چہرے کے ساتھ اتحاد کی بات کی تو اس نے فی الفور اس کو بھاجپا کا ایجنٹ قرار دے دیا، ہم نے اس سے ثبوت مانگا، تو کہا ایک ہزار ثبوت دے سکتا ہوں۔ بات آئی گئی ہوگئی، مگر قابل توجہ امر یہ ہے کہ متعدد مواقع پر وہ اسی کے ساتھ اسٹیج بھی شیئر کرتے نظر آیا، اور دلت مسلم اتحاد کے کھوکھلے نعروں نیز مظلومیت کی داستان سنانے والے جلسوں میں ساتھ نظر آیا، تو اندازہ ہوا کہ یہ شخص نہ صرف دلتوں کو بلکہ مسلمانوں کو بھی بے وقوف بنا رہا ہے اور ایسے خواب دکھا رہا ہے جن کی تعبیر ممکن نہیں، ایسے شخص کا ہماری مرکزی اور وفاقی حیثیت کی تنظیم کے اسٹیج پر آنا اور اس کے جلسوں میں شرکت کرنا کسی طرح بھی باعث خیر نہیں سمجھا جا سکتا، دلت مسلم اتحاد کی اگر بات کی جاتی ہے تو ضروری ہے کہ پہلے اپنی تنظیموں کو متحد کرکے ایک منشور تیار کیا جائے اور پھر واضح نکات پر ان سے اتحاد کی بات کی جائے، ورنہ یوں تو الگ الگ شخصیات اور الگ الگ تنظیمیں وقتا فوقتا یہ نعرہ لگاتی رہتی ہیں اور ذوق برق پروگرام ہوتے رہتے ہیں، اتحاد منصوبہ بندی اور خاموشی چاہتا ہے نہ کہ پالیسیوں اور منصوبہ بندیوں کا اعلان، منصوبوں کا افشاء مزید انتشار کا باعث ہوتا ہے، قوت کے مجتمع ہونے سے پہلے ہی دشمن اسے بکھیر دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ اس ملک کی تقدیر میں مظالم اور احتجاج لکھ دیئے گئے ہیں، ایک تنظیم اور ایک طاقت ہے، جس کے خیمے میں ضرورت بھر اتحاد ہے، قربانیوں کی سو سالہ تاریخ ہے، صبر آزما پالیسیاں ہیں، طاقت کے وسائل پر اب مکمل قبضہ ہے، اس کی طرح مستقبل کی خاموش منصوبہ بندی، صبر آزما پالیسی اور دانشمندانہ طریقہ کار اپنانے کی ہم عادت نہیں ڈالتے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ظالم ظلم کرتا رہے گا، مظلوم چیختا رہے گا، یہ پرانی کہاوت ہے اور جمہوریت کی حقیقی تعریف بھی یہی ہے ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ ۔
احتجاج کرنا اچھی بات ہے، احتجاج زندگی کی علامت بھی ہے، احتجاج بہت کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے کے مترادف ہے، احتجاج جمہوری فکر اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے، لیکن احتجاج سے پہلے یہ دیکھنا از حد ضروری ہے کہ، احتجاج کی بنیاد کیا ہے، کس مسئلہ پر احتجاج کیا جا رہا ہے، داخلی اتحاد و استحکام کی صورت حال کیاہے، احتجاج سے فائدہ کس کو حاصل ہو رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ دشمن ہم سے احتجاج ہی کرانا چاہتا ہے اور ہم دشمن کی چال کو غیر شعوری طور پر اپنے احتجاج سے کامیاب بنا رہے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ فی الوقت ہمارے احتجاجی مظاہرے بے بنیاد ہیں، بے وقت کی شہنائی کے مرادف ہیں، اس کے نتائج سنگین ہونے کا قوی امکان ہے، مسلمانوں کو از سر نو اس ملک میں اپنی پالیسیوں پر متحدہ غور وفکر کی ضرورت ہے، کیا قیادتیں جن خطرات کو بیان کرتی ہیں اور جن خدشات کا اظہار کرتی ہیں ان کے پیش نظر روایتی انداز فکر سے اوپر اٹھ کر منصوبہ بند طریقے سے، متحدہ طور پر اور دعوتی نقطۂ نظر سے غور و فکر کی ابتدا کی جائے گی؟ اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا ورزقنا اجتنابہ۔

*ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی*

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن