مروجہ تبلیغی جماعت.... ایک پریشاں خیال کی نظر میں
مروجہ تبلیغی جماعت.... ایک پریشاں خیال کی نظر میں
...........................................
از...... رضوان احمد قاسمی منوروا شریف سمستی پور بہار
...........................................
دعوت وتبلیغ کامروجہ نظام کسی اور کا نہیں. خود ہمارا ہے. یہ حسین سلسلہ کسی اور کا نہیں. خود ہماراخانہ زاد ہے اور اس کی بنیاد کسی اور نے نہیں خود ہم نے رکھی ہے. مگر اس وقت کیا خبر تھی؟ کہ جس پودے کو ہم نے ہی سنوارا تھا وہی تناور ہوکر خود اپنی ہی دبیز فصیلوں سے ٹکرا جائے گا؟ جس کے گیسوؤں کوخود ہم نے کنگھا کیا تھا وہی اپنے زلف دراز میں ہمیں جکڑنے لگے گا؟اورجس کی مدافعت وحمایت میں ہم نے دوسروں کو زیروزبر کیا تھا وہی خود ہم سے نبرد آزما ہوجائے گا؟
جی ہاں اگر یہ خبر ہوتی کہ ہماری کوکھ سے جنم لینے والایہ بچہ ہرگز ہمارا نہیں ہوگا تو کبھی بھی اپنی انرجی ہم نے برباد نہ کی ہوتی. ہم نے اڑان کے لئے بال وپر نہ دئیے ہوتے اور اس کی تائید میں سینہ سپر ہونے کو ہرگز نہیں ٹھانتے. مگر قربان جائیے اپنے بزرگوں کی سادہ لوحی پہ. کہ غضب کی سیاسی بصیرت. علمی فقاہت اور ملی قیادت کی شان رکھتے ہوئے بھی انجام کو نہیں سوچا. اگر سوچا تو بس اتنا کہ اس محنت سے مسجدیں آباد ہونگی اور ناخواندہ مسلمان بھی روزہ نماز سے واقف ہوجائیں گے
چنانچہ مروجہ تبلیغ کی تاریخ شاہد ہے کہ ابتدا میں ہمارے بیشتر علماء اس کام سے متفق نہیں تھے اور مختلف خدشات کا اظہار کررہے تھے وہ تو بھلا ہو مفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی(مدرسہ امینیہ دہلی) کا کہ سب سے پہلے علماء کی طرف سے آپ ہی نے تائید فرمائی ہے پھر کیا تھا بیشتر کی زبانیں گنگ ہوگئیں اور آہستہ آہستہ ہرایک کی حمایت فراہم ہوگئیں.........
مگر مروجہ تبلیغ کی موجودہ حالات کو دیکھ کر کیا کوئی بتا سکتا ہے؟ کہ علماء دیوبند کے سرخیل حضرت مفتی کفایت اللہ علیہ الرحمہ کی روح کس قدر بےچین ہوگی؟ شیخ الحدیث مولانا زکریا کی آتما میں کس قدر اضطراب ہوگا؟ اور خود مولانا الیاس علیہ الرحمہ کس قدر پیچ و تاب میں ہوں گے ؟ اگر ان بزرگوں کو یہ پتہ ہوتا کہ ہماری یہ جماعت اگرچہ مسجدوں کو بھر دےگی لیکن عقائد کے لئے دشمن ثابت ہوگی تو ہرگز اس کی پرورش نہ کرتے. اگر ان اکابر کو یہ معلوم ہوتا کہ ہماری یہ جماعت یہود و نصارٰی سےآگے بڑھ کر اسلامی روح کو تبدیل کردےگی تو کبھی اس کی سرپرستی نہ فرماتے.اوراگر انہیں یہ احساس ہوتا کہ ہماری یہ جماعت پوری ملت اسلامیہ کی زبوں حالی کا سبب بن جائے گی تو کبھی بھی اسے پیار نہ دیتے.......
راقم سطور اگرچہ پریشاں خیالی میں مبتلا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ سب دعوے محض دعوے ہیں بلکہ ہر اہل بصیرت کے لئے غور وفکر کا یہ مقام ہے کہ جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے لیے کبھی قادیانی کا روپ سامنے آیا اور نبی بنکر جہاد ہی کو منسوخ کر ڈالا. پھر جب بات نہیں بنی تو إعلام الأعلام بأن ھندوستان دارالاسلام کو منظرعام پہ لایا گیا تا کہ یقین ہوجائے کہ یہ ملک تو دارالاسلام ہے. یہاں جہاد کیسا؟ جہاد تو دارالحرب میں ہوتا ہے....مگر اب بھی جب نشانہ چوک گیا تو پھر تبلیغی جماعت کو آلہ کار بنالیا گیا کہ منسوخی جہاد کا نسخہ بھی کارگر نہیں اور ھندوستان کودارالاسلام کہنا بھی سب کو ھضم نہیں. لہٰذا جہاد کی تمام آیات وأحاديث کا مفہوم ہی بدل ڈالو یعنی ہرجہادی آیات وأحاديث کو دعوت وتبلیغ میں منحصر کرڈالو... چنانچہ آج یہی ہورہا ہے اور کھلے عام اسلام کی تحریف کی جا رہی ہے.
اسی طرح ہم انسانوں کو اللہ پاک نے جب دنیا میں بھیجا ہے تو کسب معاش بھی ضروری ہے بلکہ معاشیات کی پوزیشن تو ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے اسی لئے دشمنان اسلام کا اولین مطمح نظر ہماری جان لینا ہرگز نہیں. ان کا اصل ٹارگیٹ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی معیشت چھین لی جائے تا کہ یہ لوگ ہمارے محتاج رہیں.....
اب تبلیغی جماعت کا کارنامہ دیکھئے کہ دکان داروں کو دکان سے. کسانوں کو اپنے کھیت وجنگلات سے اور تجاروں کو تجارت گاہوں سے اٹھا کر مسجد لاتی اور کہتی کہ اتنے گھنٹے مسجد کے لئے فارغ کرو. اگر کوئی اس پرتیار نہیں ہوتا تو اسے دین بیزار اور جماعت مخالف کا الزام سہنا پڑتا ہے
ہائے ہائے اگر مساجد کے لئے مثلا چار گھنٹےفارغ ہی کرنے تھے تو پھر پچاس وقت کی نماز کو پانچ وقت میں کیوں تبدیل کیا گیا؟ اچھا چلئے. مساجد کے بعد چلہ چار مہینہ اور سال بھی لگائیے اورپھر ہمیشہ لگاتے رہئیے. چلہ. چارمہینہ اور سال لگانا اپنی جگہ گوکہ درست ہے مگر سختی اور التزام کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ غیر لازم کو لازم ٹھہرانا نہیں ہے؟ جبکہ التزام مالا یلزم کا نام ہی بدعت ہے..... بھلا سوچئے تو سہی کہ آخر کمائے گا کب؟ دوسری قومیں کمانے کے لیے دن رات ایک کررہی ہیں تو ترقی پہ ہیں اور مسلمان......... الامان والحفیظ....... اسی لیے تو مجموعی طور پر ہم پسماندہ ہیں. اگر یہ آواز کوئی اٹھائے تو بس یہ کہہ دیا جاتاہے کہ سب اللہ کردے گا. ٹھیک ہے اللہ ہی کرےگا مگر حرکت تو ہمیں کرنی ہوگی. الغرض گہرائی سے دیکھئے تو اس جماعت نے قومی حیثیت سے ہمیں کاہل اور نکما بنا کر رکھ دیا ہے
علماء سے کاٹ کر رکھنا. علماء کو اپنی جوتیوں کی نوک سے ٹھوکریں مارنا. درس قرآن کو بند کروا کر اپنی کتابیں پڑھوانا. مساجد پہ مکمل قبضہ کرنا اور اب مدارس کی طرف بھی ہاتھوں کو دراز کرنا. پورے دین کو صرف چھ نمبر میں محدود کرنا. ان کے اپنے طریقے سے کام کرنے کو فرض وواجب ماننا. دوسرے تمام طریقوں کو کمتر سمجھنا یہ سب مستزاد ہیں اور ان پہلوؤں سے ہر کوئی بولتا اور ٹوکتا ہی رھتا ہے لہذا ان کے تعلق سے مجھے کچھ نہیں کہنا ہے
اور جب سے یہ جماعت دو حصوں میں منقسم ہوئی ہے تب سے تو معاملہ اور بھی دور جاپڑا ہے اسی لئے سچ تو یہ ہے کہ اب اسے دیوبندی جماعت کہنا بھی دیوبندیت کی توھین ہے. جو فریق دارالعلوم سے ٹکرائے وہ دیوبندی کیسے؟ حالانکہ دارالعلوم دیوبند سےٹکرانے والوں کو یہ گرہ باندھ لینی چاہیے کہ دارالعلوم کے ذرہ ذرہ سے ہمیشہ یہ آواز آرہی ہے کہ
اے وقت مجھکو کھوکھلی دیوار مت سمجھ
صدیوں سے زلزلوں کے مقابل رہا ہوں میں
کبھی سعدیانی گروہ شورائیوں پہ ہاتھ صاف کرتا اور مساجد سےکھدیڑ دیتا ہے. کبھی شورائی طبقہ اپنی بھڑاس نکالتا ہے ......... الغرض یہ جماعت اب اسلام کی تبلیغ نہیں کرتی. بلکہ اپنی اپنی دکان سجانے میں مصروف ہے مگر عوام کو بےوقوف بنارہی ہے اسلام کے نام پر. بس یہی خطرہ سب سے بھیانک خطرہ ہے
...........................................فقط.... رضوان احمد قاسمی
Comments
Post a Comment