اسلام میں تعددازواج (ایک سےزائدشادی )کی حکمت

اسلام میں تعددازواج (ایک  سےزائدشادی )کی حکمت 
      -----------------------------
✍ محمدانورداؤدی ایڈیٹرروشنی اعظم گڈه،یوپی

سب سےپہلےیہ بات جان لینی چاہیئے کہ اسلام ایک آسمانی مذہب ہے اسکےاحکامات وقوانین ساری کائنات کےپیداکرنےوالےاللہ پاک کےبنائے اوربتائےہوئےہیں انہیں قوانین کوشریعت کہتےہیں
آج تحریرکاعنوان

 تعددازواج ہے
جسکےبارے میں برادران وطن اوربعض ہمارےمسلمان بهائ بهی کنفیوزن یاسازش کاشکارہیں،جنکی طرف سےگاہےبگاہےآوازیں اٹهتی رہتی ہیں کہ اسلامی قوانین فرسودہ اورناقص ہیں جوبالکل غلط خیال اورعدم واقفیت پرمبنی ہے
   ہندوستان میں مسلم دورحکومت کےخاتمےکےبعد
انگریزوں نےدهیرےدهیرے
اسلامی قوانين کوختم کرناشروع کیاتومسلمانوں کےعائلی قوانين بهی زدمیں آئے،مسلمانوں نےاحتجاج کیا،تحریکیں چلائیں جس کےنتیجےمیں 1937/میں "
شریعت اپلیکیشن ایکٹ (Shariat Applicatin Act) منظورہوا،اسی کوآج "عائلی قوانین،فیملی لاز،اورمسلم پرسنل لا"،کہاجاتاہے،جس کےتحت نکاح، مہر،طلاق،خلع،،عدت، نان ونفقہ،حضانت، وصیت ،وراثت، تقسیم جائداد،ہبہ،تعددازواج، اورتبنیت وغیره آتے ہیں جس میں اسلامی شریعت کےمطابق فیصلہ کرناہوگا
 یہ ایسے مسائل ہیں جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا
     آئیے تعددازواج پرگفتگو کریں

        آیئے سب سے پہلے یہ دیکهیں کہ کئی عورتوں کوایکساته بیوی بناکررکهنے کا دیگرقوموں وملکوں میں کیارواج تها ؟
 اسلام سےپہلے بهی متعددبیویاں رکهناتقریبادنیاکےتمام مذاهب میں جائزسمجهاجاتاتها
عرب، ہندوستان،،ایران،مصر،
بابل وغیره ممالک کی ہرقوم میں کثرت ازدواج کی رسم جاری تهی قدیم ہندوستان کوہی لےلیجئے

رام چندرجی

 کےوالدمہاراجہ دشرتھ کی تین بیویاں تهیں

راجہ پانڈو کےجداعلی کی دوبیویاں تهیں

راجہ شنتن کی دوبیویاں تهیں

 بچهترایرج
 کی دوبیویاں اورایک لونڈی تهی

شری کرشن جی

 ہندوؤں کےواجب التعظیم اوتارمانےجاتےہیں انکی سیکڑوں بیویاں تهیں

عیسائ

حضرت إبراهيم، حضرت یعقوب،حضرت موسی وداؤد وسلیمان علیهم السلام کی بطورخاص بڑی عظمت کرتےہیں ملاحظہ فرمائیں

إبراهيم علیہ السلام کی تین بیویاں تهیں -

یعقوب علیہ السلام
 کی چاربیویاں تهیں -

موسی علیہ السلام
 کی چار بیویاں تهیں-

داؤدعلیہ السلام
کی نوبیویاں تهیں

حضرت سلیمان علیہ السلام
 کی سات سوجورویئں اورتین سو حرمیں تهیں

آخری پیغمبرمحمد صل اللہ علیہ و سلم کی گیارہ بیویاں تهیں
(کیوں 11/تهیں کیاحکمت تهی؟ اورکیافائده ملا؟یہ دوسری قسط میں ان شاءالله، )
غرض قرآن، توریت ،انجیل ودیگرصحف انبیاءمیں  کئ شادیوں کاذکرملتاہےاسی طرح ویدک تعلیم غیرمحدودتعدازواج کوجائزرکهتی ہے
غرض اسلام سےپہلےکثرت ازواج کی رسم بغیرکسی تحدیدکےرائج تهی اورکسی ملک یامذهب نےبهی تعدادپر پابندی لگائ تهی نہ قانون بنایاتها نہ یہودونصاری نےنہ ہندوؤں، آریوں اورپارسیوں نے
اسلام کےابتدائ زمانےمیں بهی یہ رسم بغیرکسی تحدیدکےجاری تهی لیکن اس سے بڑی خرابی یہ آنےلگی کہ لوگ حرص میں کئ کئ شادیاں کرلیتے اورحقوق ادانہیں کرپاتے اورناہی طلاق دیتے نتیجتا عورت کی زندگی اجیرن بن جاتی
تواسلام نےمعاشرےکےاس ظلم کوروکااورتعدادطےکر
دی کہ چارسےزیاده عورتوں کونکاح میں جمع کرنا حرام ہے اورجولوگ چاربیوی رکهیں انهیں زورداراندازمیں ان کےدرمیان مساوات وبرابری قائم رکهنے پرتاکیدکی خلاف ورزی پرسخت وعیداورسزاکی بات کہی
چنانچہ ایک طرف سوره نساء آیت نمبر3
میں ایک سےزائدچارعورتیں نکاح میں جمع کرنےکی اجازت دی تودوسری طرف یہ پابندی بهی لگادی کہ چارسےزیاده نہیں اورچاروں کےحقوق میں مساویانہ عمل بهی ضروری ہے
یہ مسلمانوں کےپرسنل مسائل ہیں واضح رہےکہ اسلام نےتعددازواج لازم نہیں کیابلکہ اجازت دی ہےوه بهی خاص حالات میں چندشرائط کیساته اجازت دی گئ ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں ایک سےزیاده شادی کرنے کی تعدادایک فیصد بهی نہیں پہنچی

اب آیئے یہ دیکه لیں کہ ایک سےزیاده شادی میں مردوعورت کافائده کیاہے

1/ مقصدنکاح عفت ،حفاظت نظروفرج اورتناسل اوربسہولت اولاد حاصل کرناہے، بعض لوگ تندرست فارغ البال وخوشحال ہوتےہیں أن کےلئے ایک عورت کافی نہیں ہوتی وہ حقوق زوجیت اداکرنےپربهی قادرہوتےہیں ایسےلوگوں کودوسرےنکاح سےروکنےکامطلب ہےحلال راستہ بندکرکےحرام راستہ کھول دینا جس سےسماج میں ایک بگاڑ ہی پیداہوگا

2/
 یہ کہ ایسےلوگ اگرچارغریب عورتوں کونکاح میں رکهیں توان عورتوں کابهی بهلاہوجاے کہ انکی زندگی عیش وعزت اوررب کےشکرکیساته گزرجاے
3/
عورت
 ہروقت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ شوہر کی خواہش کوپوری کرسکےمہینےمیں 5،7،10/دن توایسےآتے ہیں جن میں مردکوپرہیز ضروری ہے

4/
ایام حمل میں بهی عورت وجنین کی صحت کاخیال کرکے مرد
 ہمبسترہونےسےپرہیزکرتاہے
5/
بسااوقات وه بیمارہوتی ہے یاپیدائش ہونےکی وجہ سےبهی اچهاخاصاوقت لگ جاتاہے جس میں شوہراس سےمنتفع نہیں ہوپاتا تواسےزناسےبچانےکیلئے دوسراراستہ اورکیاہوسکتاہےکہ اسےدوسرانکاح کرنے کی أجازت دی جاے
6/
اس میں عورتوں کابهی فائدہ ہے صبح سےشام تک گهربار،بال بچوں کی دیکھ ریکھ، صاف صفائ،اورپهرشوہرکی خواہش -----غیرمعمولی تعب تهکان سے  ضرور راحت محسوس کرےگی
 7
قدرتااورعادتاہمیشہ عورتوں کی تعدادمردوں سےزیاده رہتی ہے جنگوں ، جہازوں ،تعمیراتوں وغیره میں ہلاکت زیادہ ترمردوں کی ہی ہوتی ہے تواگرایک مردکومتعددشادی کی اجازت نہ دیجاےتوسوچئے فاضل عورتوں کاکیاحال ہوگا انکےمعاش کاانتظام کیسےہوگا؟اورکس طرح یہ اپنی فطری خواہش کودباپایئں گی نتیجة زناعام ہوگا جومعاشرے اورنسبوں کی تباہی کودعوت دینے والےہیں
اللہ !کیاحکمت ہےاسلام کی سمجھنے کی ضرورت ہے
  بقیہ دوسری قسط میں
Mdanwardaudi@gmail.com
8853777798

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح