سالانہ تعطیلات، موبائل اور طلبہ

سالانہ تعطیلات،  موبائل اور طلبہ

از: ابو سعد چارولیہ

ـــــــــــــــــــــــــــ

امتحانات کی ہمہ ہمی ختم ہوئی اور جلسوں کا ہنگامہ شروع ہوا،یہ جامعہ کا انعامی اجلاس ہے ،آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور کلیجے منہ کو آئے ہوئے ہیں،دل ہے کہ انجانے جھٹکے سے مسلسل دھڑکے جارہا ہے،قراءت و نعت کا مرحلہ مکمل ہوا اور اب یکے بعد دیگرے  نتائج کا اعلان شروع ہوا،ہر طالب علم دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے رزلٹ ہاتھ میں تھامے  جلسہ گاہ سے باہر نکلا ـ جلسہ گاہ سے باہر کیا نکلا کہ آپے سے ہی باہر نکل گیا،زینے اترتے ہی کوئی نعرۂ مستانہ لگا رہا ہے اور کسی کے منہ سے مخصوص اسٹائل کے ساتھ " یس! اور یاہو! " کے جدید قلندرانہ جملے نکل رہے ہیں،ڈر اور سہم کافور ہوگیا ،اب گلی کا کتا شیر نہیں شیروں کا شیر ہے ـ بھاگم بھاگ سامان لیا اور گھر کے لیے روانہ ہوگئے ـ
امتحان کے بعد تعطیلات کا نشہ ایسا ہے کہ آج بھی جب اس کی یاد آتی ہے تو اچھے اچھے مخمور ہوجاتے ہیں اور سرد آ بھر کر کہتے نظر آتے ہیں کہ کاش! وہ دن واپس لوٹتے! 
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
ہاں! دکھادے پھر وہی صبح و شام تو

پہلے طلبہ تعطیلات میں جی بھر کر کھیلتے اور جان لگاکر اودھم مچاتے تھے،ان کی ہلڑ بازیوں کے قصے دیوارِ چمن سے لے کر محلے کی چوپال تک موضوعِ گفتگو قرار پاتے تھے،ان کی ہنگامہ خیزی کا  گاؤں اور شہر بھر میں چرچا رہتا تھا،وہ کھیلتے نہیں تھے لڑتے تھے،وہ چلتے نہیں تھے کودتے پھاندتے تھے،وہ مسکراتے نہیں تھے قہقہے لگاتے تھے؛مگر اب کے طلبہ بڑے سیانے واقع ہوئے ہیں،احاطۂ جامعہ سے نکلتے ہی ان کے ہاتھوں میں چمکتے دمکتے کھلونے آجاتے ہیں،انگلیاں اسکرین پر ایک مشاق ٹائپر کی طرح رینگنے لگتی ہیں اور سر موبائل کی مقدس بارگاہ میں اس قدر جھکا جاتا ہے کہ راہ چلتے دست بوسی او قدم بوسی کے ساتھ بسا اوقات زمین بوسی کی بھی نوبت آجاتی ہے

کچھ لوگ تعطیلات میں طلبہ کی موبائلی آبلہ پائی اور انٹرنیٹ نوردی پر چیں بجبیں ہوتے ہیں مگر راقم کی نظر میں طلبہ کے لیے تعطیلات میں اس کا استعمال ممنوع و ناجائز تو نہیں ہے مگر اس کے حدود و آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے ـ

ذیل میں اپنے طالب علم بھائیوں کے لیے چند رہنما و مفید چیزیں ذکر کی جاتی ہیں اس اعتراف و امید کے ساتھ کہ
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

ایک اصولی بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے  کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ میں اچھائی اور برائی دونوں ہیں اور ان دونوں میں حد فاصل سوائے تقوی، خوف خدا اور اللہ کے استحضار کے اور کوئی چیز نہیں۔ اس لئے اللہ کا خوف اپنے دل میں پیدا کر کے لغویات سے اعراض کرتے ہوئے مفید چیزوں سے مستفید ہونے کی صحیح نیت کے ساتھ ہی استعمال کیجیے۔
بقول مفتی طارق مسعود:انٹرنیٹ ایک گھوڑا ہے اس کو لگام دوگے تو وہ تمہارے تابع رہے گا اور لگام نہیں دوگے تو وہ جہاں چاہے گا تمہیں لے جائے گا
اور سب جانتے ہیں کہ گھوڑا اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اس کو اپنی مرضی سے جہاں چاہیں لے جائیں نہ کہ وہ اپنی مرضی سے ہمیں جہاں چاہیں لے جائیں
اس لیے اسے خوفِ خدا کی لگام دے کر صحیح نیت کا ہنٹر لگائیں اور بسم اللہ کہہ کر ساتھ سفر کا آغاز کریں ـ سفر کے دوران درجِ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
(۱) سب سے پہلی بات عزیز طلبہ کی خدمت میں یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے ایک وقت متعین کردیں چاہے وہ کتنا زیادہ کیوں نہ ہو،آدھ گھنٹے سے لے کر دو چار گھنٹے جتنا بھی آپ چاہیں وقت متعین کرلیں اور اسی وقتِ متعینہ میں نیٹ آن ہو ـ اس کے دو فائدے ہیں:  ایک تو یہ کہ آپ کو احساس ہوگا کہ میں کتنا وقت موبائل کو دے رہا ہوں ورنہ بسا اوقات مجموعی حیثیت سے بارہ بارہ گھنٹے اس کی نذر ہوجاتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوپاتا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے دوسرے ضروری کاموں میں خلل واقع نہیں ہوگا
ہاں! مگر شرط یہ ہے کہ آپ نے جو بھی اور جتنا بھی وقت اس کے لیے تجویز کیا ہے اس پر مضبوطی سے کار بند رہیں ـ
(۲) حتی الامکان کوشش کریں کہ رفقائے درس کے گروپ میں آپ کی شمولیت نہ ہو،کیوں کہ عموما طلبِ علمی کے دوران اور فراغت کے بعد تقریبا دو سال تک بننے والے گروپ ہلّڑ بازی،دھینگا مشتی اور اول فول کے لیے سراپا وقف ہوتے ہیں،ہنسی مذاق سے شروع ہونے والی بات دشنام طرازی بلکہ نفرت و عداوت پر منتج ہوتی ہے،ایک دوسرے کی ٹوپی اچھالنے سے لے کر اساتذہ و انتظامیہ کی برائی تک؛تمام امور وقوع پذیر ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں اور غور کیا جائے تو یہ بیسیوں برائیوں کی جڑ بن جاتے ہیں،ایسے گروپ واثمہما اکبر من نفعہما کا مصداق ہوتے ہیں؛اس لیے مناسب یہ ہے کہ رفقیانِ درس کے گروپ میں آپ شامل نہ ہوں اور اگر کسی ساتھی سے کچھ گفت و شنید کی ضرورت محسوس ہوتو پرسنل دروازہ کھلا ہوا ہے،وہاں ربط کیا جاسکتا ہے،اس کے باوجود بھی آپ اگر ایسے کسی گروپ میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو گروپ کو مفید بنائیے،حلقے میں تمام احباب کا احترام ملحوظ رکھیں اور کوشش کریں کہ گروپ مچھلی کا بازار نہ ہوکر پر سکون لائبریری کا کام دیں ـ
ہاں! ہلکے پھلکے مزاح کی ممانعت نہیں؛بلکہ شرعی حدود میں رہ کر تفریحِ طبع کی خاطر ہنسا اور ہنسایا بھی جاسکتا ہے ـ
(۳) ٹیلی گرام اور وہاٹس ایپ پر بہت سے مفید چینلز یا گروپ ہوتے ہیں،جہاں مفید علوم سکھائے جاتے ہیں،مثلا سراجی کے لیے،معاملات کے مسائل کے لیے، رمضان میں پیش آمدہ مسائل کے لیے،  عربی زبان میں تکلم کے لیے، نحوی تراکیب کے لیے،  نعت و قراءت کے لیے، اردو ادب کے لیے، معیاری اشعار کے لیے غرض یہ کہ اس قسم کے بیسیوں نہیں؛سینکڑوں نفع بخش حلقے بساطِ انٹرنیٹ پر اپنی دنیا سجائے ہوئے آپ کو مل جائیں گے،ان میں شامل ہوکر دیا ہوا ہوم ورک پورا کرنا یا بھیجی ہوئی چیزوں سے استفادہ کرنا بڑا مفید ہوتا ہے ، اس راستے سے آپ نہ صرف اپنے جوہر کو چمکا سکتے ہیں؛بلکہ اس کی برکت سے دوسرے غیر مفید کاموں سے بچنا بھی آسان ہوجاتا ہے ـ
(۴) چیزوں کو شیئر کرنے میں احتیاط برتیں ـ جیسے ہر چمکنے والا سونا نہیں ہوتا اسی طرح دنیائے انٹرنیٹ میں ہر گھومنے والا میسیج صحیح نہیں ہوتا ، مشاہدہ ہے کہ اس قسم کے اوٹ پٹانگ پیغامات ہمارے بعض نادان طلبہ اکثر شیئر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اس میسیج کو پانچ لوگوں کو بھیجو اتنے پیسے ملیں گے اتنا ثواب ملے اللہ رسول کا واسطہ دے کر جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اور تعجب ہے کہ اہلِ علم جن کا کام ہی پوچھنا ہے جنہیں السؤال نصف العلم کی تعلیم دی گئی ہے وہ اس معاملے میں غفلت اے کام لیتے ہیں؛اس لیے کسی بھی قسم کے پیغامات فورورڈ کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیں ـ
یہی معاملہ اشعار کے ساتھ ہوتا ہے،ہر سڑک چھاپ شاعری جسے ایک عدد تصویر کے ماتھے پر سجادیا گیا ہو ہمارے یہاں غالب و میر اور اقبال و فراز کی شاعری ہوجاتی ہے،ہر اچھی تصویر پر لکھا ہوا شعر اچھا اور سچا نہیں ہوتا،اس سلسلے میں بھی اپنا ذوق بنانے کی ضرورت ہے ـ
(۵) بلا وجہ کی یوٹیوب گردی نہایت مضر ہے،وہ آپ کو رفتہ رفتہ کونسے شرمناک جہاں میں پہنچادے گی اس کا احساس تک نہ ہوگا اس لیے  اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو سرچنگ کرکے کام نمٹا لیجیے اور باہر نکل آئیے،یہ کوئی جنتِ ارم نہیں جس کی آپ سیر کرتے پھریں،یہ شداد کی دنیا اور قارون کا جہاں ہے،یہاں ہر پھول کے پیچھے نوک دار خاروں کا ایک جہاں آباد ہے اور ہر چمکتے سانپ کے منہ میں روح کو تڑپادینے والا زہر ہے؛اس لیے اس منقش سانپ سے بچ کر رہیے گا ـ
(۶) رہ  گئی بات فیس بک کی تو اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک عالمی بازار ہے جہاں اچھے بھی ہیں اور برے بھی ، گاؤں کی چوپال پر اکڑ کر بولنے والا ہمیشہ پہلوان نہیں ہوتا اسی طرح فیس بک پر چند سطریں گھسیٹنے والا ہر آدمی مفکر نہیں ہوتا،یہاں لوگ ڈگڈگیاں بجابجاکر بندروں کو نچواتے ہیں،دیکھنا !آپ کسی کے ہاتھوں بندر نہ بن جائیں ،کسی کے ہتھے نہ چڑھ جائیں،کوئی آپ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر جائیں؛اس لیے از حد چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ـ اور اگر  فیس بک کے مکروہ چہرے والی اس دنیا سے دور ہی رہیں تب تو آپ کی شرافت کے کیا کہنے!

یہ چند گزارشات تھیں جو اس وقت ذہن میں آرہی تھیں سو وہ عرض کردیں،  نہ کہنے والا اس پر عمل کا مدعی ہے اور نہ پڑھنے والے کوئی حقیر و فقیر ـ ایک مؤمن کی حیثیت سے ہم سب برابر ہیں؛کیا استاد کیا شاگرد!کیا بڑا کیا چھوٹا!  اس لیے للہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ فلسفہ صرف آپ کے لیے بگھارا گیا ہے بلکہ جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا پہلا مخاطب بندہ خود ہے 
امید ہے کہ ان معروضات پر ضرور غور فرمائیں گے ان شاء اللہ ـ

ہاں! ایک اور بات یاد آئی:موبائل کے اس طلسم میں ایسا کھو نہ جائیے گا کہ آپ نادیدے اور کم ظرف لگنے لگے،استعمال ضرور کریے گا مگر قابو رکھ کر قدرے استغنا کے ساتھ، کہیں ہماری ازحد مشغولی دیکھ کر کسی کو غلط پیغام نہ جائیں ـ
نیز اس کے اتنے عاشق نہ بن جائیے گاکہ پھر مدرسہ میں آنے کے بعد اس معشوقہ کے بغیر رہنا ہی مشکل ہو جائے☺

شعبان کی مبارک راتیں گذر رہی ہیں اور رمضان آنے کو ہے اگر نالۂ نیم شبی و آہِ سحر گاہی میں بندۂ ناچیز  کو بھی یاد فرمائیں تو عین کرم و احسان ہوگا فقط والسلام
طالبِ دعا
ابوسعد چارولیہ

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن