ظلمتِ شب کا شکوہ کب تلک؟

*ظلمتِ شب کا شکوہ کب تلک؟*
____________________

تحریر : *عبدالغفار سلفی، بنارس*

کچھ لوگوں کا سوشل میڈیا پر ایک ہی کام ہے علماء کے خلاف امت کو ورغلانا، مدارس کے خلاف زہر اگلنا، دینی اجتماعات کو تنقید کا نشانہ بنانا .  ایسے لوگوں کے نزدیک سارے علماء حرام کی روٹی توڑ رہے ہیں، ہزاروں لاکھوں مدارس بیکار میں امت کا سرمایہ برباد کر رہے ہیں، جلسوں اور کانفرنسوں سے ذرہ برابر کوئی فائدہ نہیں.  مگر انتہائی تعجب کی بات ہے کہ علماء کو شب و روز کوسنے والے یہ روشن خیال مفکرین خود بھی کسی نہ کسی مدرسے کے پروڈکٹ ہیں، انہوں نے لکھنا اور بولنا انہیں فرسودہ مدارس کے پھٹے حال اساتذہ سے سیکھا ہے.  مجھے نہیں پتہ کہ احسان فراموشی اور طوطا چشمی کی اس سے بھی گھٹیا کوئی قسم ہو سکتی ہے.  کہتے ہیں کہ انسان جس تھالی میں کھائے کم از کم اس میں چھید نہ کرے.  مدارس نے امت کو کیا دیا ہے اگر ہم اس کا حساب لگانے بیٹھ جائیں تو دفتر کے دفتر کم پڑ جائیں گے.  مدارس کے تعلق سے اتنا منفی تاثر تو اسکول و کالج سے پڑھے ہوئے ماڈرن خیال لوگوں کا بھی نہیں ہوتا جتنا مدارس کی آغوش میں پل بڑھ کر کسی لائق ہونے کے بعد ان احسان فراموشوں کا ہوتا ہے.

یقیناً علماء میں خامیاں ہیں، ان کا بگاڑ امت کے زوال کے تابوت کی آخری کیل ہے مگر احتساب اس قدر ایک طرفہ اور یک رخی کیوں؟ علماء کی ذات سے اس گئے گزرے دور میں بھی جو خیر حاصل ہو رہا ہے وہ اس شر سے کہیں زیادہ ہے جس کی گند آج لوگ بیٹھ کر سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں.

جہاں تک جلسوں اور کانفرنسوں کی بات ہے میں نے بارہا لکھا ہے کہ اس میدان میں کافی اصلاح کی ضرورت ہے، جلسے اب اصلاح کے بجائے تفریح اور انٹر ٹینمینٹ کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں، اس میں بازارو قسم کے مقررین کا بھی دخل ہے اور لوگوں کے بگڑتے ہوئے ذوق کا بھی.  مگر کیا اس کا حل یہ ہے کہ ہم یکسر جلسوں کی افادیت کا انکار کر دیں؟ ہم سارے مقررین کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنانے لگیں؟ جلسے آج بھی امت کی تربیت اور ذہن سازی کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہیں بس ضرورت ہے انہیں سنوارنے اور سہیجنے کی.  آج حالات یہ ہیں کہ مساجد میں جمعہ کے خطبہ کے لیے ڈھنگ کے خطبا میسر نہیں ہیں، خطبہ جمعہ کی اپنی ایک عظیم دعوتی خصوصیت ہے، اسے ڈھنگ سے ترتیب دیا جائے تو یہ عوام کے لئے ہفتے کی روحانی غذا (supplement)  ہے، بسا اوقات آدھے گھنٹے کے یہ خطبے وہ کام کر جاتے ہیں جو بڑے بڑے جلسوں سے ممکن نہیں.  ہماری دقت یہ ہے کہ ہم کسی میدان کی خامیاں تو گنانے بیٹھ جاتے ہیں مگر ان خامیوں کو دور کر کے اس میدان کو مفید سے مفید تر کیسے بنایا جائے اس کے لیے ہمارے پاس کوئی پلان نہیں ہوتا. 

یاد رکھیں امت کی نشات ثانیہ کے لیے ہمیں ہر میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے.  امت کو اچھے اسکالرز بھی چاہئیں، اچھے مصنفین بھی چاہئیں، بہترین خطبا بھی چاہئیں، عمدہ صحافی بھی چاہئیں.  سیاست سے لے کر مسجد کی امامت تک امت کو ہر شعبے میں متخصصين کی ضرورت ہے.  دعوت و تبلیغ کے نام پر ہمارے مدارس میں خانہ پری ہو رہی ہے.  دعوت کیا ہے؟ اس میدان کے تقاضے کیا ہیں؟ اس فیلڈ کے چیلنجز کیا ہیں؟ یہ ساری باتیں ہمارے مدارس میں دس سال گزارنے والا ایک فارغ عالم دین جانتا ہی نہیں ہے، دعوت کے اصول پر چند مذکرات پڑھا دینے سے ہم ہندوستان کے وسیع و عریض دعوتی میدان کے لیے مطلوب افراد تیار نہیں کر سکتے.  ہمیں دعوت و اصلاح کے شعبے میں بھی متخصصین کی ضرورت ہے.

الغرض ہمیں چاہیے کہ ہم امت کی ترقی کی راہ میں جو گڈھے ہیں انہیں پاٹنے کی کوشش کریں نہ کہ خود بریکر بنیں.  ہم دیکھیں پانی کہاں مر رہا ہے اور ہم اس گرتی ہوئی عمارت کو بچانے میں کیا رول پلے کر سکتے ہیں.  شکوہ شکایات سے، تنقید برائے تنقید سے، طنز و تشنیع سے ہم صرف اور صرف اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کر رہے ہیں. ٹھیک ہے اندھیرا بہت ہے، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہے سوال یہ ہے کہ ہم نے اس اندھیرے کو مٹانے کے لیے کیا کیا؟ ہم نے کوئی چھوٹا سا دیا ہی سہی جلایا؟ کوئی شمع ہی سہی روشن کی؟ بقول شاعر :

شکوۂ ظلمتِ شب سے، تو کہیں‌ بہتر تھا
اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن