ملتِ اسلامیہ کے چار بازو
*ملتِ اسلامیہ کے چار بازو*
_شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات_
✒ابو_دجانہ
*آج ہم اس لیے نہیں پیچھے ہیں کہ قوم کے پاس تعلیم نہیں۔۔۔*
ہے۔۔۔۔ پر تعلیم یافتہ طبقہ دین سے دور، مغرب ذدہ ہو کر، لبرل ازم کا طوق گلے میں ڈال چکا ہے،
اور اس کی وجہ کہیں نا کہیں ہم ہوتے ہیں کیوں ہم نے ہماری قوم کے ان روشن ستاروں کی صحیح رہنمائی نہیں کرائی؟
جب وہ لبرل ازم کے دلدل میں ڈوب رہے تھے تب کیوں نہیں ہم نے ان کی اصلاح کی غرض سے ملاقاتیں کیں؟
کیوں اسے طعن و تشنیع کر کے اسے ڈوبانے کا رول ادا کیا۔۔
*ہم اس لیے پیچھے نہیں ہیں کہ ہمارے پاس دولت یا رسوخ نہیں۔۔*
بات بات پر لاکھوں کروڑوں روپے بہائے جاتے ہیں، اسی قوم کی طرف سے۔۔
معاملہ چاہے شادی بیاہ کا ہو، ذاتی محلات کا ہو یا جلسے جلوس کا۔۔۔
پیسوں کی تنگی تب کہیں نظر نہیں آتی۔۔
ذاتی/آپسی معاملات/رنجشیں جب کورٹ کچہری کا رخ کرتی ہیں..
اس وقت ہر ادنا و اعلیٰ رسوخ استعمال ہو جاتا ہے،
چاہے بیٹے کا لڑکی چھیڑنے کا ہی معاملہ کیوں نا ہو۔۔
اس وقت یہ رونا نہیں آتا کہ قوم کے پاس اثر و رسوخ نہیں۔۔
*ہم اس لیے پیچھے نہیں ہیں کہ ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ دیا۔۔۔*
امت میں ایک سے ایک اللہ والے موجود ہیں، دنیا کی یہ بہاریں ان کی ہونے کی دلیلیں ہیں۔۔۔
پر ان کے پیروکاروں نے *لا الہ الا الله محمد الرسول اللہ* کو پڑھا اور سمجھ کر بھی اس پر *مکمل* عمل سے چوک گئے،،،
اس کے لفظی معنی کو اور مختصر تشریح کو تو زندگی میں اپنا لیا،
پر اسے مکمل طور پر اپنانے سے چوک گئے۔۔۔
*ہمارے پاس نوجوان، با ہمت افراد کی بھی کمی نہیں ہے۔۔*
قوم کو جب کوئی معاملہ درپیش ہوتا ہے تو قوم کے نوجوان صفِ اول میں نظر آتے ہیں،
بڑے بڑے اجتماعات میں ان کا خون پسینہ لگتا ہے، قوم کے سامنے دین کے لیے ان کے جذبات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔۔
*کمی کہیں ہے تو ہمارے دماغ میں ہے،!!*
ہم نے کیوں خود کو بھلا دیا؟
کیوں بھولے ہم کہ اللہ نے ہمیں زمانے پر حکومت کے لیے پیدا کیا؟
کیوں طاغوتِ زمانہ سے آنکھ ملانے کے بجائے اس کا محکوم بننا پسند کیا؟
کیوں خود کو ذات، برادری جیسے ہندوانہ طرز پر بانٹ لیا۔۔؟
کیوں دین کو بدل کر مسلکوں اور فرقوں میں بنٹنا شروع کر دیا؟؟؟
میرے تعلیم یا فتہ لوگوں۔۔
تم نے کیوں تعلیم کو محض پیٹ پالنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے؟
اگر پیٹ پالنا ہی مقصد تھا، تو ایک جاہل بھی اپنا پیٹ پالتا ہے،
آپکی ڈگریاں کس کام کی..؟
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کی تعلیم قوم کے لیے فائدہ مند بن جائے؟
جو رب کی خوشنودی کا ذریعہ بن جائے ۔۔
موت تو آنی ہے، رب کے آگے حاضر بھی ہونا ہے۔۔
بھول جاؤ کہ لوگوں نے تم سے کیا کہا، کیا کیا۔۔۔؟؟
یہ لوگ بڑے نہیں ہیں بڑا تو ہمارا رب ہے جسے اپنا دینِ محمد ص محبوب ہے، اس دین کے لیے لوٹ آؤ،،
مالدار صاحبان۔۔۔
ہماری دولت صرف ذاتی اخراجات میں لگے گی یا دین میں بھی اس کا کچھ حصہ لگے گا؟
آج ہمیں ہمارا مکان تو شہر کے پوش علاقے میں چاہیے پر دین کے لیے کام کر رہی مخلص تنظیموں کو ان کے دفتر کسی عام سی جگہ پر بھی لینا مشکل ہوتا ہے،
امت کے کئ افراد بھوک سے مر رہے ہیں،
کئی بہنیں انتظار میں ہیں کہ ان کی شادی کے انتظامات ہو جائیں۔۔
کئی بچے تعلیم کو ترس رہے ہیں۔۔
ان کی ذمہ داری صرف ان کے سرپرستوں کی نہیں پوری ملتِ اسلامیہ کی بھی ہے،
ہمیں شام کے مسلمانوں کا درد محسوس ہو رہا ہے، ہونا چاہیے پر ہمارے پڑوس کا درد کون محسوس کرے؟
اولیاءاللہ ۔۔
آپ لوگ ہمارا عظیم سرمایہ ہیں، آپکی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ ہم پر بھی رحم فرما ہیں،
آپ کیوں نہیں اپنے لوگوں زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کے بارے میں بھی کچھ بتا دیتے؟
آخر قبر کے دروازے سے لیکر جنت کی منزل تک کے سفر داستان تو یہیں سے لکھی جائیگی۔۔
نوجوان ساتھیوں۔۔
ہم کسی فلم ایکٹر یا کرکٹر یا بزنس مین کےجانشین نہیں۔۔
ہم تو اس نبی کے امتی ہیں جس نے ورثے میں گیارہ تلوریں چھوڑی تھیں،
ہم تو اس عمر فاروق کے وارث ہیں جنہوں نے دنیا کے سب سے بڑے حصے پر منظم حکومت کی،
محمد بن قاسم اٹھارہ سالہ نوجوان،
جس نے ہندوستان میں فتح کے جھنڈے گاڑے،
صلاح الدین ایوبی جس سے یہود و نصاریٰ آج بھی خوف ذدہ ہیں،
ٹیپو سلطان جس نے انگریزوں کو لوہے کے چنے چبوائے تھے۔۔
ہم ان کے روحانی فرزند ہیں۔۔
ہم ان کے وارثین ہیں،
اگر یہ قوم اپنا اصل منصب و مقصد پہچان کر عملی میدان میں اتر جائے تو طاغوت کی طاقت اس طوفان میں بہہ جائیگی۔۔
ان شاء اللہ ۔۔۔۔
*ابو_دجانہ*
*کاروانِ امن و انصاف*
Comments
Post a Comment