مسلم لبرل اور ماڈرن لوگوں کی قیادت!

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺
     *مسلم لبرل اور ماڈرن لوگوں کی قیادت!*

     عصر حاضر میں قیادت وسیادت کا مسئلہ سنگینی اختیار کرتا جارہا ہے،بالخصوص مغربی تہذیب و ثقافت اور عقلیت و جدیدیت پسند علم وتحقیق کے سر چشموں سے مستفید افراد میں سیاسی رہنمائی کرنے اور امت کو ایک نئی دھارا دینے کے نام پر گہما گہمی کا دور دوراں ہے، دینی قائدین یا تو خود ہی سیاست و قیادت سے الگ ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر چکے ہیں؛ یا پھر رہی سہی دو چند آوازیں رہ رہ کر چراغ سحر کا پتہ دے رہی ہیں،در اصل علی منھاج النبوة خلافت و امامت کے بعد ہی سے علمائے حق کا اپنے آپ کو پالیٹکس سے الگ کر لینے اور غار و کھوہ یا کسی خاص گنبد و دائرہ کا باشندہ بن جانے، نے ہی یہ نوبت پیدا کردی ہے،آج اگر کسی داڑھی،ٹوپی،سفید ریش اور سفید پوش نے کسی سیاسی قیادت کی بات کردی یا کسی رہنمائی کا راگ چھیڑا؛کہ زمانہ اس کی مخالفت میں نت نئے بساطیں لگا کر رکھ دیتی ہیں،اور پھر ماڈرن و لبرل قیادت کی دہائی دی جانے لگتی ہے،اور مغربی مشینوں کے فارغ یافتہ،مادیت کے پیرو اور روحانیت سے عاری افراد کی اہمیت و افادیت کا شمار کسی نعمت غیر مترقبہ کی طرح کرایا جانے لگتا ہے۔
      *حقیقت میں اگر غور کیا جائے تو لبرل اور ماڈرن کا آوازہ عقل ودانائی سے پرے معلوم ہوتا ہے،اور اس اصطلاح کو کما حقہ سمجھنے سے عقل غچہ کھا جاتی ہے؛حالانکہ کہ زمانہ خلفائے اربعہ اور عمر بن عبدالعزیز،غیاث الدین ،محمد تغلق اور اورنگ اورنگزیب عالمگیر جیسے سفید پوشوں کی حکومت سے بھی واقف ہے؛بلکہ انہیں کی علمی وسیاسی اور حکمت ودانائی کی رہین منت دوسری قوموں نے غلغلہ مچا رکھا ہے،اور دوسری طرف ماڈرن اور لبرل کہے جانے والے جلال الدین محمد اکبر، جمال عبد الناصر،کمال اتاترک اور اس زمرہ میں کتنوں کے نام گنوائے جائیں، صفحات کم پڑ جائیں گے؛لیکن کون نہیں جانتا؛ کہ ان کی حکومتوں میں نہ صرف ظلم و بربریت کی عجیب عجیب داستانیں لکھی گئیں؛ بلکہ معاشرتی خاکے کے تار و پود بکھیر کر رکھ دئے گئے،عورتوں کا مقام محض لطف اندوزی کے سامان کے مثل ہوگیا تھا،یا کیا ماضی کی ورق گردانی کیجئے؟ فی الوقت ماڈرن اور لبرل حکومت و رہنمائی کا دم بھرنے والا محمد بن سلمان کو ہی دیکھئے! کیا یہی ماڈرن قیادت ہے کہ عورتوں اور مردوں کیلئے فحش سنیما کا آغاز ہو،فیشن شو کے نام پر یا خوشی وجشن کے نام پر خماری کی محفلوں کا چراغاں کیا جائے،اپنی لطف اندوزی کے نئے نئے بہانے اور طریقے تلاش کئے جائیں ،جوا جیسی منصوص حرمت کی پامالی کیلئے حیلے اختیار کئے جائیں ،سمندروں کے کناروں کو صنف نازک کی ریشمی اداؤوں اور جسم کے ہر حصے کو خوشنمائی کے ساتھ "نور عین"کا سامان بنادیا جائے۔*
     *صحیح بات تو یہ یے کہ ماڈرن اور لبرل سیادت کے نام پر جس طرح ماضی میں مسلمانوں نے خود فراموشی اور خدا فراموشی کی جرآت دکھلائی اور اس کی پاداش میں ثریا سے زمین کے ذروں میں گم ہو کر رہ گئے،ٹھیک اسی طرح آج پھر وہی نعرہ بلند کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو خوش رنگ خواب میں مبتلا کر کے اور انتشار و اختلاف کا بازار گرم کرتے رہنے کی ناپاک سازش کی جارہی ہے،یہ بات گانٹھ باندھ لینی چاہئیے ؛کہ سیاست و حکومت اگر خدائی فرمان اور سر چشمہ وحی سے الگ کردی جائے تو وہ محض چوب خشک کی حیثیت رکھتا ہے،جسے ہر کس وناکس جلادینے اور اس کی ہستی کو مٹادینے پر قادر ہوجاتا ہے،وقت ہے کہ ایسی آوازوں پر کان نہ دھرئے اور اس بات کی کوشش کیجئے! کہ امت اسلامیہ میں مجمع البحرین کی سی صلاحیت پیدا ہو،اس کے قائدین سیاسی بصارت وبصیرت کے ساتھ نور الہی اور قلب سلیم اور پاکیزہ روح وجان کی صفات سے متصف ہوں، وہ نہ صرف وقت کی ضرورتوں پر گرفت رکھتے ہوں؛ بلکہ اس کا ادراک کرنے اور بروقت فیصلہ لے کر امت اسلامیہ کیلئے سد سکندی کا کام انجام دیں،یا د رکھئے ! علامہ اقبال کہہ گئے ہیں۔*
*ملت سے اپنا رابطہ استوار رکھ !*
*وابستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔*

      ✍ *محمد صابرحسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
8120412392
22/04/2018

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن