مرثیہ حضرت مولانا سالم صاحب قاسمی

🌱🌱🌱باسمہ تعالی 🌱🌱🌱

مرثیہ حضرت مولانا سالم صاحب قاسمی

🌹محمد طاہر کیرانوی 🌹

اٹھا طوفان غم سالم ہوے ہیں آج تو رخصت

ہوئ برسات آنکھوں سے چھپی ہے قوم کی زینت

یہ کیسا موت کا پنجہ یہ کیسی اس کی جرأت ہے

اسے شاداب گلشن کی بہاروں سے عداوت ہے

نہ پیغمبر بچے اس سےنہ شاہنشاہ سے ڈر ہے

مسرت کے شبشتاں میں یہ ویرانے کی خوگر ہے

رلاتا چھوڑ جاتی ہے یہ ماں کو چھین کر بیٹا

پدر کے سایہ کو بیٹے کے سر سے کردے یہ عنقا

یہ الطاف توصل میں سدا لاے ہے اک نفرت

اٹھا طوفان غم سالم ہوے ہیں آج تو رخصت

جہاں خالی سالگتا ہے فضاغمگین ہے اس دم

سروں پر امتحاں ٹوٹا بڑا سنگین ہے اس دم

فلک بھی روتا جاتا ہے سما پر سکتہ طاری ہے

بہے جاتا ہے کل عالم وہ سیل اشک جاری ہے

نسیم بادیہ گم ہے نوید صبح کھوئ ہے

غموں کی دوش پر لاش دل اقوام سوئ ہے

چھپا ہے نازش محفل اجڑتی دل کی ہے چاہت

اٹھا طوفان غم سالم ہوے ہیں آج تو رخصت

وہ شان گلستاں وہ مرجع اہل معارف تھا

حقیقی علم وفن کا پاسباں رب کا وہ عارف تھا

خطابت کی وہ بارش تھا وہ اہل دل کی تابش تھا

شریعت اورطریقت میں سراپا وہ جوارش تھا

جہاں قدسی بھی رشکاں تھے جہاں انسان ڈھلتے تھے

مئے وحدت جہاں لٹتی جہاں پی کر مچلتے تھے

چمن سے ناز گلبن کی ہوئ ہے محو اب نکہت

اٹھا طوفان غم سالم ہوے ہیں آج تو رخصت

مبلغ دین وحدت کا مربی باغ حکمت کا

وہ پرتوتھاصحابہ کا وہ پیرو تھا شریعت کا

زباں حکمت کی رکھتا تھا بلندی کا ستارہ تھا

وہ اہل دیوبند کی آنکھوں کا پرکیف تارہ تھا

وہ الجھی قوم کی زلفیں سدا سلجھایا کرتا تھا

وہ گُر اسرار ربی کےسداسمجھایاکرتاتھا

ہوےرخصت چمن سے یوں عنادل پر ہوئ شامت

اٹھا طوفان غم سالم ہوے ہیں آج تو رخصت

خدایا صبر دے سب کو سکندر کھوگیا ہم سے

جہاں رحمت برستی تھی وہ منظر کھوگیا ہم سے

زباں تھی فخر ہندوستاں حکیمانہ عنایت تھی

تعمق تہ تلک رکھتے نمایاں سب سے حکمت تھی

بچھڑ کر اپنے حضرت سے الم کی رت کو پایا ہوں

تو اس کو بخش دے مولی میں یہ فریاد لایا ہوں

سلیمی کی دعا یہ ہے کہ دیدے تو اس جنت

اٹھا طوفان غم سالم ہوے ہیں آج تو رخصت. 
(دعاء کا محمدطاھر کیرانوی)

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن