تو.... ہمارا ڈر صحیح ثابت ہوگا

*تو.... ہمارا ڈر صحیح ثابت ہوگا*
سنسنی خیز انتباہ:

جمہوریت میں عدلیہ کا رول:
ایک بار پھر ملکی عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس چیلمیشور نے سنسنی خیز انتباہ جاری کیا ہے، جسٹس چیلیمیشور جو کہ سپریم کورٹ میں سینئر جج ہیں، جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدلیہ کے معاملات کو میڈیا میں اجاگر کرنے کی ہمت کی تھی، اور ۳ ججز کے ساتھ سپریم کورٹ کے کام کاج کو لیکر میڈیا سے روبرو ہوئے تھے، گرچہ اس پر جمہوری ٹھیکیداروں کی طرف سے کارروائی نہیں ہوئی تھی لیکن، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چار ججوں کے اس جراتمندانہ اقدام نے جمہوریت کے مقدس جزء کے دیگر پہلوﺅں پر لوگوں کو متوجہ کیا تھا، جس گوشے کو ملک میں ناقابل تبصرہ بنایاگیا تھا اس پر چرچا ہونے لگی، یہ ہندوستان پر ان چاروں ججز کا احسان ہے، جسٹس چیلمیشور ان میں اہمیت کے حامل ہیں اور جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں،
ریٹائرمنٹ سے قبل کل انہوں نے ایک مذاکرے میں حصہ لیا جس میں سوالات کرنے والے معروف سینئیر جرنلسٹ کرن تھاپر تھے، مذاکرے کا عنوان تھا، " جمہوریت میں عدلیہ کا رول " اس مذاکرے میں ایک بار پھر جسٹس چیلمیشور پوری طرح آہنی روپ میں نظر آئے اور صاف طور پر یہ انتباہ دیاکہ، اب چونکہ چند ماہ میں چیف جسٹس ریٹائر ہونے والے ہیں، لہٰذا ان کے بعد چیف جسٹس گوگوئی صاحب کو بنایا جانا چاہیے، اگر وہ چیف جسٹس نہیں بنائے گئے یا ان کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو پریس کانفرنس کے ذریعے ہم نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ  ثابت ہوجائیں گے ۔
جسٹس چیلمیشور نے یہ بھی اعلان کیا کہ: " میں آن د ریکارڈ کہتاہوں کہ مستعفی ہونے کے بعد میں کوئی بھی سرکاری عہدہ نہیں لوں گا "
کسی بھی ملک میں جمہوریت کی بقا اصلاً صاف شفاف عدلیہ سسٹم سے مربوط ہوتی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے یہاں کی عدالتوں میں بھی انصاف زندہ ہے، لیکن چار ججز کی پریس کانفرنس کا جواب دیا جانا چاہیے، سپریم کورٹ پر تبصرے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے، بالکل، لیکن اگر سپریم کورٹ کے آن ریکارڈ ججز ہی کچھ معاملات کو پیش کرنے لگ جائیں تو بہت ضروری ہے کہ ان پر ماہرین و دانشوران غوروخوض کریں،
اسوقت جس ڈرامائی انداز میں معاملات پیش ہورہےہیں، جس طرح فیصلوں کو سیاسی رنگ میں رنگا جارہاہے وہ ملک کے لیے خطرناک ہے، ہزارہا کروڑ کے گھوٹالوں کے مجرم بری ہوجاتے ہیں، تو کہیں، ایک ہی مقدمے میں ججمنٹ کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں، مشرا چھوٹ جاتے ہیں اور یادو گھیر لیے جاتےہیں، کہیں تو انسان انصاف کو ترستے ہیں اور کہیں گھنے جنگلات کے جانور انصاف پاتے ہیں، ایک ہی شہر میں عدالت پر بھگوا پرچم تک لہرا دیا جاتاہے وہیں پر انسانی جانوں کے سفاک قاتل موجود ہیں لیکن ان پر کارروائی نہیں ہوپاتی ہے لیکن ایک جانوروں کا مقدمہ حل ہوجاتا ہے، جانوروں کو انصاف ملنا یہ بھی بہت اچھی بات ہے، لیکن انسانوں کو انصاف نہ ملنا یہ بہت زیادہ شرمناک بات ہے، ۹ ۔ ۹ لڑکیوں سے زنا کا ملزم پروفیسر چند گھنٹوں میں ضمانت پاتاہے تو دوسری طرف شکار کا مجرم ۲ دن میں ضمانت پاتاہے، ایک شخص مزدوروں کو کچل کر بری ہوجاتا ہے لیکن دوسری طرف شکار کر مجرم ہوجاتا ہے، ایک حکومت ایک جماعت کو ہزاروں کروڑ کے گھوٹالے میں اندر کرتی ہے چند سالوں بعد وہ سب کلین چٹ پاکر باہر آتے ہیں، اب سمجھ میں نہیں آتا کہ ماجرا کیا تھا، ہزاروں کروڑ کا گھوٹالہ ہی نہیں ہوا تھا؟ یا حکومت نے سیاسی انتقام لیا تھا؟ یا ایجنسیوں کو استعمال کیا تھا؟ عجیب و غریب ڈرامائی موڑ آتے رہتےہیں جن میں سے تعجب خیز دلتوں کے متعلق ججمنٹ ہے، یقینًا عدلیہ میں موجود ہمارے محترم ججز پیش کیے گئے شواہد و دستاویزات کی روشنی میں ہی فیصلہ کرتے ہیں لیکن آخر ہماری ایجنسیاں سچ ثابت کرنے میں کیسے ناکام ہوجاتی ہیں؟
امت شاہ کے مقدمے میں کیا ہوا؟
ایک ایجنسی تحقیقات کرکے ایک مؤقر جج کو پیش کرتی ہے جج انہیں مجرم مان لیتے ہیں، اور سزا یقینی ہوتی ہے یکایک جسٹس برج گوپال لویا کی ڈرامائی موت ہوجاتی ہے، بعد کی شنوائی میں امت شاہ کو راحت مل جاتی ہے، پھر یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ موت نہیں قتل تھا، لیکن وہی ایجنسیاں چپی سادھے ہوئی ہیں جنہوں نے امت شاہ کو مجرم ثابت کیا تھا ‌، اگر ججز محفوظ نہیں تو پھر عام آدمی اور سچ بولنے اور لکھنے والے غیر سرکاری افراد کو کیسے خطرات لاحق ہوچکے ہوں گے، کیا ہمیں اس کا اندازہ ہے؟؟
اب تک ہونا یہ چاہیے تھا کہ جسٹس لویا کی حمایت میں پوری برادری اتر آتی، لیکن وہ سب تو درکنار رسمی نوٹس کی بھی شاید ضرورت محسوس نہیں کی گئی، ایسی صورتحال کے باوجود ہم عدلیہ کے تئیں مطمئن ہیں کہ انصاف زندہ ہے، لیکن ضروری ہے کہ وہ سوالات جو عدلیہ کے ذریعے ہی عوام میں پیدا ہورہےہیں ان کی وضاحت ہو، یہ ملکی عوام کا حق ہے، اور اگر واقعی کچھ بگاڑ ہے تو سدھار ہو جیسا کہ چاروں ججز نے مطالبہ کیا تھا ۔
اب جبکہ جسٹس چیلمیشور نے پھر سے یہ انتباہ جاری کیا ہے کہ، موجودہ چیف جسٹس کے بعد اس عہدے پر حق جسٹس گوگوئی کا ہے اگر وہ اس عہدے کے لیے نہیں چنے گئے تو اس کا مطلب ہمارے خدشات درست تھے یہ ثابت ہوجائے گا،
سوال تو یہ ہیکہ،.
ملک کی عدالت عظمیٰ کے سینئر جج کو اس طرح کا بیان دینے کی ضرورت اگر پیش آئی تو یہ یونہی بے سبب تو نہیں ہے، لیکن آخر انہیں صدا بصحرا کیوں کردیا جاتاہے؟ کیوں ہم لوگ ان ایشوز پر متوجہ نہیں ہوتے؟
ان ججز نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا ہے، لیکن کیا ہم نے ان کا ساتھ دیا؟ یہ ایک ایسا ایشو ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن کیا، ملی کیا سماجی کیا سیاسی کیا غیر سیاسی طبقہ سب کے سب وقتی فعالیت دکھا کر بیٹھ جاتےہیں، جبکہ اس مسئلے کی حساسیت کا یہ نقد فائدہ مل سکتاہے کہ، اس کو بنیاد بناکر بھگوائی اور سنگھی زہر کے سسٹم میں مداخلت کو سامنے لایا جاسکتا تھا، اور اگر اس کو نظرانداز کیا گیا تو اس کے نقصانات ہمیں کہاں پھینک دینگے اس کا کوئی تصور نہیں، کیونکہ جمہوریت میں یہی تو وہ ستون ہے جس کے سہارے ہم تحریکیں اور سرگرمیاں برپا کرتےہیں، ائے کاش ہم اس لائق ہوجائیں کہ ایشوز اور نان ایشوز پر مین اسٹریم میں زندگی کا ثبوت دے سکیں ۔
اس موضوع پر ہم نے پہلے بھی  بالتفصیل لکھا ہے، اگر پڑھنا چاہیں تو ہمارے فیسبوک اکاؤنٹ پر پڑھ سکتےہیں ۔
*سمیع اللّٰہ خان*
جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

مولانا عبداللہ کاپودروی کی مختصر سوانح